حنیف قریشی اور باغ فدک کے مسئلہ پر موجود حدیث

حنیف قریشی اور باغ فدک کے مسئلہ پر موجود حدیث

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ چند دن پہلے حنیف قریشی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ باغ فدک کے مسئلہ میں جو روایت ہے نبی علیہ السلام کا مال وراثت نہیں بنتا یہ حدیث صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے اور یہ بھی تو ممکن ہے کہ ان سے حدیث سننے میں خطاہوئی ہو۔اس بارے میں شرعی راہنمائی کی جائے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ چند دن پہلے حنیف قریشی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ باغ فدک کے مسئلہ میں جو روایت ہے نبی علیہ السلام کا مال وراثت نہیں بنتا یہ حدیث صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے اور یہ بھی تو ممکن ہے کہ ان سے حدیث سننے میں خطاہوئی ہو۔اس بارے میں شرعی راہنمائی کی جائے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

حنیف قریشی کا یہ بیان بالکل باطل اور سوائے رافضیوں کو خوش کرنے کے اس کی کوئی علمی حیثیت نہیں ہے۔دراصل یہ شیعوں کا پرانا اعتراض ہے جسے حنیف قریشی نے کاپی کرکے اہل سنت میں بھی شک و شبہات پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ ”جاگیر فدک “نامی کتاب میں شیعہ ذاکر غلام حسین نجفی نے لکھا ہے:

”جناب عائشہ کہتی ہیں : میراث نبی میں اصحاب نے اختلاف کیا تھا اور اس مسئلہ کے حکم کا علم کسی کے پاس نہیں تھا۔ پس ابوبکر نے کہا میں نے نبی سے سنا ہے ۔حضور نے فرمایا ہے : ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں اور جو ہم چھوڑ جائیں وہ (بھوکی امت پر)صدقہ ہے۔

نوٹ: مذکورہ چار عدد کتب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیثِ مذکور کا راوی صرف ابوبکر ہے اور جس حدیث کا راوی صرف ایک شخص ہو وہ خبر متواتر نہیں ہے۔“(جاگیر فدک،صفحہ308،سرپرست شعبہ تبلیغ و مدرس جامع المنتظر،لاہور)

شیعہ ذاکر کا حضرت عائشہ صدیقہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ کہنا کہ صحابہ کرام نے اس میں اختلا ف کیا تھا یہ صریح جھوٹ ہے۔باقی اہل تشیع اور حنیف قریشی کامدلل رد ملاحظہ ہو:

پہلی بات تو یہ ہے کہ خبر واحد حجت ہے اور کثیر احکام شرعیہ میں ایک صحیح حدیث ہی بنیاد ہے۔اگریہ باطل نظریہ بنالیا جائے کہ ہوسکتا ہے کہ صحابی سے سننے میں غلطی ہوئی ہو تو کئی احکامات ہی مشکو ک قرار پائیں گے۔

دوسری بات یہ ہے کہ نبی کا مال وراثت نہیں ہوتا یہ روایت فقط حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نہیں بلکہ دیگر بھی کئی صحابہ کرام سے ثابت ہے ،یہاں تک کہ شیعوں کی کتب میں بھی موجود ہے۔

خطیب بغدادی کہتے ہیں:

”وعلىٰ العمل بخبر الواحد کان کافة التابعین و من بعدهم من الفقهاء“

ترجمہ: تمام تابعین کرام﷭ اور تمام فقہاے عظام خبر واحد پر عمل کرتے رہے ہیں۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ ،صفحہ31، المكتبة العلمية،المدينة المنورة)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے”الرسالہ“ میں یہ عنوان قائم کیا ہے” الحجة في تثبیت خبر الواحد“ اس کے بعد فرماتے ہیں :

”فإن قال قائل: أذکر الحجة في تثبیت خبر الواحد بنصّ خبر أو دلالة فیه أو إجماع، فقلت له أخبرنا سفیان عن عبد الملك بن عمیر عن عبد الرحمٰن بن عبد الله بن مسعود عن أبیه أن النبي ﷺ قال: «نضر الله عبدًا سمع مقالتی فحفظها ووعاها و أداها فرُبّ حامل فقه غیر فقیه و ربّ حامل فقه إلىٰ من هو أفقه منه“

ترجمہ:اگر کوئی شخص خبر واحد کی حجیت پر نص یا اجماع سے دلیل طلب کرے تو میں اسے دلیل دیتے ہوئے کہوں گا کہ نبی ﷺ نےفرمایا ہے: اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرّم رکھے جو میری کلام سن کر اسے حفظ کرتا ہے او رپھر یاد کی ہوئی میری حدیث کو لوگوں تک پہنچاتا ہے اوربہت سے حامل فقہ خود غیر فقیہ ہوتے ہیں اور بہت سے حامل فقہ ایسے لوگوں تک علم پہنچا دیتے ہیں جو اُن سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں۔ (الرسالۃ،صفحہ401، مكتبه الحلبي، مصر)

شیعوں کے نزدیک بھی خبر واحد حجت ہوتی ہے چنانچہ شیعوں کی ویب سائیٹ پرلکھا ہے:

” خبر واحد کے مختلف اقسام ہیں جن میں سے چار اصلی اقسام یوں ہیں: حدیث صحیح، حدیث حَسَن، حدیث مُوَثَّق اور حدیث ضعیف۔

خبر واحد کی حُجّیّت (معتبر ہونا) علم اصول فقہ کے اہم مسائل میں سے ہے۔ متقدم فقہاء کے ایک گروہ کے علاوہ تمام شیعہ علماء خبر واحد کو احکام شرعی میں معتبر سمجھتے ہیں لیکن اس کے شرائط میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔

بعض فقہاء جیسے آیت‌اللہ خویی اور آیت‌اللہ معرفت خبر واحد کو اعتقادات میں بھی حجت سمجھتے ہیں؛ لیکن اکثر فقہاء اس نظریے کے مخالف ہیں۔۔۔۔آخوند خراسانی کے مطابق خبر واحد کی حجیت کا مسئلہ علم اصول فقہ کے اہم مسائل میں سے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام(علیہ السلام) اور ائمہ معصومین(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے نقل شدہ اکثر احادیث خبر واحد ہیں لہذا احکام شرعی کے استنباط میں عموما خبر واحد سے ہی مدد لی جاتی ہے۔“

(http://alhassanain.org/urdu/?com=content&id=1547)

انبیاء کا مال وراثت نہیں ہوتا یہ حدیث کن صحابہ کرام سے مروی ہے اس کا ذکر جامع ترمذی میں یوں ہے

” عن أبي هريرة قال: جاءت فاطمة إلى أبي بكر، فقالت: من يرثك؟ قال: أهلي، وولدي، قالت: فما لي لا أرث أبي؟ فقال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا نورث»، ولكني أعول من كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوله، وأنفق على من كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفق عليه: وفي الباب عن عمر، وطلحة، والزبير، وعبد الرحمن بن عوف، وسعد، وعائشة وحديث أبي هريرة حديث حسن غريب “

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئیں اور پوچھا : آپ کے وارث کون ہیں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میری اہلیہ اور میری اولاد۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا :پھر میں اپنے والد کی وارث کیوں نہیں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: ہم انبیا علیہم ا لسلام وارث نہیں بناتے۔لیکن میں انہی کی کفالت کروں جن کی حضور علیہ السلام کفالت کرتے تھے اور میں بھی اس پر خرچ کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خرچ کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت عمر،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد،حضرت عائشہ صدیقہ اور رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایات مروی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی یہ حدیث حسن غریب ہے۔(سنن الترمذي،جلد4،صفحہ157،شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي،مصر)

مسند احمد میں ہے

” عن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إنا لا نورث، ما تركنا صدقة “

ترجمہ:حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء علیہم السلام وارث نہیں بناتے ۔ہم نے جو مال چھوڑا وہ صدقہ ہے۔(مسند الإمام أحمد بن حنبل، باب ما جاء في تركة رسول الله صلى الله عليه وسلم، مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه،جلد1،صفحہ417،مؤسسة الرسالة،بیروت)

مسند البزار میں ہے

” عن حذيفة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا نورث ما تركنا صدقة» “

ترجمہ:حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء وارث نہیں بناتے جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔(مسند البزار، أبو مالك عن ربعي، عن حذيفة،جلد7،صفحہ262،مكتبة العلوم والحكم،المدينة المنورة)

المعجم الاوسط کی حدیث پاک ہے” عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنا لا نورث، ما تركنا صدقة» “

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء وارث نہیں بناتے جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ (المعجم الأوسط، باب الفاء من اسمه: الفضل،جلد5،صفحہ 157،دار الحرمين،القاهرة)

مسلم شریف کی حدیث پاک ہے

” عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا نورث ما تركنا صدقة» “

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء وارث نہیں بناتے جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ (صحیح مسلم، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: «لا نورث ما تركنا فهو صدقة»،جلد3،صفحہ1383، دار إحياء التراث العربي،بيروت)

مسند احمد میں ہے

” عن مالك بن أوس، قال:سمعت عمر يقول لعبد الرحمن بن عوف، وطلحة، والزبير، وسعد: نشدتكم بالله الذي تقوم السماء والأرض به، أعلمتم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” إنا لا نورث، ما تركنا صدقة “؟ قالوا: اللهم نعم “

ترجمہ:حضرت مالک بن اوس رضٰ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے سنا کہ آپ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف،طلحہ،زبیر اور سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: قسم دیتاہوں میں تم کو اس خدا کی جس کے ساتھ آسمان و زمین قائم ہیں۔تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہمارا مال وراثت نہیں ،جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔سب نے کہا ہاں ایسا ہی فرمایا ہے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل، مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه،جلد1،صفحہ306،مؤسسة الرسالة،بیروت)

مسند ابو داؤد طیالسی کی حدیث میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے موجود ہونے کا بھی ذکر ہے

” عن أبي البختري، قال: سمعت من رجل حديثا فأعجبني فقلت: اكتبه فأتاني به مكتوبا مزبرا قال: دخل علي والعباس على عمر وعنده عبد الرحمن بن عوف، والزبير بن العوام وسعد بن أبي وقاص فقال: أنشدكم بالله أولم تسمعوا أولم تعلموا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كل مال النبي صلى الله عليه وسلم صدقة إلا ما أطعمه أهله وكساهم إنا لا نورث» ، قالوا: بلى “

(مسند أبي داود الطيالسي، أحاديث عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه،جلد1،صفحہ182، دار هجر ،مصر)

صحیح بخاری کی ایک حدیث حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے

”قال عمر اتئدوا أنشدکم باللہ الذی بإذنہ تقوم السماء والأرض، ہل تعلمون أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(لا نورث ما ترکنا صدقۃ) یرید بذلک نفسہ قالوا: قد قال ذلک، فأقبل عمر علی عباس، وعلی فقال أنشدکما باللہ، ہل تعلمان أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد قال ذلک قالا:نعم“

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے سامنے فرمایا:قسم دیتاہوں میں تم کو اس خدا کی جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے۔تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہمارا مال وراثت نہیں ،جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔سب نے کہا ہاں ایسا ہی فرمایا ہے۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بھی کہا کہ تم کو رب تعالیٰ کی قسم ہے کیا تم جانتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے؟حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: ہاں ۔ (صحیح بخاری،کتاب المغازی،باب حدیث بنی النضیر،جلد5،صفحہ89،دار طوق النجاۃ ،مصر)

یہی روایت شیعوں کی کتاب(شرح نھج البلاغۃ،الفصل الاول،فیماوردمن الاخبارو السیرالمنقولۃمن افواہ اھل الحدیث وکتبھم،جلد17،صفحہ327،دارالکتاب الغربی،بغداد) میں موجود ہے۔

صحیح ابن حبا ن میں یہ عنوان قائم کیا گیا

” ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن قوله صلى الله عليه وسلم: «لا نورث، ما تركنا صدقة» تفرد به الصديق رضي الله عنه، وقد فعل “ترجمہ:پھسلنے والی خبر کا ذکر اس شخص کے متعلق جس نے یہ گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان: ”ہم کسی چیز کے وارث نہیں بناتے، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے۔“ اس حدیث کے راوی حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ تنہا ہیں اور انہوں نے ایسا کیا۔

پھر اس کے تحت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی وہ طویل حدیث پاک روایت کی جس میں کثیر صحابہ کرام کی تصدیق تھی

” أخبرنا محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، بعسقلان، حدثنا ابن أبي السري، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزهري، أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان، قال: أرسل إلي عمر بن الخطاب، فقال: إنه قد حضر المدينة أهل أبيات من قومك، وإنا قد أمرنا لهم برضخ، فاقسمه بينهم، فقلت: يا أمير المؤمنين مر بذلك غيري، فقال: اقبض أيها المرء، قال: فبينا أنا كذلك إذ جاءه مولاه يرفأ، فقال: هذا عثمان، وعبد الرحمن بن عوف، وسعد بن أبي وقاص، والزبير بن العوام، قال: ولا أدري أذكر طلحة أم لا، يستأذنون عليك، قال: ائذن لهم، قال: ثم مكث ساعة ثم جاء، فقال: العباس، وعلي يستأذنان عليك، فقال: ائذن لهما، فلما دخل العباس قال: يا أمير المؤمنين، اقض بيني وبين هذا هما حينئذ يختصمان فيما أفاء الله على رسوله من أموال بني النضير فقال القوم: اقض بينهما يا أمير المؤمنين، وأرح كل واحد منهما من صاحبه، فقد طالت خصومتهما، فقال عمر: أنشدكما الله الذي بإذنه تقوم السماوات والأرض، أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا نورث، ما تركنا صدقة»، قالوا: قد قال ذاك، ثم قال لهما مثل ذلك، فقالا: نعم، قال: فإني أخبركم عن هذا الفيء إن الله جل وعلا خص نبيه صلى الله عليه وسلم بشيء لم يعطه غيره، فقال: {وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب} ، فكانت هذه لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة، والله ما حازها دونكم ولا استأثرها عليكم، لقد قسمها بينكم، وبثها فيكم حتى بقي ما بقي من المال، فكان ينفق على أهله سنة، وربما قال معمر: يحبس منها قوت أهله سنة، ثم يجعل ما بقي مجعل مال الله، فلما قبض الله رسوله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر: أنا أولى برسول الله صلى الله عليه وسلم بعده، أعمل فيها ما كان يعمل، ثم أقبل على علي، والعباس قال: وأنتما تزعمان أنه كان فيها ظالما فاجرا، والله يعلم أنه صادق بار تابع للحق، ثم وليتها بعد أبي بكر سنتين من إمارتي، فعملت فيها بمثل ما عمل فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر، وأنتما تزعمان أني فيها ظالم فاجر، والله يعلم أني فيها صادق بار تابع للحق، ثم جئتماني، جاءني هذا يعني العباس يبتغي ميراثه من ابن أخيه، وجاءني هذا يعني عليا يسألني ميراث امرأته، فقلت لكما: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا نورث، ما تركنا صدقة»، ثم بدا لي أن أدفعه إليكما، فأخذت عليكما عهد الله وميثاقه لتعملان فيها بما عمل فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وأنا ما وليتها، فقلتما: ادفعها إلينا على ذلك، تريدان مني قضاء غير هذا، والذي بإذنه تقوم السماوات والأرض، لا أقضي بينكما فيها بقضاء غير هذا، إن كنتما عجزتما عنها، فادفعاها إلي، قال فغلب علي عليها، فكانت في يد علي، ثم بيد حسن بن علي، ثم بيد حسين بن علي، ثم بيد علي بن حسين، ثم بيد حسن بن حسن، ثم بيد زيد بن حسن، قال معمر: ثم كانت بيد عبد الله بن الحسن“(صحیح ابن حبان، باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم،جلد14،صفحہ575، مؤسسة الرسالة ، بيروت)

خود شیعہ ذاکرابن ابی حدید نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ میں روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں

”ارسل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عثمان بن عفان الی بکر یسال لھن میراثھن من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مما افاء اللہ علیہ حتی کنت اردھن عن ذلک فقلت الا تتقین اللہ ، الم تعلمن ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یقول : لا نورث ماترکناہ صدقۃ،یرید بذلک نفسہ انما یاکل آل محمد من ھذا المال فانتھی ازواج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی ما امرتھن بہ“

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے حضرت عثمان بن عفان کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوجو مال فے اللہ عزوجل نے عطاکیا ان میں سے ہمیں میراث دینے کے حوالے سے بات کریں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان ازواج کو روکا اور کہا کہ تم اللہ عزوجل سے ڈرتی نہیں ہو! کیا تم نہیں جانتیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کسی کو وارث نہیں بناتے،ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ اس فرمان سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام اپنی ذات مراد لیتے تھے۔آل محمد اس مال میں سے کھاتے ہیں۔ تو ازواج مطہرات اس بات کو سن کر رک گئیں۔(شرح نہج البلاغۃ،الفصل الاول ،فیما ورد من الاخبار و السیر المنقولۃ من افواہ اہل الحدیث و کتبھم،جلد17،صفحہ328، دارالکتاب الغربی،بغداد)

شیعوں کی معتبر ترین کتاب اصول کافی میں ہے

”عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال قال رسول اللہ صلی للہ تعالی علیہ وسلم ان العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثودینارا ولا درہما ولکن اور ثو العلم فمن اخذہ منہ اخذ بحظ وافر“

ترجمہ:ابو عبدا للہ حضرت امام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں ۔انبیاء علیہم السلام دینار اور دراہم کا وارث نہیں بناتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں ۔تو جس شخص نے علم دین حاصل کرلیا اس نے بہت کچھ حاصل کرلیا ۔

مزید اصول کافی میں ہے

”عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال ان العلماء ورثۃ الانبیاء وذالک ان ا لانبیاء لم یورثو درہما ولا دینارا وانما اورثو احادیث من احادیثہم فمن اخذہ بشیء منہ فقد اخذ حظا وافرا“

ترجمہ:حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ علمائے کرام انبیائے عظام کے وارث ہیں اور یہ اس لئے کہ حضرات انبیائے کرام نے کسی کو درہم و دینار کا وارث نہیں بنایا انہوں نے تو صرف اپنی باتوں کا وارث بنایا۔ تو جس شخص نے ان کی باتوں کو حاصل کر لیا اس نے بہت کچھ حاصل کیا۔(الشافی ترجمہ اصول کافی،جلد1،صفحہ71،ظفر شمیم پبلی کیشنز ٹرسٹ،کراچی)

پیر مہر علی شاہ صاحب اپنی کتاب”تصفیہ مابین سنی وشیعہ “ میں شیعوں کا اعتراض نقل کرتے ہیں:”حدیث شریف ”نحن معاشر الانبیاء “کاراوی صرف ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہی ہے ،لہذا بوجہ خبر واحد یعنی صرف ایک شخص کے روایت کرنے کے اس میں وہ قوت نہیں کہ قرآن کریم کے عموم کو توڑ دے۔چنانچہ مسلمہ قضیہ ہے کہ قرآن کریم کی تخصیص اس حدیث کے ساتھ جس کا راوی ایک ہو جائز نہیں۔“

جوابا پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”اس حدیث کے راوی اکیلے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نہیں بلکہ اور لوگ بھی ہیں۔ کُتبِ صحاح ملاحظہ ہوں۔ اسی وجہ سے یہ حدیث مجتمع علیہا ہے۔ امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن میں سے کسی نے اسے سننے کے بعد مطالبہ میراث پر اصرار نہ کیا اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا نے۔ اور تمام خلفاء اربعہ کے عہد میں اسی حدیث پر عمل رہا۔ حتی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی اپنے عہد خلافت میں اس میں ذرہ بھر تغیر نہیں کیا۔ تاہم بالفرض اگر اس کے راوی صرف صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہوں تو یہ بھی حدیث بوجہ سامعین میں سے کسی کے انکار نہ کرنے کے یعنی بباعث اجماع سکوتی کے حد تواتر اور قطعیت تک پہنچتی ہے اور آیت کا یہ مفہوم کہ اس میں عام مخصوص البعض ہے ظنی ٹھہرا کیونکہ س کے عموم سے متوفی کے قاتل اور کافر رشتہ دار اور مملوک غلام کو بھی ایسے دلائل کی بنا پر جو حدیث ”نحن معاشرا الانبیاء“ سے کم وزنی ہیں مخصوص کیا گیا ہے اور یہ مسلمہ امر ہے کہ ظنی دلیل قطعی دلیل سے معارضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتی۔“(تصفیہ مابین سنی وشیعہ، صفحہ42،پاکستان انٹرنیشنل پرنٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ،لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری

16جمادی الآخر 1445ھ30دسمبر 2023ء

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری

16جمادی الآخر 1445ھ30دسمبر 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں