سوال:فرض نماز میں سنتوں کے ساتھ نوافل پڑھنے کی کیا دلیل ہے؟
یوزر آئی ڈی:رضوان علی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فرض نمازوں میں سنتوں کے ساتھ نوافل پڑھنے کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔ ظہر کے نوافل کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے ظہر سے پہلے چاررکعت اورظہر کے بعد چار رکعت پر مواظبت اختیارکی،اللہ تعالی اس پرآگ کو حرام فرما دے گا۔
(جامع ترمذی، جلد1،صفحہ208،مطبوعہ لاھور)
مغرب کے نوافل کے متعلق حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرفوعا روایت ہے،فرماتے ہیں:جس نے مغرب کے بعد چاررکعتیں ادا کیں ،وہ ایسے ہے جیسے ایک غزوے کے بعد دوسرے غزوے میں شرکت کرنے والا۔
(مصنف عبدالرزاق جلد3،صفحہ 45،مطبوعہ بیروت)
عشاء کے بعد نوافل پڑھنے کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی عشاء کی نماز پڑھ کرتشریف لاتے ،تو چار یا چھ رکعت ادا فرماتے۔ (سنن ابی داؤد، جلد1،صفحہ193،مطبوعہ لاھور)
وتروں کے بعد نوافل پڑھنے کے متعلق ام المؤمنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وترپڑھنے کے بعد دو رکعت نمازادا فرماتے تھے۔
(ترمذی شریف، جلد1،صفحہ218،مطبوعہ لاھور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
25محرم الحرام1445ھ/10 اگست 2023 ء