قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کرنے کا حکم

سوال:قبر پر پانی چھڑکنا کیسا ہے؟

یوزر آئی ڈی:عزیر ظہیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قبر کے اوپر،پانی چھڑکنا اگر صحیح غرض کے لیے ہو جیسے مٹی بکھرنے کا خدشہ وغیرہ ہو تو جائز ہے اور اگر رسمی طور پر پانی کا چھڑکاؤ کیا تو یہ جائز نہیں کہ اس میں پانی اور بلا وجہ ضائع کرنا ہے جو کہ اسراف ہے اور اسراف جائز نہیں ۔فتاوی رضویہ میں ہے: بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور نئی ڈال دی گئی یا منتشر ہو جانے کا احتمال ہو تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشانی باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے به علل فى الدر غيره أن لا يذهب الأثر فيمتهن یعنی در مختار وغیرہ میں علت بیان فرمائی ہے کہ نشان مٹ جانے کے سبب بے حرمتی نہ ہو اس کے لئے کوئی دن معین نہیں ہو سکتا ہے جب حاجت ہو اور بے حاجت پانی کا ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں اور عاشورہ کی تخصیص محض بے اصل و بے معنی ہے۔

( فتاوی رضویہ ،جلد9،صفحہ 372،رضا فاؤنڈیشن لاھور )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

26محرم الحرام1445ھ/11 اگست 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں