سانپ اور بچھو کی خرید و فروخت

سانپ اور بچھو کی خرید و فروخت

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سانپ اور بچھو کی خریدو فروخت کا شرعی حکم کیا ہے؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

حشرات العرض یعنی زمین پر رینگنے والے جانور جیسے سانپ بچھو، گوہ،چوہا چھپکلی وغیرہ ان کی بیع ناجائز ہے البتہ اگر سانپ، بچھو، وغیرہ ان سے جائز منافع کا حصول ممکن ہوتو تو ان کی خریدوفروخت جائز ہے کیونکہ کسی چیز کی خریدوفروخت کے جائزہونے کا مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ چیز قابل انتفاع بھی ہو اور اس کا کوئی جائزاستعمال بھی موجود ہو جیسے بچھو سے فصلی کیڑے مارنے کی دوائی بنائی جاتی ہے ،یونہی ا س سے بنی دوائی کھائے بغیر جسم پر لگائی جاتی ہے۔ لہذا جن جانوروں میں یہ شرط پائی جائے ان کی خریدوفروخت درست ہے جیساکہ ریشم کے کیڑے، شہد کی مکھی وغیرہ کی خرید و فروخت جائز ہے۔

فتح القدیرمیں ہے :

”لا یجوز بیع ھوامّ الارض کالخنافس والعقارب والفأرۃ والنمل والوزغ والقنافذ والضب “

ترجمہ :حشرات الارض جیسے گبریلے ، بچھو ، چوہے ، چیونٹیاں، چھپکلیاں ، چھچھوندر اور گوہ کی خرید و فروخت جائز نہیں۔(فتح القدیر، کتاب البیوع، مسائل منثورہ، جلد7، صفحہ111، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

”حشرات الارض چوہا ، چھچھوندر ، گھونس ، چھپکلی ، گرگٹ ، گوہ ، بچھو ، چیونٹی کی بیع (خرید و فروخت) ناجائز ہے۔“(بہارِ شریعت، جلد2، حصہ11، صفحہ810، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

رد المحتار میں ہے :

”جواز البيع يدور مع حل الانتفاع، وأنه يجوز بيع العَلق للحاجة مع أنه من الهوامّ “

ترجمہ : جن چیزوں سے نفع اٹھانا حلال ہو ، ان کی خرید و فروخت جائز ہوتی ہے اور جَونک کی خرید و فروخت ضرورت کی وجہ سے جائز ہے ،حالانکہ وہ کیڑوں میں سے ہے ۔(رد المحتار علی الدر المختار ، باب البیع الفاسد ، ج7 ، ص235 ، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

”الصحيح أنه يجوز بيع كل شيء ينتفع به كذا في التتارخانيۃ“

ترجمہ: صحیح یہ ہے کہ ہر اس چیز کی خرید و فروخت جائز ہے ، جس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہو ، اسی طرح فتاوی تتارخانیہ میں ہے ۔(فتاوی عالمگیری، ج3، ص122، مطبوعہ کراچی)

الفقہ علی المذاہب الاربعۃ میں ہے:

”يصح بيع الحشرات والهوام كالحيات والعقارب اذا كان ينتفع بها ، والضابط فی ذلك ان كل ما فيه منفعة تحل شرعاً فان بيعه يجوز“

ترجمہ: کیڑوں اور زہریلے جانوروں جیسا کہ سانپ اور بچھو کی خرید و فروخت اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ ان سے نفع اٹھایا جا سکتا ہو اور اس کا اصول یہ ہے کہ ہر وہ چیز ، جس میں شرعی اعتبار سے حلال نفع موجود ہو ، اس کی خرید و فروخت جائز ہے ۔(الفقه على المذاهب الأربعة ، ج2 ، ص209 ، مبحث البيع الفاسد… ، مبحث بيع الطير في الهواء ، دار احياء التراث العربی، بيروت)

فتاوی ھندیہ میں ہے

”يجوز بيع الحيات اِذا کان ينتفع بها في الادوية واِن کان لا ينتفع بها لا يجوز والصحيح انه يجوز بيع کل شئي ينتفع به. بيع الکلب المعلم عندنا جائز وکذلک بيع السنورو سباع الوحش والطير جائز عندنا معلما کان أو لم يکن. وبيع الکلب الغيرالمعلم يجوز اِذا کان قابلا للتعليم واِلا فلا“

ترجمہ: سانپوں کی تجارت جائز ہے جب ان سے دوائیں(خارجی استعمال کے لیے) بنائی جائیں اگر اسکے لئے مفید نہیں تو بیع جائز نہیں۔ صحیح یہ ہے ہروہ چیز جس سے نفع اٹھایا جائے اسکی تجارت جائز ہے۔ ہمارے نزدیک سکھائے ہوئے کتے کی بیع جائز ہے۔ یونہی بلی اور وحشی درندوں اور پرندوں کی خرید و فروخت درست ہے سکھائے سدھائے ہوں یا نہ ہوں۔جس کتے کو سدھایا پڑھایا نہ جائے اگر وہ قابل تعلیم ہے تو اس کا لین دین بھی جائز ہے اگر قابل تعلیم نہیں (یعنی پاگل ہے) تو اسکی بیع درست نہیں۔ (الفتاوی الهندية، ج3 : ص11، دار الفکر بیروت)

تنویر الابصار ودرِ مختار میں ہے:

”(ويباع دود القَز) أي الإبريسم (وبيضه ، والنحل) المحرز، وهو دود العسل“

ترجمہ : اور قَز یعنی ریشم کے کیڑے اور اس کے انڈے اور شہد کی اکٹھی کی گئی مکھیوں یعنی شہد کے کیڑوں کی خرید و فروخت جائز ہے۔(الدر المختار مع رد المحتار ، باب البیع الفاسد، ج7،صفحہ259، مطبوعہ کوئٹہ)

واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

بابر عطاری مدنی اسلام آباد

3رجب المرجب1445ھ/15جنوری2024

اپنا تبصرہ بھیجیں