ویلنٹائن ڈے

ویلنٹائن ڈے

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ 14فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام پہ تحفہ لینا دینا کیسا اور اس دن کا پسِ منظر و شرعی حیثیت کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ویلنٹائن ڈے خرافات کا مجموعہ ہے جس کو منانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ ویلنٹائن ڈے ایک غیر مسلم پادری کا نام تھا، تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے درمیان عشق ہوگیا، یہاں تک کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب (یعنی نصرانیت) قبول کرلیا۔ اب لڑکی ہر روز ایک سرخ گلاب لیکر پادری سے ملنے آتی تھی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم جاری کر دیا، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دے دیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا: “مخلص ویلنٹائن کی طرف سے” بالآخر 14فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی، اس کے بعد سے ہر 14فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے نامی غیر مسلم کی یاد میں منایا جانے والا دن ہے۔

اسلام نے لہو و لعب کاموں میں پڑھنے سے منع کیا ہے اور ویلنٹائن دے میں تو لہو و لعب کے ساتھ دیگر ناجائز امور بھی ہیں جس میں عشق و معشوقی کے نام پر اجنبی مردو عورت کا تعلق ہونا،دیکھنا ،چھونا اور دیگر ناجائز امور کا ارتکاب کرنا۔

نیزناجائز محبت میں گرفتار آپس میں ایک دوسرے کو جو تحفہ دیتے ہیں یہ رشوت ہے، اس تحفے کا لوٹا واجب ہے کیونکہ اس پر ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًااُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ“

ترجمۂ کنز الایمان اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ الله کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اُسے ہنسی بنالیں اُن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

تفسیرِ صراط الجنان میں اسی آیت کے تحت ہے:

“لَهْوَ الْحَدِیْثِ‘‘ کی وضاحت:لَہْو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے۔ اس میں بے مقصدو بے اصل اور جھوٹے قصے،کہانیاں اورافسانے ،جادو،ناجائز لطیفے اور گانا بجانا وغیرہ سب داخل ہے۔اِس قسم کے آلات ِ لَہْو و لَعِب کوبیچنا بھی منع ہے اور خریدنا بھی ناجائز ، کیونکہ یہ آیت ان خریداروں کی برائی بیان کرنے کے بارے میں ہی اتری ہے۔ اسی طرح ناجائز ناول، گندے رسالے ، سینما کے ٹکٹ، تماشے وغیرہ کے اسباب سب کی خرید و فروخت منع ہے کہ یہ تمام’’لَهْوَ الْحَدِیْثِ‘‘یا ان کے ذرائع ہیں۔“(تفسیرِ صراط الجنان سورہ لقمن کی آیت نمبر6 کے تحت)

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ

ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔(پارہ18 ، آیت 31، سورۃ النور)

معجم کبیر میں ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

”لان يعطن في رأس احدكم بمخيط من حديد خير له من ان يمس امرأة لا تحل له“

یعنی تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی گھونپ دی جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہیں۔ (معجم كبير، ابو العلاء يزيد بن عبد الله … الخ . ٢١١/٢٠، الحديث: ٤٨٦)

سنن ابو داؤد میں ہے:

”والیدان تزنيان فزناهما البطش والرجلان تزنيان فزناهما المشى والفم يزنى فزناه القبل“

ترجمہ: اور ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا(حرام کو) پکڑنا ہے اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا(حرام کی طرف)چلنا ہے اور منہ (بھی)زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے۔(ابو داود، كتاب النكاح، باب ما يؤمر به من غض البصر، ٣٥٩/٢، الحديث: ٢١٥٣)

بحر الرائق میں ہے:

”مايدفعه المتعاشقان رشوة يجب ردها ولا تملك‘‘

ترجمہ: عاشق و معشوق (یعنی ناجائز محبت میں گرفتار) آپس میں ایک دوسرے کو جو (تحائف) دیتے ہیں ان کا لوٹانا واجب ہے اور وہ ملکیت میں داخل نہیں ہوتے۔(بحر الرائق ،کتاب القضاء ، جلد6، ص441)

واللہ ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

بابر عطاری مدنی اسلام آباد

2شعبان المعظم1445/ 13فروری2024

اپنا تبصرہ بھیجیں