جنتیوں کی عمر

جنتیوں کی عمر

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ بعض کتب میں ہے کہ جنتی جنت میں 30 برس کے ہوں گے جبکہ ایک حدیث کے حوالے سے ہے کہ جنتیوں کی عمر 33 سال ہوگی تو اس بارے میں کیا تحقیق ہے؟ اس کے متعلق وضاحت فرما دیں؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب

اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ جنت میں جنتیوں کی عمر تینتیس (33) سال ہو گی، کیونکہ کثیر احادیث سے یہی ثابت ہوتاہے ۔رہا معاملہ بعض کتب میں لکھی تعداد کا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعداد بھی کئی احادیث میں لکھی ہوئی ہے اور ان دونوں طرح کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ ایسا خاص و معین عدد کہ جو دہائی سے اوپر 1سے 3 تک عدد پر مشتمل ہو تو اس کو ذکر کرنے میں اہل عرب کے دو طریقے ہیں :ایک یہ ہے کہ تحقیق کے پیشِ نظر وہ دہائی سے اوپر کے عدد کو بھی باقاعدہ ذکر کرتے ہیں، اور دوسرا یہ ہے کہ وہ صرف دہائی ذکر کردیتے ہیں ، اس کے اوپر (ایک سے تین تک )کے عدد کو ذکر نہیں کرتے۔ اور یہ بات کلامِ عرب بلکہ دیگر قوموں کے کلام میں بھی پائی جاتی ہے، تو جن احادیث میں عمر تیس(30) سال لکھی ہے تو اس میں اہلِ عرب کے انداز پر فقط دہائی (یعنی 30)کو ذکر کیا گیا ہے اور کَسر کو چھوڑ دیا گیا۔

قرآن کریم میں ہے:

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً.فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا.عُرُبًا اَتْرَابًا.لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ

ترجمۂ کنز العرفان:بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا ۔توہم نے انہیں کنواریاں بنایا ۔ محبت کرنے والیاں ،سب ایک عمر والیاں ۔ دائیں جانب والوں کے لیے۔(سورۃ الواقعہ،آیت:37)

اس آیت کے لفظ “اَتْرَابًا” کےتحت تفسیر القرآن العظیم للسخاوی میں لکھا ہے

”اَتْرَابًا”مستویات فی السنّ بنات ثلاث و ثلاثین وازواجھن کذالک قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یدخل اہل الجنۃ الجنۃ جردا مردا مکحلین ابناء ثلاث و ثلاثین“

ترجمہ: ہم عمر ہوں گی” یعنی ان کی عمر برابر ہوگی، سب عورتیں تینتیس 33 سال کی ہوں گی اور اسی طرح ان کے شوہر بھی 33 سال کے ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جنتی اس حال میں داخل جنت ہوں گے کہ ان کے جسم پر(پلکوں،بھنووں اور سر کے بالوں کے علاوہ)نہ بال ہوں گے نہ داڑھی ہوگی، ان کی رنگت سفید ہوگی (خوبصورت) گھنگریالے بال ہوں گے اور آنکھوں میں قدرتی طور پر سرمہ لگا ہوگا، سب کی عمر 33 سال ہوگی۔( تفسیر القران العظیم للسخاوی ،جلد2، صفحہ 426، دارالنشر للجامعات)

تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التأویل میں ہے:

”{ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً .فَجَعَلْنَـٰهُنَّ أَبْكَـٰراً } عذارى كلما أتاهن أزواجهن وجدوهن أبكاراً { عُرُباً } { عرْباً }… جمع عروب وهي المتحببة إلى زوجها الحسنة التبعل { أَتْرَاباً } مستويات في السن بنات ثلاث وثلاثين وأزواجهن كذلك“

خلاصہ یہ ہے کہ بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا توہم نے انہیں ایسی کنواریاں بنایا کہ جب بھی ان کے شوہر ان کے پاس جائیں گے وہ انہیں کنواریاں ہی پائیں گے اور وہ عورتیں اپنے شوہروں سے بے پناہ محبت کرنے والیاں ہیں اور ان سب کی عمر بھی ایک ہو گی کہ 33سال کی جوان ہوں گی،اسی طرح ان کے شوہر بھی جوان ہوں گے اور یہ جوانی ہمیشہ قائم رہنے والی ہو گی۔(تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التأویل،سورۃ الواقعۃ، تحت الآیۃ:35-37، ص 1200، ملخصاً)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

”عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم قال یدخل اہل الجنۃ الجنۃ جردا مردا مکحلین ابناء ثلاث و ثلاثین“

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنتی اس حال میں داخل جنت ہوں گے کہ ان کے جسم پر( پلکوں،پھنووں اور سر کے بالوں کے علاوہ) نہ بال ہوں گے نہ داڑھی ہوگی، ان کی رنگت سفید ہوگی (خوبصورت) گھنگریالے بال ہوں گے اور انکھوں میں قدرتی طور پر سرمہ لگا ہوگا،سب کی عمر 33 سال ہوگی۔( مصنف ابن ابی شیبہ جلد 7 صفحہ 35 مکتبۃ العلوم والحکم المدینۃ المنورہ)

ان کے علاوہ درج ذیل کتب میں بھی 33 سال عمر ہونے کے متعلق احادیث مذکور ہیں:

صفۃ الجنہ لابن ابی دنیا(صفحہ 43 مکتبۃ العلم جدہ)

کتاب البعث لابن ابی داؤد (صفحہ 57 دارالکتب العلمیہ بیروت)

کتاب العظمۃ لابی الشیخ الاصبہانی (3/ 1097، دارالعاصمہ الریاض)

