مریض کے ٹھیک ہونےکے لیے آٹھ روزوں کی منت مانی تو روزے ایک ساتھ رکھنے ہوں گے یا الگ الگ بھی رکھ سکتے ۔

مریض کے ٹھیک ہونےکے لیے آٹھ روزوں کی منت مانی تو روزے ایک ساتھ رکھنے ہوں گے یا الگ الگ بھی رکھ سکتے ۔

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر کی صحت کے لیے منت مانی کہ اگر بکر صحت یاب ہو جائے گا تو زید آٹھ نفلی روزے رکھے گا۔ اب بکر کی صحتیابی کے بعد زید کو آٹھ روزے لگاتار رکھنے ہیں یا جیسے مرضی رکھ لے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

سوال میں بیان کی گئی صورت میں اگر زید نے لگاتار آٹھ روزے رکھنے کی نیت کی ہو تو اب لگاتار ہی رکھنا لازم ہے وقفے سے نہیں رکھ سکتا اور اگر اس دوران ایک دن بھی روزہ نہ رکھا تو نئے سرے سے آٹھ روزے رکھنا ہوں گے۔ اگر زید نے وقفے وقفے سے روزے رکھنے کی نیت کی تھی یا کوئی نیت نہیں کی تھی تو وقفے وقفے سے بھی رکھ سکتا ہے اور لگاتاربھی رکھ سکتا ہے۔

ہندیہ میں ہے :

”ولو قال: لله علي أن أصوم يومين أو ثلاثة أو عشرة لزمه ذلك، ويعين وقتاً يؤدي فيه، فإن شاء فرق، وإن شاء تابع إلا أن ينوي التتابع عند النذر فحينئذ يلزمه متتابعاً، فإن نوى فيه التتابع، وأفطر يوماً فيه أو حاضت المرأة في مدة الصوم استأنف واستأنفت، كذا في السراج الوهاج“

ترجمہ: اور اگر اس نے کہا مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں دو یا تین یا دس دنوں کا روزہ رکھوں تو اس پر روزے لازم ہو جائیں گے اور وہ وقت کو معین کرے گا جس میں وہ روزے رکھے پس اگر وہ چاہے تو جدا جدا رکھے اور اگر چاہے تو پے در پے(لگاتار) رکھے مگر یہ کہ وہ پے در پے رکھنے کی نیت کرے نذر کے وقت تو اس وقت اس پر پے در پے روزے رکھنا لازم ہو جائیں گے پس اگر اس نے پے در پے رکھنے کی نیت کی اور ان دنوں میں سے کسی دن روزہ نہ رکھا یا روزے کی مدت میں عورت کو حیض آ گیا تو شروع سے روزے رکھیں گے ایسا ہی سراج الوھاج میں ہے۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الصوم،الباب السادس فی النذر،جلد1،صفحہ209،دارالفکر،بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

وفی البحر لو اوجب علی نفسہ صوما متتابعا فصامہ متفرقا لم یجز وعلی عکسہ جاز

ترجمہ: اور بحر میں ہے جب اس نے خود پر روزہ واجب کیا ہے در پے تو اس کا جدا جدا روزے رکھنا جائز نہیں اور اسکا الٹ جائز ہے۔(ردالمحتار علی الدر المختار ،کتاب الصوم، فصل فی العوارض المبیحۃ للصوم،مطلب فی صوم الست من الشوال،جلد2،صفحہ436،دارالفکر،بیروت)

بحر الرائق میں ہے:

”وستۃ لا یجب فیھا التتابع وھی قضاء رمضان۔۔۔۔وصوم کفارۃ الحلق وصوم جزاء الصید وصوم النذر المطلق“

ترجمہ: اور چھ (روزے) وہ ہیں جن میں ہے در پے رکھنا شرط نہیں اور وہ رمضان کا قضا روزہ اور حلق کے کفارے کا روزہ اور شکار کی جزاء کا روزہ اور مطلق نذر کا روزہ ہے۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،کتاب الصوم، اقسام الصوم،جلد2،صفحہ278،دارلکتب الاسلامی)

بہار شریعت میں ہے:

”پے در پے روزے کی منت مانی تو ناغہ کرنا جائز نہیں اور متفرق پر مثلاً دس ۱۰ روزے کی منت مانی تو لگاتار رکھنا جائز ہے۔“(بہار شریعت ،جلد1،حصہ5،صفحہ1023،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ:

انتظار حسین مدنی کشمیری

مؤرخہ: 31 جنوری 2023 بروز منگل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں