سوال:ظہر و عصر میں بلند قراءت نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟
یوزر آئی ڈی:پارٹی سپنٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شروع اسلام میں جب مسلمان کم تھے حضور ﷺ نماز میں بلند آواز سے قراءت کرتےتو غیر مسلم تلاوت کی آواز سن کر آجاتے اور شور و غل کرتے ،تالیاں بجاتے مسلمانوں کو تکلیف پہنچاتے اور ان کو نماز نہیں پڑھنے دیتے تھے چوں کہ ظہر اور عصر میں کفّار و مشرکین آوارہ گھومتے تھے،قرآن سن کرمسلمانوں کو تکلیف دیتے تھے،اس لیے ان دونوں نمازوں میں آہستہ قرآن پڑھنے کا حکم ہوا، اس کے برخلاف مغرب کے وقت کھانے پینے میں مشغول رہتے، عشا میں سو جاتے اور فجر کے وقت جاگتے نہ تھے سوئے رہتے، اس لیے ان تینوں وقتوں میں بلند آواز سے قرآن پڑھنے کا حکم ہوا اور پھر یہی حکم قیامت تک باقی رہا ۔ فرمان باری تعالی ہے:وَلَا تَجھَر بِصَلوٰتِکَ وَلَا تُخَافِت بِھَا وَابتَغِ بَینَ ذٰلِکَ سَبِیلاً ترجمہ:اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ، اور ان دونوں کے درمیان راستہ چاہو۔
(اسراء/بنی اسرائیل:17، آیت:110 )
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ مکۂ مکرمہ میں جلوہ فرما تھے ۔ آپ جس وقت اپنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کونماز پڑھایا کرتے تو اپنی آواز مبارک قرآن کریم پڑھنے میں بلند فرمایا کرتے تھے ،جب کافر سن لیتے تو قرآن کریم اور اس کے اتارنے والے اور لانے والے کی شان میں گستاخانہ کلمات بکتے تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺسے فرمایا ’’وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ‘‘ یعنی نماز کی قراء ت کو اونچا نہ کرو کہ کافر سن لیں گے تو بیہودہ کلمات بکیں گے۔ ’’وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا‘‘ یعنی اَصحاب سے یوں آہستہ نہ پڑھو کہ وہ سن نہ سکیں ’’وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا‘‘ اور ان دونوں کے بیچ میں راستہ چاہو۔
( بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ بنی اسرائیل، باب ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بہا، ۳ / ۲۶۳، الحدیث: ۴۷۲۲)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
6محرم الحرام1444ھ/25جولائی 2023 ء