سوال:مولی علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ گھوڑے پر سوا ہوتے ہوتے مکمل قرآن پاک کی تلاوت فرما لیتے تھے یہ کیسے ممکن ہے جب کہ قرآن پاک کو آہستہ آہستہ پڑھنے کا حکم ہے ؟
یوزر آئی ڈی:ناصر علی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عادتا اتنے وقت میں مکمل قرآن پاک کی تلاوت ممکن نہیں لیکن سیدنا مولی علی مشکل کشا رضی اللہ عنہ کی یہ کرامت تھی اور کرامت کہتے ہی اس کام کو ہیں جو خلاف عادت کسی ولی سے ظاہر ہو لہذا یہ بعید نہیں کہ اتنے سے وقت میں مولی علی رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی ترتیل کے ساتھ تلاوت کر لیں ۔ شواہد النبوۃ میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جب سُواری کرتے وقت گھوڑے کی رِکاب میں پاؤں رکھتے توتلاوتِ قراٰن شروع کرتے اور دوسری رِکاب میں پاؤں رکھنے سے پہلے پورا قراٰنِ مجیدختم فرمالیتے۔
(شواہدُ النّبوۃ صفحہ212)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہر ہو، اُس کو اِرہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو، اس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادر ہو، اُسے معونت کہتے ہیں اور بیباک فجّار یا کفّار سے جو اُن کے موافق ظاہر ہو، اُس کو اِستِدراج کہتے ہیں اور اُن کے خلاف ظاہر ہو تو اِہانت ہے۔
(بہارشریعت،جلد1،حصہ1،صفحہ60،مکتبۃالمدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
25محرم الحرام1445ھ/10 اگست 2023 ء