بکرا اگر دودھ دے تو اس کا پینا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک بکرا ہے جس کے تھن بھی ہیں اور وہ تھن سے دودھ دیتا ہے تو یہ دودھ پینا جائز ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں بکرے کا دودھ پاک اور پینا جائز ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے:
پہلی وجہ: بکرا حلال جانور ہے اور حلال جانور کا دودھ بھی حلال ہے۔
دوسری وجہ: دودھ گوشت سے بنتا ہے؛ اس لیے جس جانور کا گوشت حلال ہے اس کا دودھ بھی حلال ہے۔
تیسری وجہ: چار چیزوں کے علاوہ تمام چیزوں میں اصل اباحت ہے تو جب تک حرمت کی دلیل نہیں پائی جاتی اس وقت وہ چیز حلال و مباح رہتی ہے اور یہاں بھی حرمت کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
چوتھی وجہ: احادیث طیبہ کی روشنی میں فقہائے کرام نے حلال جانوروں کے جن اجزا کا کھانا حرام و مکروہ بیان فرمایا ہے ان میں کہیں بھی یہ نہیں کہ اگر نر حلال جانور دودھ دے تو اس کا پینا حرام، مکروہ یا ممنوع ہے۔
پانچویں وجہ: شریعت مطہرہ نے حلال جانور کے جن اجزا کو ممنوع فرمایا ہے۔ اس کی دو وجوہات بیان فرمائی ہیں (1) یا تو وہ چیز خود نجس ہوتی ہے (2) یا پھر نجس چیز سے متصل ہوتی ہے۔ اور بکرے کے دودھ میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔
چھٹی وجہ: اگر اس بکرے کو خنثی مانیں تب بھی اس کا دودھ پینا جائز ہوگا؛ اس لیے کہ خنثی جانور کا گوشت حلال ہے، اور جس جانور کا گوشت حلال ہے اس کا دودھ بھی حلال ہے۔
الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:
”واللبن متولد من اللحم فأخذ حكمه“
ترجمہ: اور دودھ گوشت سے بنتا ہے اس لیے (حلال و حرام ہونے میں) دودھ کا حکم گوشت والا ہوگا۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، كتاب الكراهية، جلد، صفحہ363، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
رد المحتار میں ہے:
”لبن المأكول حلال“
ترجمہ: کھائے جانے والے حلال جانور کا دودھ حلال ہے۔(رد المحتار، كتاب الأشربة، جلد10، صفحہ45، دار المعرفۃ، بیروت)
مجمع الأنھر میں ہے:
”وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة“
ترجمہ: اور حرمت صرف معارض آنے والی نص یا خبر سے ثابت ہوتی ہے تو جب تک حرمت کی کوئی دلیل نہیں پائی جائے گی، چیز مباح رہے گی۔ (مجمع الأنھر، كتاب الأشربة، جلد4، صفحہ244، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”ماورائے دماء وفروج ومضار وخبائث تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے۔“(فتاوی رضویہ، جلد5، صفحہ522، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
”حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں۔“(فتاوی رضویہ، جلد20، صفحہ240، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
پھر امام اہلسنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ممنوعہ اجزا بیان فرمائے لیکن اس میں نر جانور کے دودھ کو شامل نہیں فرمایا۔
فتاوی فیض الرسول میں ہے:
”حیوان ماکول اللحم کے بدن میں جو چیزیں مکروہ ہیں ان کا مدار خبث پر ہے۔ “(فتاوی فیض الرسول، جلد2، صفحہ380، شبیر برادرز)
حلال جانوروں کے مکروہ اجزا کی علت کے متعلق “مصدقات تاج الشریعہ” میں لکھا ہے:
”کراہت کی علت نجاست کے ساتھ اتصال ہے۔ “(مصدقات تاج الشریعہ، صفحہ39، بریلی شریف)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”خنثٰی کہ نر و مادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا، ویسے ذبح سے حلال ہو جائے گا، اگر کوئی کچا گوشت کھائے، کھائے۔“(فتاوی رضویہ، کتاب الذبائح، جلد20، صفحہ 255-256، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔
️مؤرخہ 14رجب المرجب 1445ھ بمطابق 26جنوری 2024ء، بروز جمعۃ المبارک