سوال:فرض غسل میں ناک میں پانی ڈلا پانی نرم ہڈی تک پہنچایا لیکن ناک میں جو رینٹھ جمی ہوئی تھی اسے نہ چھڑایا تو کیا غسل ہو جائے گا؟
یوزر آئی ڈی:رفیع الدین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں غس نہیں ہو گاکیونکہ ناک میں جمی رینٹھ کا چھڑانا فرض ہے اگر بغیر چھڑائے ہی ناک میں پانی ڈالا تو فرض ادا نہ ہوا۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ غسل کے فرائض بیان کرتے ہوے لکھتے ہیں:ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں کا جہاں تک نَرْم جگہ ہے دھلنا کہ پانی کو سُونگھ کر اوپر چڑھائے، بال برابر جگہ بھی دھلنے سے رہ نہ جائے ورنہ غُسل نہ ہو گا۔ ناک کے اندر رِینٹھ سُوکھ گئی ہے تو اس کا چُھڑانا فرض ہے۔نیز ناک کے بالوں کا دھونا بھی فرض ہے۔
(بہارشریعت،جلد1،حصہ2،صفحہ319،مکتبۃالمدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
6محرم الحرام1444ھ/25جولائی 2023 ء