نماز فجر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ نماز فجر کے بعد تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ تلاوت کرنا کیسا ہے؟
User ID:جمالی قادری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے سجدہ تلاوت کرنا بلا کراہت جائز ہے طلوع آفتاب کے بعد مکروہ وقت میں بھی اگر آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ تلاوت جائز ہے لیکن افضل ہے کہ غیر مکروہ وقت میں سجدہ کیا جائے۔ تنویر الابصار و درمختار میں ہے: وکرہ نفل بعد صلاۃ فجر وصلاۃ عصر لا یکرہ قضاء فائتۃ وسجدۃ تلاوۃ ملخصا ترجمہ : نفل نماز فجر اور نماز عصر کے بعد مکروہ ہےاور فوت شدہ نمازوں کی قضا کرنا اور سجدہ تلاوت کرنا مکروہ نہیں، نماز فجر اور نماز عصر کے بعد۔ (تنویر الابصار ودر مختار مع رد المحتار ،ج 02،ص 44تا45، مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃا لرحمن سے سوال ہواکہ نماز عصر اور فجر کے بعد سجدہ کرنا ، جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: جائز ہے مگر جب عصر میں وقت کراہت آجائے تو قضا بھی جائز نہیں اور سجدہ مکروہ اگر چہ سہو یا تلاوت کا ہو اورسجدہ شکر تو بعد نماز فجر وعصر مطلقاََ مکروہ ۔
(فتاوی رضویہ،ج05،ص330،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
4شعبان المعظم 1445ھ/ 15فروری 2024 ء