عمرے کے بعد حلق افضل یا تقصیر
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ عمرے کے بعد حلق کروانا افضل ہے یا تقصیر کروانا؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق حلق سے مراد پورے سر کے بال مونڈنا ہے جبکہ تقصیر سے مراد یہ ہے کہ تمام سر کے بال ایک پورے کی مقدار اتارنا ہے اور یہی سنت ہے چوتھائی سر کا حلق یا تقصیر کروانا اگرچہ جائز ہے مگر اس میں کراہت ہے اور مردوں کے لیے حلق کروانا افضل ہے اور خواتین کے لیے سر منڈوانا جائز نہیں کہ یہ مثلہ کے حکم میں ہے خواتین کے لیے تقصیر کا ہی حکم ہے ۔
صحیح مسلم میں ہے
” عن ابن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:” رحم الله المحلقين”، قالوا: والمقصرين، يا رسول الله؟، قال:” رحم الله المحلقين”، قالوا: والمقصرين، يا رسول الله؟، قال:” رحم الله المحلقين”، قالوا: والمقصرين، يا رسول الله؟، قال:” والمقصرين“
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔ لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔ لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔
(صحیح مسلم کتاب الحج، صفحہ 55 ، حدیث 1301 (تحفة الأشراف: 7947)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 147 (1728)، سنن ابی داود/الحج 79 (1979)، سنن الترمذی/الحج 74 (913)، موطا امام مالک/الحج 60 (184)، مسند احمد (2/34، 151)، سنن الدارمی/المناسک 64 (1947)
صحیح البخاری میں ہے
”حدثنا عبداللہ بن یوسف اخبرنا مالک عن نافع عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اللھم ارحم المحلقین قالوا والمقصرین یا رسول اللہ قال اللھم ارحم المحلقین قالوا والمقصرین یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والمقصرین وقال اللیث حدثنی نافع رحم اللہ المحلقین مرہ او مرتین قال وقال عبید اللہ حدثنی نافع وقال فی اربعہ والمقصرین۔۔“
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی دعا کی اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ! صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں پر بھی، لیث نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ نے سر منڈوانے والوں پر رحم کیا ایک یا دو مرتبہ، انہوں نے بیان کیا کہ عبید اللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ چوتھی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کتروانے والوں پر بھی۔(صحیح البخاری ،کتاب الحج ، حدیث 1727 ، صفحہ 147، مطبوعہ کراچی)
مراۃالمناجیح میں ہے
”وعن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلق راسہ فی حجہ الوداع واناس من اصحابہ وقصر بعضھم“
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اور کچھ صحابہ نے حجۃ الوداع میں سر منڈائے اور بعض نے بال کٹوائے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ احرام کھولتے وقت سرمنڈانا افضل ہے کہ حضور انور نے منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا کی۔والمقصرین میں منڈانے والوں کا بھی ذکر ہے اور کترانے والوں کے لیے ایک بار،وہ بھی صحابہ کرام کی عرض پر،رب توفیق دے تووہاں منڈائے، رب تعالی نے بھی پہلے منڈانے والوں کا ذکر فرمایا پھر کترانے والوں کا۔۔۔۔۔۔
یعنی حجۃ الوداع کے موقع پرحضور انورصلی اللّٰہ علیہ و سلم اور بعض صحابہ کرام نے سر مبارک منڈائے اور بعض صحابہ نے بال کٹوائے عمرہ میں حضور نےبھی بال کٹوائے جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے لہذا سر منڈوانا اور کتروانا دونوں جائز ہیں، رب تعالٰی فرماتا ہے: ” محلقین رؤسکم ومقصرین “مگر منڈانا افضل ہے سارا سر منڈانا یا کتروانا چاہیےکہ بعض سرمنڈانا کتروانا قزع کہلاتا ہے جو شرعًا مکروہ ہے،امام مالک کے ہاں پورا سر منڈانا یا کتروانا فرض ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 , حدیث نمبر:2646 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
سنن ابو داؤد میں ہے
”لیس علی النساء الحلق انما علی النساء التقصیر“
حلق (سر منڈانا) عورتوں کے لئے نہیں ہے، عورتوں کے لئے تقصیر (انگلی کے ایک پور کے برابر بال کاٹنا) ہے۔(ابو داؤد، السنن، کتاب المناسک، باب الحلق والتقصير،جلد 3 ،صفحہ 157، رقم : 1985 مطبوعہ کراچی)
مراہ المناجیح میں ہے:
”یعنی حج و عمرہ سے فارغ ہوکر مرد تو سر منڈائے یا بال کٹوائے اسے اختیار ہے اور کٹوانے میں خواہ بالوں کی نوکیں ایک پورا بھر کٹوائے یا مشین چلا کر بالکل کٹوائے مگر عورت احرام سے فارغ ہونے پر بالوں کی نوکیں ایک پورے بھر کٹوادے چہارم سر کے کٹوانا واجب ہے پورے سر کے کٹوانا بہتر۔ لہذا اس سے آج کل کی عورتوں کے فیشنی بال کٹوانا ثابت نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ عورت کو سر منڈانا حج و عمرہ میں بھی حرام ہے ان کے علاوہ بھی،یوں ہی فیشن کے لیے بال کٹوانا حرام ہے،حضور انور نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی سی شکلیں بنائیں،عورت کو سر منڈانا ایسا حرام ہے جیسا مرد کو داڑھی منڈانا حرام کہ یہ مثلہ یعنی شکل بگاڑنا ہے،ہاں ضرورت و معذوری میں تو اعضاء کٹوانا بھی درست ہوجاتا ہے ضروریات مستثنٰی ہیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ،حدیث نمبر:2653 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
بحر الرائق میں ہے
”والمراد بالحلق إزالة شعر ربع الرأس إن أمكن … والمراد بالتقصير أن يأخذ الرجل أو المرأة من رءوس شعر ربع الرأس مقدار الأنملة “
ترجمہ: اور حلق سے مراد ممکنہ صورت میں سر کے چوتھائی حصے کے بال (مونڈ کر) ختم کر دینا۔ … اور تقصیر سے مراد یہ ہے کہ مرد یا عورت اپنے چوتھائی سر کے بالوں کے سروں سے ایک پورے کی مقدار اتار لیں۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الحج، باب احرام، جلد نمبر 2، صفحه نمبر 372، مطبوعه: دار الكتاب الإسلامي)
ردالمحتار میں ہے
”لو اقتصر على حلق الربع جاز كما في التقصير، لكن مع الكراهة لتركه السنة فإن السنة حلق جميع الرأس أو تقصير جميعه“
ترجمہ: اگر محرم نے چوتھائی سر کے حلق ہر اکتفا کیا تو جائز ہے، جیسے کہ تقصیر میں (کہ چوتھائی سر کی تقصیر پر اکتفا جائز ہے) لیکن یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے کیونکہ پورے سر کا حلق یا پورے سر کی تقصیر سنت ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، جلد نمبر 2، صفحه نمبر 516، مطبوعه: دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے
عورتوں کو با ل مونڈانا حرام ہے، وہ صرف ایک پورے برابر بال کتروالیں اور مردوں کو اختیار ہے کہ حلق کریں یا تقصیر اور بہتر حلق ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حلق کرایا اور سر مونڈانے والوں کے لیے دعائے رحمت تین بار فرمائی اور کتروانے والوں کے لیے ایک بار۔(بہار شریعت ، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1118، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
27جمادی الآخر 1445ھ10جنوری 2024ء