زکوۃ کی رقم فقط علیحدہ کرکے صاحب نصاب مر جائے

زکوۃ کی رقم فقط علیحدہ کرکے صاحب نصاب مر جائے

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ کیا اگر کسی شخص نے زکوٰۃ کو علیحدہ کیا مگر ادا کرنے سے پہلے مرگیا تو کیا اس زکوٰۃ کو ادا کرنا اس کے وارثوں کے لیے ضروری ہے؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

صورت مستفسرہ کے مطابق فقط زکوٰۃ علیحدہ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی بلکہ شرعی فقیر کو مالک بنانے سے ہی زکوٰۃ ادا ہوگی اور اگر زکوٰۃ واجب ہوگئی تو اب اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنا گناہ ہے اور اگر زکوٰۃ الگ کرکے رکھ دی اور ادا نہیں کی یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا تو اب یہ الگ کیا ہوا مال بھی مال وراثت میں شامل ہوکر ورثہ میں تقسیم ہوگا اور ورثہ کے لیے اس کی ادائیگی کرنا لازم نہیں ہےاگر وصیت نہ کی۔ اگر تمام ورثہ بالغ ہوں تو اپنی مرضی سے مرحوم کے مال سے زکوٰۃ ادا کرسکتے ہیں کہ یہ تبرع یعنی کہ احسان ہوگا ۔ اگر ادائیگی زکوٰۃ کی وصیت کی تھی تو اب اس کے تہائی مال سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی اور اگر تمام ورثہ بالغ ہوں اور اجازت بھی دے دیں تو تہائی مال سے زائد بلکہ پورے مال سے بھی زکوٰۃ ادا کرسکتے ہیں۔

درمختار میں ہے

”ولا یخرج عن العھدہ بالعزل بالاداء للفقراء “

زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری سے صرف مال الگ کرنے سے بری ذمہ نہیں ہوگا بلکہ فقراء کو ادا کرنے سے بری ذمہ ہوگا۔(الدرالمختار ، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، جلد 3، صفحہ 221 ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے

”تجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتاخیرہ من غیر عذر “

سال پورا ہونے پر زکوٰۃ فی الفورم لازم ہوجاتی ہے حتٰی کہ بغیر عذر تاخیر سے گناہ ہوگا۔(فتاویٰ عالمگیری ، جلد 1 ، صفحہ 180 ، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

” زکاۃ فرض ہے، اس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مردود الشہادۃ ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1 ، حصہ 5، صفحہ 880 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)

ردالمحتار میں ہے

”قولہ ولا یخرج من العھد بالعزل فلو ضاعت عنہ لاتسقط عنہ الزکوہ ولو مات میراثا عنہ“

زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری سے صرف مال الگ کرنے سے بری ذمہ نہیں ہوگا اگر وہ علیحدہ کیا گیا مال ضائع ہو جائے تو زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی اور اگر وہ مرگیا تو وہ مال اس کی جانب سے وارثوں میں بطور ورثہ تقسیم ہوگا۔(ردالمحتار ‘، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج 3 ، ص 225، دار الکتب العلمیہ بیروت)

الدر المختار میں ہے

”وأما دين الله تعالى، فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي، وإلا لا. (قوله: وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله: من جهة العباد، وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها، قال الزيلعي: فإنها تسقط بالموت، فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب واقول ظاھر التعلیل ان الورثہ لو تبرعوا بھا لا یسقط الواجب عنہ لعدم النیہ ولان فعلھم لایلزم مقام فعلہ بدون اذنہ تعامل“

اور اللہ کا دَین تو پس اگر اس کی وصیت کی تو وہ اس مال کے ثلث(تہائی) مابقیہ میں نافذ کرنا واجب ہوگا اس سے زائد میں نہیں۔اللہ عزوجل کے دین سے مراد بندے کی جہت سے سے احتراز اور اس سے زکوٰۃ اور کفارات وغیرہ مراد ہیں اور زیلعی نے فرمایا ہے کہ پس وہ اس کی موت سے ساقط ہو جائیں گے اور ان کی ادائیگی وارثوں پر لازم نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اس کی وصیت کرے یا وہ اسے بطور تبرع اسے ادا کریں کیونکہ عبادات میں رکن مکلف کی نیت اور اس کا فعل ہے اور وہ اپنی موت کے ساتھ فوت ہوا ہے پس واجب کے باقیکا تصور نہیں کیا جاسکتا اور میں کہتا ہوں کہ تعلیل کا ظاہر یہ ہے کہ اگر ورثہ اس کے ساتھ تبرع (احسان) کرے تو اس کی طرف سے نیت نہ ہونے کے سبب سے واجب ساقط نہیں ہوگا اور اس لیے بھی کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے فعل کے قائم مقام نہیں ہوسکتا ۔(الدر المختار، کتاب الفرائض، جلد 6 ، ص 760 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

البحرالرائق میں ہے

”ولو مات من علیه الزکاة لاتؤخذ من ترکته ۔۔۔۔۔۔۔ إلا إذا أوصی بها فتعتبر من الثلث“

اور اگر کوئی مرگیا اس حال میں کہ اس پر زکوٰۃ واجب تھی تو اس کے مال سے اس کی ادائیگی نہیں کی جائے گی سوائے اس صورت کہ اس نے اپنے مال میں سے اس کی وصیت کی ہو اور وہ وصیت بھی ثلث میں ہی معتبر ہوگی۔(البحرالرائق، کتاب الزکوہ ،ج:2، ص211 ، مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”مال کو بہ نیّت زکاۃ علیٰحدہ کر دینے سے بری الذّمہ نہ ہوگا جب تک فقیروں کو نہ دیدے، یہاں تک کہ اگر وہ جاتا رہا تو زکاۃ ساقط نہ ہوئی اوراگر مر گیا تو اس میں وراثت جاری ہوگی۔“(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5 ،صفحہ 895 ،مکتبہ المدینہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے :

”قرض کے بعد جو مال بچا ہو اس کے تہائی سے وصیتیں پوری کی جائیں گی۔ ہاں اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور سب کے سب تہائی مال سے زائد سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دے دیں توجائز ہے۔“(بہار شریعت ،جلد 3 ،حصہ 20، صفحہ 1118 ،مکتبہ المدینہ کراچی)

فتاویٰ بحر العلوم میں ہے:

”مرحومہ عورت پر زکاہ واجب تھی اور وہ زکوٰۃ ادا کئے بغیر مرگئی تو اب مال وارثوں کا ہوگا عورت پر زکاہ نہیں اور اگر وصیت کرکے مری کہ میرے مال سے زکوٰۃ ادا کردی جائے تو ایک تہائی ترکہ سے زکوٰۃ ادا کی جائے اور اگر اس کے ورثہ راضی ہو تو پورے مال سے زکوٰۃ ادا کی جاسکتی ہے۔“(فتاویٰ بحر العلوم ، جلد 2 ،صفحہ 145 144 ، مطبوعہ شبیر برادرز)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

بنت عثمان

15رجب المرجب 1445ھ27جنوری 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں