پیشاب یا بھاری کام کرتے ہوئے منی کا نکلنا

پیشاب یا بھاری کام کرتے ہوئے منی کا نکلنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ استنجاء کرتے وقت یا بھاری کام کرتے وقت اچانک منی نکل جائے تو کیا غسل فرض ہو گا ؟ یا دھو لینا کافی ہے؟

User ID:علی عباس

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ پیشاب کرتے وقت یا بھاری کا م کرتے ہوئے بغیر شہوت منی نکل جائے تو غسل فرض نہیں ہو گا البتہ کپڑے نجس ہو جائیں گے کہ منی نجاست غلیظہ ہے اور وضو ٹوٹ جائے گا لہذا کپڑے پاک کر کے انہی کپڑوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :اگر مَنی پتلی پڑ گئی کہ پیشاب کے وقت یا ویسے ہی کچھ قطرے بلاشَہوت نکل آئیں تو غُسل واجب نہیں البتہ وُضو ٹوٹ جائے گا۔

( بہار شریعت ،جلد1،حصہ2،صفحہ324،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

منی نجاست غلیظہ ہے اور نجاست غلیظہ کا حکم بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں: اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے ،تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔

(بہارشریعت،جلد1حصہ2،صفحہ392،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

26رجب المرجب 1445ھ/ 7فروری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں