وضو کے اعضا تین مرتبہ سے کم دھونا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ سردی کے سبب وضو کے اعضا کو ایک ایک مرتبہ دھونا کیسا ہے؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق سردی کے سبب سے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ اس طرح دھونا کہ کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے یہ فرض ہے اور جائز ہے(کہ بعض احادیث سے اس کا جواز ثابت ہے) البتہ سنت مؤکدہ کا ترک ہے اور اس کی عادت بنالینے والا گناہ گار ہے کہ اعضاء وضو کو تین بار دھونا سنت مؤکدہ ہے ۔اگر ایک بار دھونے سے پورے عضو تک پانی نہیں پہنچا اور پھر دوسری بار دھویا پھر تیسری بار دھویا کہ تین بار دھونے کے بعد عضو پورا دھل گیا ،تب بھی یہ ایک بار ہی دھونا شمار ہوگا ۔ سردی میں مشقت برداشت کرکے وضو کرنے پر دوگنے اجر کا ثواب بھی ملے گا لہذا بغیر ضرورت شدیدہ کے سردی میں کامل وضو ہی کیا جائے۔
صحیح البخاری میں ہے
”وعن عبداللہ بن عباس قال توضا رسول اللہ صلی اللہ علیہ مرہ مرہ لم یزد علی ھذا“
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عباس سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک باروضو کیا اس پر زیادتی نہ فرمائی۔(صحیح البخاری ، کتاب الوضوء ، حدیث 157 جلد 1 ،صفحہ 58مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)
صحیح البخاری میں ہے
”وعن عبداللہ بن زید ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم توضا مرتین مرتین “
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زید سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو باروضوکیا۔(صحیح البخاری ، کتاب الوضوء ، حدیث 158 جلد 1 ،صفحہ 58،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)
صحیح البخاری میں ہے
” عن ابن شهاب، ان عطاء بن يزيد اخبره، ان حمران مولى عثمان اخبره، انه راى عثمان بن عفان دعا بإناء، فافرغ على كفيه ثلاث مرار فغسلهما، ثم ادخل يمينه في الإناء فمضمض واستنشق، ثم غسل وجهه ثلاثا ويديه إلى المرفقين ثلاث مرار، ثم مسح براسه، ثم غسل رجليه ثلاث مرار إلى الكعبين، ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” من توضا نحو وضوئي هذا، ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه“
ترجمہ: ابن شہاب سے سے مروی ہے کہ انہیں عطاء بن یزید نے خبر دی، انہیں حمران عثمان کے مولیٰ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے (حمران سے) پانی کا برتن مانگا۔ (اور لے کر پہلے) اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر انہیں دھویا۔ اس کے بعد اپنا داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا۔ اور (پانی لے کر) کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر (پانی لے کر) ٹخنوں تک تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر دو رکعت پڑھے، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے۔ تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔(صحیح البخاری ، کتاب الوضوء ، حدیث 159،جلد 1 ،صفحہ 58،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)
سنن ابو داؤد میں ہے
”عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم ” توضا ثلاثا ثلاثا “
ترجمہ: حضرت علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔(سنن ابو داؤد ، کتاب الطھارہ ،جلد 1 ،صفحہ 50، حدیث 116 ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)
مجمع الزوائد میں ہے
”جاء رجل الى النبی صلى اللہ عليه وسلم فقال: ما اسباغ الوضوء؟ فسكت عنه رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم حتى حضرت الصلاة، قال: فدعا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم بماء، فغسل يديه، ثم استنثر ومضمض وغسل وجهه ثلاثا ويديه ثلاثا ثلاثا ومسح براسه وغسل رجليه ثلاثا ثلاثا، ثم نضح تحت ثوبه فقال: هذا اسباغ الوضوء‘‘
ترجمہ: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: کامل وضو کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتی کہ نماز کا وقت ہو گیا، تو آپ علیہ الصلوٰۃوالسلام نے پانی منگوایا، پھر اپنے ہاتھ دھوئے، ناک میں پانی چڑھایا، کلی کی اور چہرے اور ہاتھوں کو تین تین بار دھویا، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو تین بار دھویا، پھر کپڑے کے نیچے پانی چھڑکا، پھر فرمایا: یہ کامل وضو کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، کتاب الطھارۃ، باب فی اسباغ الوضو، جلد 1، صفحہ 237، مطبوعہ قاھرہ)
مراہ المناجیح میں ہے:
”یعنی ہرعضو ایک بار دھویا اور اس وضو میں ایک بار پر زیادتی نہ کی۔یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں دویاتین بار دھونے کا ذکر ہےکیونکہ ایک یا دوبار دھونا بیان جواز کے لیے ہے۔اورتین بار دھونا بیان استحباب کے لئے۔یاپانی کم ہونے پر ایک دو باراعضاءدھوئے اورپانی کافی ہونے پرتین بار۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ کو وضو کی حاجت نہ تھی صرف لوگوں کو سکھانے کے لئے انہیں دکھاکر وضو کیا۔اور ظاہر یہ ہے کہ دھونے والے اعضاءتین بار دھوئے لیکن مسح ایک ہی بار کیا،تین تین باراعضاء کا دھونا عام طور پر تھا،ایک یا دوبارانہیں دھونا کبھی کبھی وہ بھی بیان جواز کے لیے۔لہذا یہ حدیث نہ دیگر احادیث سے متعارض ہے نہ ہمارے خلاف۔“(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، جلد:1 ، حدیث نمبر:397 ،ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ردالمحتار میں ہے
”وتثلیث الغسل المستوعب ولا عبرہ للفرقات ولو اکتفی بمرہ وان اعتادہ اثم (وتثلیث الغسل) ای جعلہ ثلاثا فمجموع الثانیہ والثالثہ سنہ واحدہ قال فی الفتح وھو الحق لکن صحیح فی السراج انھما سنتان موکدتان قال فی النھر وھو المناسب لاستدلھم علی السنیہ بانہ علیہ الصلاۃ والسلام لما ان توضا مرتین مرتین قال ھذا الوضوء من یضاعف لہ اجر مرتین ولما ان توضا ثلاثا قال ھذا وضوتی ووضوء الانبیاء من قبلی فمن زاد علی ھذا او نقص فقد تعدی و ظلم فجعل للثانیہ جزاء مستقلا وھذا یوذن باستقلالھا لا انھا جزء سنہ حتی لا یثاب علیھا وحدھا وقید بالغسل اذ لایطلب تثلیث المسح کما یاتی (وقولہ المستوعب) فلو غسل فی المرہ الاولی ویقی موضع یابس ثم فی المرہ الثانیہ اصاب الماء بعضہ ثم فی الثانیہ اصاب الجمیع لایکون غسلا للاعضاء ثلاثا“
ترجمہ: اعضاء مغسولہ کو تین بار دھونا اور چلوں کا اعتبار نہیں اگر ایک دفعہ دھونے پر اکتفاء کیا اگر عادی ہوا تو گناہ گار ہوگا۔
(قولہ تثلیث الغسل) دھونے کو تین مرتبہ سنت بتایا گیا ہے دوسری مرتبہ دھونے کا مجموع ایک سنت ہے الفتح میں ہے کہ یہ حق ہے لیکن سراج میں مذکور ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے النھر میں ہے کہ سنیت پر ان کے استدلال کے یہی مناسب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو دو مرتبہ وضو کیا تو فرمایا کہ اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جب تین تین بار وضو کیا تو فرمایا کہ یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے پس جس نے اس پر زائد کیا یا اس پر کم کیا اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا پس دوسری مرتبہ دھونے کو مستقل جزا بنایا ہے یہ اس کے مستقل ہونے کی خبر دیتا ہے نہ کہ سنت کا جز ہے تاکہ اس پر ثواب نہیں دیا جائے گا الغسل کے لفظ کے ساتھ مقید کیا کیونکہ مسح تین مرتبہ کرنا مطلوب نہیں ہے۔
(قولہ المستوعب) اگر پہلی مرتبہ دھویا اور کچھ خشک رہ گیا پھر دوسری مرتبہ دھویا اور اس کے بعض حصوں تک پہنچا پھر تیسری مرتبہ دھویا اور پورے جسم پر پانی پھر گیا تو یہ اعضاء کو تین مرتبہ دھونا نہیں ہوگا۔(ردالمحتار کتاب الطھارہ ،جلد 1 ، صفحہ 457، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”جو اعضا دھونے کے ہیں ان کو تین تین با ر دھوئے ہر مرتبہ اس طرح دھوئے کہ کوئی حصہ رہ نہ جائے ورنہ سنت ادا نہ ہوگی۔اگر یوں کیا کہ پہلی مرتبہ کچھ دُھل گیا اور دوسری بار کچھ اور تیسری دفعہ کچھ کہ تینوں بار میں پورا عُضْوْ دُھل گیا تو یہ ایک ہی بار دھونا ہو گا اور وُضو ہو جائے گا مگر خلاف سنت، اس میں چُلّوؤں کی گنتی نہیں بلکہ پورا عُضْوْ دھونے کی گنتی ہے کہ وہ تین مرتبہ ہواگرچہ کتنے ہی چلوؤں سے۔“ (بہار شریعت ،جلد 1 ،حصہ 1، صفحہ 299 ،مکتبہ المدینہ کراچی
المعجم الاوسط میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’من اسبغ الوضوء في البرد الشديد،كان له من الاجر كفلان‘‘
ترجمہ: جس نے سخت سردی میں کامل وضو کیا ،اس کے لیے ثواب کے دو حصے ہیں۔(المعجم الاوسط،جلد 5، صفحہ 298، مطبوعہ القاھرہ)
صحیح مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’الا ادلكم على ما يمحو اللہ به الخطايا ويرفع به الدرجات؟قالوا: بلى يا رسول اللہ! قال:اسباغ الوضوء على المكاره وكثرة الخطا الى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة،فذلكم الرباط‘‘
ترجمہ:کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف رہنمائی نہ کروں کہ جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند فرماتا ہے؟صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:کیوں نہیں ،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!فرمایا:(سردی وغیرہ کی)مشقت برداشت کر کے اچھے طریقے سے وضو کرنا،مساجد کی طرف زیادہ قدم چلنا اورایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔پس یہ اعمال تمہارے لیے(نفس و شیطان سے )حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ ( صحیح المسلم، کتاب الطھارۃ، باب فضل اسباغ الوضو علی مکارہ، جلد 1، صفحہ 127، مطبوعہ کراچی)
اشعہ اللمعات میں المكاره کے تحت شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’یعنی مشقت و تکلیف کے وقت جبکہ طبیعت پانی کے استعمال پر آمادہ نہ ہو، جیسے بیماری اور شدید سردی کی حالت۔‘‘ (اشعۃ اللمعات، جلد 14، صفحہ 535، فرید بک اسٹال، لاھور)
مراۃ المناجیح میں ہے:
’’مشقت سے مراد سردی یا بیماری یا پانی کی گرانی کا زمانہ ہے، یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو، تب مکمل کرنا۔‘‘(مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 233، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
مراۃ المناجیح میں ہے :
”سردیوں میں خصوصاً جبکہ پانی بھی ٹھنڈا ہو، صحیح وضو کرنا بہت ثواب ہے۔‘‘(مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 461، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
التیسیر شرح جامع صغیر میں ہے:
’’کفل علی الوضوء وکفل علی الصبر علی الم البرد‘‘
ترجمہ: ایک اجر وضو کا اور ایک اجر سردی برداشت کرنے کا۔(التیسیر شرح جامع صغیر، جلد 2، صفحہ 394، مطبوعہ ریاض)
المقاصد الحسنہ میں ہے
’’افضل العبادات احمزھا‘‘
ترجمہ: عبادات میں سے افضل وہ ہے، جس میں زحمت زیادہ ہو۔(المقاصد الحسنہ، جلد 1، صفحہ 130، مطبوعہ بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
01رجب المرجب 1445ھ13جنوری 2024ء