سوال:انگلیاں چٹخانے کا کیا حکم ہے؟
یوزر آئی ڈی:محمد وقاص امجد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دوران نماز اور انتظار نماز میں اور نماز کے لیے جاتے ہوے بلا حاجت انگلیاں چٹخانا مکروہ تحریمی و گناہ ہے جبکہ نماز اور توابع نماز کے علاوہ بلا حاجت انگلیاں چٹخانا مکروہ تنزیہی ہے اور اگر کوئی حاجت ہو تو کوئی کراہت نہیں ۔ ابن ماجہ میں ہے: عن علی رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تفقع اصابعک و انت فی الصلاۃ ترجمہ: مولی علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز میں انگلیاں مت چٹخاؤ۔
(ابن ماجہ،حدیث965)
درمختار ،مکروہات نمازکے باب میں ہے :’’(وفرقعۃ الاصابع )وتشبیکھا ولو منتظر الصلاۃاو ماشیا الیھا للنھی ولا یکرہ خارجھا لحاجۃ ‘‘ یعنی (نماز میں )انگلیوں کو چٹخانا اور تشبیک کرنا مکروہ ہے اگرچہ نماز کا انتظار کرتے ہوئے یا نماز کی طرف آتے ہوئے ایساکرے ، اور اس کے علاوہ حاجت کے سبب ہو تو مکروہ نہیں ۔اس کے تحت رد المحتار میں ہے :’’وینبغی ان تکون تحریمیۃ للنھی المذکور۔۔۔فلو لدون حاجۃ بل علی سبیل العبث کرہ تنزیھا ‘‘ یعنی چاہیے کہ کراہت سے کراہت ِ تحریمی مراد ہو مذکورہ ممانعت کی وجہ سے ۔ اور(اگر خارج ِ نماز میں ) بغیر حاجت کے (انگلیاں چٹخائے) تو یہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
(رد المحتار علی درمختار ،جلد:2،صفحہ :494،مطبوعہ بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
27محرم الحرام1445ھ/12 اگست 2023 ء