دورانِ عدت کس کس سے پردہ ضروری ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ شوہر کے فوت ہونے پر عورت دوران عدت کن کن افراد سے پردہ کرے گی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پردے کے وُجوب اور عدمِ وُجوب کے سلسلے میں قرآن وسنت اور کتب فقہ میں موجود ضابطہ واصول یہ ہے کہ جن مردوں سے نکاح کرنا جائز ہے، ان سے پردہ کرناواجب ہے اور جن سے کبھی بھی نکاح کرنا جائز نہیں، ان سے پردہ کرنا واجب نہیں۔ کیونکہ پردہ صرف عدت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عورت کے لیے نامحرموں (جیساکہ بہنوئی،دیور،جیٹھ وغیرہ) سے پردہ کرنا ہر حال میں ضروری چاہے وہ عورت عدت میں ہو، یا نہ ہو اور جو محرم ہیں (جیساکہ والد،بیٹا بھائی وغیرہ) ان سے نہ عدت میں پردہ ضروری نہ ہی عدت کے بعد۔
(نوٹ کن سے پردہ کرناہے اورکن سےنہیں اس کی تفصیل
(1) نامحرم جیساکہ چچازاد، ماموں زاد، خالہ زاد، وغیرہ سے پردہ ہر حال میں واجب ہے چاہے عورت عدت میں ہو یا عام حالت میں ہو۔
(2)محارم نسبی جیساکہ باپ بھائی ، بیٹا ، چچا، ماموں وغیرہ سے پردہ نہ کرنا واجب ، اگر ان سے پردہ کرے گی تو گنہگار بھی ہوگی۔
(3) صہری محارم یعنی سسرالی رشتے سے بننے والے محارم جیساکہ سسر وغیرہ اسی طرح دودھ کے رشتے سے بننے والے محارم جیساکہ رضاعی بھائی، رضاعی والد وغیرہ ان سے پردہ کرنا واجب تو نہیں، مگر پردہ کرے تو بھی جائز ہے، نہ کرے تو بھی جائز ہے ، البتہ جوانی کی حالت میں پردہ ہی مناسب ہے اور فتنے کا غالب گمان ہو تو پردہ کرنا واجب ہے۔)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا“
ترجمہ کنزالایمان: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(القرآن الکریم،پارہ22، سورۃ الاحزاب،آیت:59)
صحیح بخاری شریف اور دیگر کتبِ احادیث میں قریبی نامحرم سے پردے کی تاکید کچھ یوں مذکور ہے: ”و النظم للاول
”عن عقبة بن عامر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ” إياكم والدخول على النساء” فقال رجل من الأنصار يا رسول الله أفرأيت الحمو ؟ قال “الحمو الموت“
یعنی حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم دیور کے متعلق ارشاد فرمایئے تو فرمایا :دیور تو موت ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل۔۔۔الخ، ج 05، ص2005،دار ابن كثير، بيروت)
مراۃ المناجیح میں مذکورہ حدیث کے بارے میں ہے:
”یعنی بھاوج کا دیور سے بے پردہ ہونا موت کی طرح باعث ہلاکت ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حمو سے مراد صرف دیور یعنی خاوند کا بھائی ہی نہیں بلکہ خاوند کے تمام وہ قرابت دار مراد ہیں جن سے نکاح درست ہے جیسے خاوند کا چچا ماموں پھوپھا وغیرہ ۔ اسی طرح بیوی کی بہن یعنی سالی اور اس کی بھتیجی بھانجی وغیرہ سب کا یہ ہی حکم ہے۔خیال رہے کہ دیور کو موت اس لیے فرمایا کہ عادتًا بھاوج دیور سے پردہ نہیں کرتیں بلکہ اس سے دل لگی،مذاق بھی کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اجنبیہ غیر محرم سے مذاق دل لگی کسی قدر فتنہ کا باعث ہے۔ اب بھی زیادہ فتنہ دیور بھاوج اور سالی بہنوئی میں دیکھے جاتے ہیں۔“ (مرآۃ المناجیح، ج 05، ص 14، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)
ردالمختار میں ہے علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
”وفی الموت تستر عن سائر الورثۃ ممن لیس بمحرم لھا“
ترجمہ:اور وفات کی عدت میں عورت شوہر کے ان تمام ورثاء سے پردہ کرے گی کہ جو اس کے محرم نہیں ہیں ۔(ردالمحتار ،ج5، ص230 ، مطبوعہ کوئٹہ )
فتاویٰ رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
”اپنی حقیقی ہمشیرہ کے شوہر سے عورت کو پردہ کرنا فرض ہے یانہیں؟“
آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
” بہنوئی کاحکم شرع میں بالکل مثل حکم اجنبی ہے بلکہ اس سے بھی زائد کہ وہ جس بے تکلفی سے آمدورفت،نشست وبرخاست کرسکتاہے غیر شخص کی اتنی ہمت نہیں ہوسکتی لہذا صحیح حدیث میں ہے: قالوا یارسول اﷲ ارأیت الحمو قال الحمو الموت صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ! جیٹھ، دیور، اور ان کے مثل رشتہ داران شوہر کا کیا حکم ہے۔ فرمایایہ تو موت ہیں۔ “ (فتاوٰی رضویہ، ج17،ص237، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملخصاً)
وقارالفتاویٰ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
’’عدت اور غیر عدت میں پردہ کے احکامات میں کوئی فرق نہیں۔قبلِ عدت جن لوگوں سےپردہ فرض ہے ، دوران عدت بھی ان سے پردہ کرنا فرض ہے۔“ (وقار الفتاوی،ج3،ص158، بزم وقار الدین ، کراچی)
وقارالفتاوی میں مزید ایک اور مقام پر ہے:
”قبلِ عدت جن سے پردہ فرض تھا،دورانِ عدت بھی ان سے پردہ کرنافرض ہےاورجن لوگوں سے عدت سے پہلے پردہ کرنافرض نہیں تھا،ان سے عدت میں بھی پردہ کرنافرض نہیں۔(وقارالفتاوی،ج03،ص212،بزم وقارالدین،کراچی)
فتاویٰ رضویہ میں مزید سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:
’’اس کا ضابطہ کلیہ ہے کہ نامحرموں سے پردہ مطلقاً واجب اور محارم نسبی سے پردہ نہ کرنا واجب ۔ اگر کرے گی ، تو گنہگار ہوگی اور محارم غیرِ نسبی مثل علاقۂ مصاہرت و رضاعت ، ان سے پردہ کرنا اور نہ کرنا دونوں جائز، مصلحت و حالت پر لحاظ ہوگا۔ اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے ،یہی حکم خسر اور بہو کاہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج22،ص240، رضا فاؤنڈیشن ، لاهور)
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
12رجب المرجب1445ھ/ 23جنوری2024