عورت کے بچے ہوئے پانی سے مرد کا غسل کرنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سنا ہے کہ مرد کا عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنا جائز نہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟
User ID:محمد اویس صدیقی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ مرد کا عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنا مکروہ تنزیہی ہے البتہ اگر پانی مستعمل نہ ہو تو غسل یا وضو ہو جائے گا۔ ترمذی شریف میں ہے :ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتوضا الرجل بفضل طهور المراة ترجمہ: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے۔
(سنن ترمذی،كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ،الحدیث64)
فتاوی رضویہ میں ہے:” اقول والاقرب الی الصواب ان لانسخ ولا تحریم بل النھی للتنزیہ والفعل لبیان الجواز وھو الذی مشی علیہ القاری فی المرقاۃ نقلا عن السید جمال الدین الحنفی وبہ اجاب الشخ عبدالحق الدھلوی فی لمعات التنقیح ان النھی تنزیہ لاتحریم فلا منافاۃ یعنی: میں کہتا ہوں زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ نہ تو نسخ ہے اور نہ ہی تحریم ہے بلکہ نہی محض تنزیہی ہے اور فعل بیان جواز کے لئے ہے ملا علی قاری نے بھی مرقاۃ میں سید جمال الدین حنفی سے یہی نقل کیا ہے اور لمعات التنقیح میں محدث عبدالحق دہلوی نے بھی یہی جواب دیا ہے کہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں تو کوئی منافاۃ نہیں۔
(فتاوی رضویہ، جلد2،صفحہ 469،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
19جمادی الاخریٰ 1444ھ/ 2دسمبر 2023 ء