اگر منت بھول جائیں تو کیا شرعی حکم ہے؟

اگر منت بھول جائیں تو کیا شرعی حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیماری کی حالت میں صحت یاب ہونے کے لیے ایک منت مانی تھی۔ اللہ پاک کی رحمت سے میں صحت یاب ہو گیا۔ لیکن اب مجھے یاد نہیں آرہا کہ میں نے نماز ، روزہ، صدقہ وغیرہ میں سے کسی چیز کی منت مانی تھی۔ ظن غالب کرنے اور مسلسل کوشش سے بھی کچھ یاد نہیں آرہا۔ اس صورت میں کسی چیز سے اپنی منت پوری کروں ؟

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

صورتِ مسئولہ کا حکم ہے منت کو کسی شرط پر معلق کیا تھا وہ شرط پائی گئی تو اس منت کو پورا کرنا لازم ہوگا اور کسی کام کی منت مانی تھی مگریہ یاد نہیں آرہا کہ کس کام کی منت تھی اور گمانِ غالب بھی نہیں ہورہ، تو اس شخص پر قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا ۔

قسم کا کفارہ یہ ہے: ایک غلام آزاد کرنا، یا دس مسکینوں کو صبح و شام دو وقت کا کھانا کھلانا، مسکینوں کو کھانا کھلا کر قسم کا کفارہ دینا ہو تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جن دس مساکین کو صبح کھانا کھلایا انہی دس کو شام میں بھی کھلایا جائے۔ یا دس مسکینوں کو متوسط درجے کے کپڑے دینا۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ دس شرعی فقیروں میں سے ہر ایک کو الگ الگ ایک صدقہ فطر کی مقدار رقم دیں یا پھر ایک ہی شرعی فقیر کو روزانہ ایک ایک صدقہ فطر کی مقدار برابر رقم دے کر مالک بنایا جائے، یہ خیال رہے کہ دس صدقہ فطر کی رقم ایک ہی دن میں ایک ہی فقیر کو نہیں دے سکتے بلکہ دس فقیروں کو الگ الگ دینی ہو گی یا ایک شرعی فقیر کو الگ الگ دس دن تک۔ اگر مذکورہ امور میں سے کسی کی ایک کی بھی استطاعت نہ ہو تو لگاتار تین روزے رکھنے ہیں۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

”(و وجد الشرط) المعلق بہ (لزم الناذر) لحدیث”من نذر وسمی فعلیہ الوفاء بما سمی”(کصوم وصلاۃ وصدقۃ) ووقف (واعتکاف)“

یعنی جس شرط پر منت کو معلق کیا ہےاس کے پائے جانےکی صورت میں منت کو پورا کرنا لازم ہے، کیونکہ حدیث پاک میں ہے : جس نے کوئی منت مانی اور کسی چیز کے کرنےکو بیان کیا تو اس پر اس چیز کو پورا کرنا لازم ہے۔مثلاً نماز ،روزہ ،صدقہ ،وقف اور اعتکاف کی منت۔ ( تنویر الابصار مع الدر المختار ، کتاب الایمان ، ج05،ص538-537،مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

”ان علق النذر بشرط يريد كونه كقوله ان شفى اللہ مريضی او ردّ غائبی لايخرج عنه بالكفارة كذا فی المبسوط ويلزمه عين ما سمى“

یعنی اگر منت کو ایسی چیز پر معلق کیا جس کا ہونا چاہتا ہے، مثلاً: اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا بخشی یا میرا بِچھڑا واپس آگیا ،تو اس صورت میں کفارہ دے کر برئ الذمہ نہیں ہوسکتا، بلکہ جو منت مانی تھی اسی کا پورا کرنا لازم ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج2، ص65، مطبوعہ پشاور)

الاشباہ و انتظائر لابن نجیم میں ہے :

”شك في المنذور هل هو صلاة أم صيام، أو عتق، أو صدقة ينبغي أن تلزمه كفارة يمين أخذا من قولهم : لو قال: علي نذر فعليه كفارة يمين، لأن الشك في المنذور کعدم تسمیتہ “

ترجمہ : جس کے متعلق منت مانی ہے اس میں شک ہو جائے کہ وہ نماز تھی یا روزہ تھا، غلام کو آزاد کرنا تھا یا کچھ صدقہ کرنا تو ایسی صورت میں اس پر لازم ہے کہ وہ قسم کا کفارہ دے فقہائے کرام کے بیان کردہ اس مسئلے کی وجہ سے : اگر کسی نے کہا: مجھ پر منت لازم ہے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا کیونکہ منت میں شک ہونا، اس کو بیان نہ کرنے کی مثل ہے۔ (الاشباه والنظائر، صفحه 65، مطبوعہ کراچی)

بحر الرائق میں ہے:

” فلو لم یکن مسمی كقوله إن فعلت كذا فعلي تذر فإن نوى قربة من القرب التي يصح النذر بها نحو الحج والعمرة فعليه ما نوى، لأنه يحتمله لفظه فجعل ما نوى كالمنطوق به، وإن لم يكن له نية فعليه كفارة اليمين “

ترجمہ : اگر منت میں کچھ بھی بیان نہ کیا گیا ہو مثلا یہ کہنا کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو مجھ پر منت ہے ، اور اس نے ایسی نیکی کی نیت کی ہو جس کی منت درست ہو سکتی ہے جیسا کہ حج یا عمرے کی منت تو اس پر وہی لازم ہے جس کی اس نے نیت کی ہے کیونکہ لفظ اس کا احتمال رکھتا ہے لہذا اس لفظ کو نیت پر ہی محمول کیا جائے گا گویا اس نے یہی کہا ہے۔ اور اس اگر اس نے کوئی نیت بھی نہ کی ہو تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا۔ (بحر الرائق، جلد 04) ، صفحہ 322، دار الکتاب الاسلامی)

بہار شریعت میں قسم کے کفارہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

” قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اون کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہو گا اور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا او نھیں کو شام کے وقت بھی کھلائے دوسرے دس و امساکین کو کھلانے سے ادانہ ہو گا۔ اور یہ ہو سکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلا دے یا ہر روز ایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے۔ اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اباحت و تملیک دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جو یا ان کی قیمت کا مالک کر دے یا دس 10 روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روز بقدر صدقہ فطر دید یا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دیدے۔۔۔۔ کپڑے سے وہ کپڑا مراد ہے جو اکثر بدن کو چھپا سکے اور وہ کپڑا ایسا ہو جس کو متوسط درجہ کے لوگ پہنتے ہوں ۔۔۔۔ اگر غلام آزاد کرنے یا دس 10 مسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادر نہ ہو تو پے در پے تین روزے رکھے۔“ (بہار شریعت ، جلد02، صفحه305 تا 307، مكتبة المدینہ کراچی)

واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

بابر عطاری مدنی اسلام آباد

22جمادی الاخری1445ھ/ 4جنوری2024

اپنا تبصرہ بھیجیں