سوال:جمعہ کی دوسری اذان جو امام کے سامنے کھڑے ہو کر دی جاتی ہے وہ مسجد کے اندر ہونی چاہیے یا باہر؟اور اگر باہر ہونی چاہیے تو کیوں؟
یوزر آئی ڈی:علی اصغر
چاہے جمعہ کی پہلی اذان ہو یا دوسری ایسے ہی پانچ وقتی نمازوں کے لیے دی جانے والی اذان کا عین مسجد میں ہونا مکروہ و خلاف سنت ہے لہذا جمعہ کی اذان ثانی بھی مسجد سے باہر خطیب کے سامنے کھڑے ہو کر دینے کا حکم ہے۔عین مسجدمیں اذان دینا مکروہ و خلاف سنت ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ”مسجدکے اندراذان کاہوناائمہ نے منع فرمایااورمکروہ لکھاہے اورخلاف سنت ہے،یہ نہ زمانہ اقدس میں تھا،نہ زمانہ خلفاء راشدین نہ کسی صحابی کی خلافت میں۔بہر حال جبکہ زمانہ رسالت وخلافتہائے راشدہ میں نہ تھی اورہمارے ائمہ کی تصریح ہے کہ مسجدمیں اذان نہ ہو ، مسجد میں اذان مکروہ ہے ، توہمیں سنت اختیارکرناچاہیے بدعت سے بچناچاہیے۔ “
(فتاوی رضویہ، جلد5، صفحہ405، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن ، لاھور)
بہار شریعت میں ہے: ”اذان مئذنہ(مینارا) پر کہی جائے یاخارجِ مسجد اور مسجدمیں اذان نہ کہے۔مسجدمیں اذان کہنامکروہ ہے۔یہ حکم ہراذان کے لئے ہے،فقہ کی کسی کتاب میں کوئی اذان اس سے مستثنیٰ نہیں،اذانِ ثانی جمعہ بھی اس میں داخل ہے۔“
(بہار شریعت،ج1، ص469 ،مطبوعہ مکتبة المدینہ ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
26محرم الحرام1445ھ/14 اگست 2023 ء