مستحق بہن بھائی کو منت کے پیسے دینے کا حکم

مستحق بہن بھائی کو منت کے پیسے دینے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میں نے منت مانی تھی کہ میری نوکری لگی تو پہلی تنخواہ کا پانچواں حصہ اللہ کی راہ میں دوں گا اب نوکری لگی ہے تو کیا میں یہ منت کے پیسے اپنی بہن کو دے سکتا ہوں ؟

User ID:یاسر رشید

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر آپکی بہن شرعی فقیر ہیں مستحق زکاۃ ہیں تو آپ انہیں یہ منت کے پیسے دے سکتے ہیں بلکہ مستحق زکاۃ بہن بھائی کو زکاۃ یا صدقہ واجبہ دینا افضل ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:زکاۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اوّلاً اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر اُن کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر اُن کی اولاد کو پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤں کے رہنے والوں کو۔

(بہار شریعت ،جلد1، حصہ5، صفحہ939، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

1 شعبان المعظم 1445ھ/ 12فروری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں