نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں
سوال:مفتی صاحب ، اگر نماز جنازہ میں 5 تکبیریں کہہ دیں ،تو نماز جنازہ کا کیا حکم ہوگا؟
(سائل :مدثر عباس)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
نماز جنازہ میں چار تکبیریں فرض ہیں ،چار تکبیریں کہنے سے فرض ادا ہو جائے گا ، لہذا چار ہی کہنی چاہیں ،البتہ اگر کسی نے نے پانچ کہہ دیں تو نماز جنازہ ادا ہو جائے گی نیز اگر پانچویں کہنے والا امام ہو تو مقتدی امام کی پیروی نہ کریں بلکہ امام کے سلام پھیرنے کا انتظار کریں اور امام کے ساتھ سلام پھیریں۔
کنزالدقائق مع البحر الرائق میں ہے :(فلو كبر الإمام خمسا لم يتبع) ؛ لأنه منسوخ، ولا متابعة فيه، ولم يبين ماذا يصنع وعن أبي حنيفة روايتان في رواية يسلم للحال، ولا ينتظر تحقيقا للمخالفة، وفي رواية يمكث حتى يسلم معه إذا سلم ليكون متابعا فيما تجب فيه المتابعة وبه يفتى كذا في الواقعات ورجحه في فتح القدير بأن البقاء في حرمة الصلاة بعد فراغها ليس بخطأ مطلقا إنما الخطأ في المتابعة في الخامسة. [البحر الرائق شرح كنز الدقائق ، كتاب الجنائز، ١٩٨/٢]
بہار شریعت میں ہے : امام نے پانچ تکبیریں کہیں تو پانچویں تکبیر میں مقتدی امام کی متابعت نہ کرے بلکہ چُپ کھڑا رہے جب امام سلام پھیرے تو اُس کے ساتھ سلام پھیر دے۔ (بہار شریعت ، جلد 1 ، حصہ 4 ، مکتبۃالمدینہ ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
21 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 28 جون 2024ھ