صفۃ الجنۃ لابی نعیم الاصبہانی (2/ 99 دار مأمون للتراث دمشق)

البعث والنشور للبیہقی (صفحہ 245 مرکز الخدمات والابحاث الثقافیہ بیروت)

بعض احادیث میں لکھا ہے کہ جنتیوں کی عمر 30 سال ہوگی، چنانچہ مسند احمد،جامع المسانید لابن الجوزی ،کتاب البعث والنشور للبیہقی ، مجمع الزوائد و منبع الفوائد اور تفسیر اللباب فی علوم الکتاب میں ہے، واللفظ للآخر:

”عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم قال یدخل اہل الجنۃ الجنۃ جردا مردا مکحلین ابناء ثلاثین“

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنتی اس حال میں داخل جنت ہوں گے کہ ان کے جسم پر( پلکوں،پھنووں اور سر کے بالوں کے علاوہ) نہ بال ہوں گے نہ داڑھی ہوگی، ان کی رنگت سفید ہوگی (خوبصورت) گھنگریالے بال ہوں گے اور انکھوں میں قدرتی طور پر سرمہ لگا ہوگا،سب کی عمر 30 سال ہوگی۔(تفسیر اللباب فی علوم الکتاب،ج18، ص403، دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)

دونوں طرح کی احادیث ذکر کر کے ان میں تطبیق ذکر کرتے ہوئے علامہ ابو محمد حسن بن علی شافعی(سال وفات 870ھ) اپنی کتاب “فتح القریب المجیب علی الترغیب و الترہیب” میں لکھتے ہیں:

”عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من مات من اہل الجنۃ من صغیر او کبیر یردون بنی ثلاثین سنۃ فی الجنۃ لا یزیدون علیھا ابدا وکذالک اھل النار فان کان ہذا محفوظا لم یناقض الحدیث الآخر:یدخل اہل الجنۃ الجنۃ جردا مردا مکحلین ابناء ثلاث و ثلاثین سنۃ. فان العرب اذا ذکرت عددا لہ نیف فان لھم طریقین تارۃ یذکرون النیف للتحریر و تارۃ یحذفونہ وہذا معروف فی کلامھم وخطاب غیر ھم من الامم“

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت (یعنی جنت کے حقدار بندوں میں سے) جو بھی چھوٹا یا بڑا فوت ہوگا تو جنت میں انہیں 30 سال کی عمر کا بنا دیا جائے گا ان کی عمر اس سے کبھی بھی زیادہ نہیں ہوگی اور اہل دوزخ کا بھی یہی معاملہ ہوگا اگر یہ روایت محفوظ ہے تو یہ اس دوسری روایت کے مخالف نہیں کہ جس میں یہ فرمایا ہے: جنتی اس حال میں داخل جنت ہوں گے کہ ان کے جسم پر نہ بال ہوں گے نہ داڑھی ہوگی، (خوبصورت) گھنگریالے بال ہوں گے اور انکھوں میں قدرتی طور پر سرمہ لگا ہوگا سب کی عمر 33 سال ہو گی۔ کیونکہ ایسا خاص و معین عدد کہ جو دہائی سے اوپر ایک سے تین تک کے عدد پر مشتمل ہو تو اس کو ذکر کرنے میں اہل عرب کے دو طریقے ہیں۔ ایک کہ تحقیق کے پیش نظر وہ دہائی سے اوپر کے عدد کو بھی باقاعدہ ذکر کرتے ہیں۔ اور دوسرا یہ ہے کہ وہ صرف دہائی ذکر کر دیتے ہیں اس کے اوپر ایک سے تین تک کے عدد کو ذکر نہیں کرتے،کلام عرب اور ان کے علاوہ دیگر اقوام کے باہم بات چیت کرنے میں یہ انداز مشہور و معروف ہے۔(فتح القریب المجیب علی الترغیب و الترہیب جلد 14 صفحہ 698 مکتبہ دارالاسلام الریاض)

علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 855ھ) نےحدیث عنبر کی شرح کرتے ہوئے “عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری” میں لکھا ہے:

”قولہ (نصف شھر)…وفی روایۃ ابی الزبیر فاقمنا علیھا شھرا، والجمع بین ھذہ الروایات:ان الذی قال ثمان عشرۃ ضبط ما لم یضبط غیرہ وان من قال نصف شھر ألغی الکسر الزائد وھو ثلاثۃ ایام“

ترجمہ راوی نے کہا :(اس مچھلی کو آدھے مہینے تک کھایا)اور ابو زبیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: تو ہم اس مچھلی پر ایک مہینہ ٹھہرے۔ اور ان روایات میں تطبیق یہ ہے کہ جنہوں نے اٹھارہ دن کہا تو انہوں نے سبھی کو بیان کیا جسے ان کے علاوہ نے بیان نہیں کیا اور جنہوں نے آدھا مہینہ یعنی 15 دن کہا تو انہوں نے اس سے زائد کسر( یعنی 15 کے بعد والے تین دن) کو ذکر نہ کیا۔( عمدۃ القاری کتاب المغازی باب غزوۃ سیف البحر جلد 18 صفحہ 16 دار احیاء التراث العربی بیروت)

حضرت ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 1014ھ) مرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں:

”فالصحیح ان عمرہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ثلاث و ستون،فمن قال ستین ألغی الکسر“

صحیح قول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 63 سال ہے اور جنہوں نے 60 سال کہا انہوں نے کسر کو ذکر نہ کیا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 9 صفحہ 3700 رقم:5782 دارالفکر بیروت)

واللّٰہ تعالی اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللّٰہ تعالی علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

محمد شاہد حمید قادری

26جمادی الاخری1445ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں