سوال:پیسے لے کر نعت خوانی کرنا کیسا؟ اور ایسی اجرت کا کیا حکم ہے؟
یوزر آئی ڈی:پارٹی سپنٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پیسے لے کر نعت خوانی کرنا ناجائز و حرام ہے اور اس پر ملنے والی اجرت بھی حرام ہے ۔ فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و قراء ۃ الشعر ولااجرفی ذلک وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمہم اﷲ تعالٰی کذا فی غایۃ البیان مختصراً۔گانا اور اشعار پڑھنا (ایسے اعمال ہیں) ان میں سے کسی پرمزدوری اور اجرت لیناجائزنہیں اور نہ ان میں اجرت ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالٰی تینوں کایہ قول اور فتوٰی ہے، چنانچہ غایۃ البیان میں یونہی مذکورہے۔ مختصراً۔
( فتاوٰی ہندیۃ، کتاب الاجارۃ، جلد4،صفحہ 449،نورانی کتب خانہ،پشاور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کاذکرپاک خود عمدہ طاعات واجل عبادات سے ہے اور طاعت وعبادت پرفیس لینی حرام، مبسوط پھر خلاصہ پھر عالمگیری میں ہے: لایجوز الاستیجار علی الطاعات کالتذکیر ولایجب الاجر ملخصاً۔ یعنی نیک کاموں میں اجرت لیناجائزنہیں، جیسے وعظ کرنا اوراجرت واجب نہیں ہوگی۔
(فتاوی رضویہ،جلد23،صفحہ725،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
6محرم الحرام1444ھ/25جولائی 2023 ء