ذبح میں دو رگیں کٹیں تو جانور کا حکم

سوال:رات کو جانور بیمار ہوا ذبح کرتے ہوے جلدی میں صرف دو رگیں کاٹی گئیں دو رگیں نہیں کٹیں تو جانور حلال ہو گا یا حرام؟

یوزر آئی ڈی:باروی صاحب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں جانور حرام ہو جائے گا کیونکہ ذبح شرعی کے لیے جانور کی گردن میں موجود مکمل چار رگوں یا ان میں سے اکثر کا کٹ جانا ضروری ہے، اگر نصف یا اس سے کم رگیں کٹیں، تو جانور حلال نہیں ہو گا، چار رگوں کے نام یہ ہیں، (1) حلقوم،یعنی سانس والی نالی،(2) مری، جس سے کھانا پانی اترتا ہے، (3،4) ودجین، خون والی دو رگیں۔ عالمگیری میں ہے:’’والعروق التی تقطع فی الذکاۃ أربعۃ:الحلقوم، وھو مجری النفس، والمری، وھو مجری الطعام، والودجان وھما عرقان فی جانبی الرقبۃ یجری فیھما الدم، فإن قطع کل الأربعۃ حلت الذبیحۃ، وإن قطع أکثرھا فکذٰلک عند أبی حنفیۃ رحمہ اللہ تعالی۔۔۔ والصحیح قول أبی حنفیۃ رحمہ اللہ تعالی لما أن للأکثر حکم الکل، کذا فی المضمرات، و فی الجامع الصغیر إذا قطع نصف الحلقوم و نصف الأوداج ونصف المرئ لا یحل لأن الحل متعلق بقطع الکل أو الأکثر و لیس للنصف حکم الکل فی موضع الإحتیاط کذا فی الکافی‘‘ وہ رگیں جو ذبح شرعی میں کاٹی جاتی ہیں، چار ہیں۔حلقوم:جو سانس کی گزرگاہ ہے، مری :جو کھانے کی گزر گاہ ہے، اور ودجان: یعنی گردن کے دونوں جانب دو رگیں جن میں خون جاری ہوتا ہے۔ اگر یہ چاروں کٹ جائیں ،تو ذبیحہ حلال ہےاور اکثر کٹ جائیں، تب بھی امام اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک یہی حکم ہے، اور یہی درست ہے کیونکہ اکثر کا حکم کل جیسا ہوتا ہے، مضمرات میں اسی طرح ہے اور جامع الصغیر میں ہے کہ جب سانس کی نالی ، خون کی دونوں رگیں اور کھانے کی نالی نصف کاٹ دی گئی ،تو جانور حلال نہیں ہو گا، اس لیے کہ حِلکا تعلق کل یا اکثر کے کٹنے سے ہے اوراحتیاط والی جگہ پر نصف کےلیے کل والا حکم نہیں ہے،کافی میں اسی طرح ہے۔

(عالمگیری، کتاب الذبائح، الباب الاول فی تفسیرھا، جلد 5، صفحہ 354،مطبوعہ کراچی )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

25محرم الحرام1445ھ/10 اگست 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں