نکاح میں وکیل کا آگے کسی اور کو وکیل بنانا

نکاح میں وکیل کا آگے کسی اور کو وکیل بنانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ کیا عورت کے نکاح کا وکیل کسی اور کو نکاح پڑھانے کی اجازت دے سکتا ہے؟ کئی مرتبہ ہوتا ہے کہ دلہن سے نکاح کی اجازت کوئی رشتہ دار لیتا ہے اور آگے آکر قاری صاحب کو نکاح پڑھانے کا کہہ دیتا ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس قاری صاحب نے نکاح پڑھانا ہو کوئی رشتہ دار دلہن کے پاس جاکر اس قاری کے نام کی اجازت لے کہ فلاں قاری آپ کا نکاح اتنے حق مہر پر پڑھا دے،جب دلہن نکاح کی اجازت دے تو یہ قاری دلہن کا وکیل بن گیا اور اب یہ دولہے سے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کروائے۔

باقی نکاح کے وکیل کے لیے کسی دوسرے کو اپنے مؤکل یا مؤکلہ کے نکاح کا وکیل بنا دینے کی شرعاً مطلق طور پر اجازت تو نہیں، البتہ یہ اس شرط پر جائز ہے کہ مؤکل یا مؤکلہ نے اپنے وکیل کو صراحۃً یا دلالۃً اس بات کی اجازت دی ہو کہ وہ چاہے تو خود نکاح کر دے چاہے تو کسی دوسرے کو وکیل بنا دے اور پھر وہ اس کا نکاح پڑھائے۔ صراحۃً اجازت تو یوں کہ بول کر اجازت دے دی مثلاً: “میں نے فلاں بن فلاں کو اپنے نکاح کا وکیل مطلق بنایا” یعنی خواہ وہ خود میرا نکاح فلاں بن فلاں کے ساتھ کر دے یا کسی اور کو وکیل بنادے کہ وہ میرا نکاح کر دے۔دلالۃً اجازت یوں کہ وہاں اس علاقے میں یہ عام عرف و رواج ہو کہ جب مؤکل یا مؤکلہ کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بغیر کسی مخصوص شرط کے بنائیں تو اس سے مراد وکالتِ مطلقہ ہوتی ہو، یعنی عام مشہور ہو اور(بشمول مؤکل) سب جانتے ہوں کہ وکیل خود بھی نکاح پڑھا سکتا ہے اور کسی دوسرے سے بھی پڑھوا سکتا ہے۔

یاد رہے! اگر وکیل کے لیے توکیل (کسی دوسرے شخص کو نکاح کا وکیل بنانے) کی اجازت نہیں تھی، نہ صراحۃً نہ دلالۃً، اور اس نے کسی دوسرے کو وکیل بنا دیا تو ایسی صورت میں اس دوسرے وکیل کے ذریعے پڑھایا جانے والا نکاح صحیح قول کے مطابق”نکاحِ فضولی“ ہوا، یعنی بلا اذنِ مؤکل (یعنی مؤکل یا مؤکلہ کی اجازت کے بغیر) ہونے کے باعث اس مؤکل یا مؤکلہ کی اجازت پر موقوف رہے گا اگرچہ اصل وکیل نکاح کی مجلس میں حاضر رہا ہو۔ لہذا اگر اصل مؤکل یا مؤکلہ اس نکاح کو جائز قرار دے دیں تو یہ نکاح نافذ ہو جائے گا۔ یوں ہی موجودہ دور میں مفتیٰ بہ قول کے مطابق وکیل اول (جسے بذاتِ خود کسی دوسرے کو وکیل بنانے کی اجازت نہیں تھی، اور اس نے کسی دوسرے کو وکیل بنا دیا اور اس دوسرے نے نکاح پڑھا دیا، تو اصل وکیل) کے اس نکاح کو جائز قرار دے دینے سے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔

علامہ ابو الحسن علی بن ابی بكر الفرغانی المرغينانی﷫(المتوفى: 593ھ/1197ء) لکھتے ہیں:

” وليس للوكيل أن يوكل فيما وكل به إلا أن يأذن له الموكل أو يقول له اعمل برأيك “

ترجمہ: اور وکیل کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کسی دوسرے کو اس بات کا وکیل بنائے جس کی وکالت اس کے سپرد کی گئی مگر یہ کہ مؤکل اسے کسی دوسرے کو وکیل بنانے کی اجازت دے دے یا اسے یہ کہہ دے کہ اپنی رائے کے مطابق (جیسا چاہو) عمل کرو۔(بداية المبتدي، ‌‌كتاب الوكالة، صفحه نمبر 162، مطبوعه: مكتبة ومطبعة محمد علي صبح ، القاهرة)

اس کے تحت ہدایہ شرح بدایہ میں آپ ﷫ لکھتے ہیں:

” (أو يقول له اعمل برأيك) لإطلاق التفويض إلى رأيه، وإذا جاز في هذا الوجه يكون الثاني وكيلا عن الموكل“

ترجمہ: (یا وکیل کا کسی دوسرے کو وکیل بنانا اس صورت میں جائز ہوگا جبکہ مؤکل وکیل سے یہ کہے کہ تم اپنی رائے کے مطابق جیسا چاہو عمل کرو) کیونکہ اس صورت میں اس کی رائے کی طرف (مذکورہ بات کی ) سپردگی مطلق ہے، اور جب اس صورت میں وکیل کا کسی دوسرے کو وکیل بنانا جائز ہوا تو وہ دوسرا وکیل مؤکل ہی کی طرف سے وکیل ہوگا۔(الهدایة شرح بدایة، کتاب الوکالۃ، جلد نمبر 3، صفحه نمبر 148، مطبوعه: دار احیاء التراث العربي، بیروت)

شیخ الإسلام والمسلمین امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان﷫ (المتوفی: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:

”وکیل بالنکاح کو شرعاً اتنا اختیار ہے کہ خود نکاح پڑھائے نہ کہ دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے جب تک ماذونِ مطلق یا صراحۃً دوسرے کو وکیل کرنے کا مجاز نہ ہو بغیر اس کے اگر اس نے دوسرے سے پڑھوایا توصحیح مذہب پر نکاح بلااذن ہوگا اگرچہ عقد اس (وکیل) کے سامنے ہی واقع ہو۔… بہر حال مذہب راجح پر یہ نکاح نکاح فضولی ہوتے ہیں اور نکاح فضولی کو مذہب حنفی میں باطل جاننا محض جہالت وفضول بلکہ باجماع ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہم منعقد ہوجاتا ہے اور اجازت اصیل پر (کہ یہاں وہ عورت ہے جس کے لیے بے اذن اس کا نکاح غیر وکیل نے کردیا) موقوف رہتا ہے اگر وہ اجازت دے نافذ ہوجائے اور رد کردے تو باطل۔ … پھر اجازت جس طرح قول سے ہوتی ہے مثلاً عورت خبرنکاح سن کرکہے میں نے جائز کیا، یا اجازت دی، یا راضی ہوئی، یا مجھے قبول ہے، یا اچھا کیا، یا خدا مبارک کرے، الٰی غیر ذٰلک من الفاظ الرضا (علاوہ ازیں تمام وہ الفاظ جو رضا مندی پر دلالت کرتے ہیں ) یوں ہی اس فعل یا حال سے بھی ہو جاتی ہے جس سے رضامندی سمجھی جائے مثلاً عورت اپنا مہر مانگے، یا نقد طلب کرے، یا مبارکباد لے، یا خبر نکاح سن کر خوشی سے ہنسے، یا مسکرائے، یا اپنا جہیز شوہر کے گھر بھجوائے، یااس کا بھیجا ہوا مہر لے لے، یا اسے بلا جبر واکراہ اپنے ساتھ جماع یا بوس وکنار ومساس کرنے دے، یا تنہا مکان میں اپنے ساتھ خلوت میں آنے دے، یا اس کے کام خدمت میں مشغول ہو جبکہ نکاح سے پہلے اس کی خدمت نہ کیا کرتی ہو، ونحو ذلک من کل فعل یدل علی الرضا (اوریونہی اس قسم کے تمام وہ افعال جو رضا مندی پر دلالت کرتے ہیں۔ ) ان سب صورتوں میں وہ نکاح کہ موقوف تھا جائز ونافذ ولازم ہوجائے گا۔ … جب یہ طریقہ نکاح ہمارے بلاد میں عام طورپر رائج اور معلوم ہے کہ وکیل خود نہ پڑھائے گا بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو کہہ سکتے ہیں کہ ضمن اذن میں دوسرے کو اذن دینے کا بھی عرفاً اذن مل گیا، فان المعروف کا لمشروط کما ھو من القواعد المقررۃ والفقھیۃ (جیسا کہ فقہی قواعد میں سے ہے کہ معروف مشروط ہی کی طرح ہوتا ہے (یعنی عرف میں مقررہ امور بغیر ذکر کے بھی معتبر ہوں گے۔)) اور وکیل کو جب اذنِ تو کیل ہوتو بیشک اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے، فی الاشباہ لایوکل الوکیل الاباذن اوتعمیم الخ (الاشباہ میں ہے کہ کوئی وکیل اپنا نائب وکیل مؤکل کی اجازت یا عمومی اختیار کے بغیر نہیں بنا سکتا ۔ ) اس تقدیر پر یہ نکاح سرے سے نافذ ولازم واقع ہوا جس کی تنفیذ میں ان تدقیقات کی اصلاً حاجت نہ رہی مگریہ جب ہی کہہ سکیں گے کہ اس طریقہ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اورجانتی ہوں کہ وکیل خو د نہ پڑھائے گا دوسرے سے پڑھوائے گا، والالم یکن معروفا عند ھن فلایجعل کالمشروط فی حقہن …(ورنہ یہ لڑکیوں کے ہاں معروف نہیں ہوگا اس لیے ان کے حق میں مشروط کی طرح نہ ہوگا۔)یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ وکیلِ اصلی نے بعد نکاح کوئی کلمہ ایسانہ کہا جو اس نکاح کی اجازت ٹھہرے ورنہ خود اسی کے جائز کرنے سے جائز ہوجائے گا اگرچہ اسے اذن توکیل اصلاً نہ ہو، فی الاشباہ الوکیل اذا وکل بغیر اذن وتعمیم واجاز مافعلہ وکیلہ نفذ الاالطلاق والعتاق (اشباہ میں ہے کہ اگر موکل کی اجازت کے بغیر یا عمومی اختیار حاصل کئے بغیر وکیل نے از خود دوسرا وکیل بنا لیا اور دوسرے وکیل کے کیے ہوئے عمل کو پہلے وکیل نے جائز قراردیا تویہ عمل نافذ ہوجائے گا، ماسوائے طلاق اور عتاق کہ ان میں نافذ نہ ہوگا۔)حموی میں ہے: وکذا لو عقد اجنبی فاجاز الاول( یوں ہی اگر وکیل کے لیے کسی اجنبی نے عمل کیا پس وکیل نے اسے جائز قرار دے دیا۔ )غرض ہر طرح پیش از جماع ان نکاحوں کے نافذ اور لازم ہونے میں شبہہ نہیں تو اولاد قطعا اولاد حلال اور بالفرض ان باتوں سے قطع نظر کیجئے اور بتقدیر باطل ہی مان لیجئے کہ اصلا ان امور سے کچھ واقع نہیں ہوتا تاہم جب ان بلاد میں عام مسلمین کو اس میں ابتلا ہے تو راہ یہ تھی کہ اس روایت پر عمل کریں جسے امام عصام نے اپنے متن میں اختیار فرمایا اور امام فقیہ النفس قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی اور زاہدی نے قنیہ میں ا س پر جزم کیا اور علامہ سیدی احمد طحطاوی نے اس کی تائید کی یعنی وکیل بالنکاح جب دوسرے کو نکاح پڑھانے کی اجازت دے اور وہ اس کے سامنے پڑھادے تو نکاح جائز و نافذ ہوجائے گااگرچہ وکیل کواذن توکیل نہ ہو۔“(فتاوی رضویة، کتاب النکاح، جلد نمبر 11، صفحه نمبر 143، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاهور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی ﷫ (المتوفی: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں:

”یہ جو تمام ہندوستان میں عام طور پر رواج پڑا ہوا ہے کہ عورت سے ایک شخص اذن (اجازت)لے کر آتا ہے جسے وکیل کہتے ہیں، وہ نکاح پڑھانے والے سے کہہ دیتا ہے میں فلاں کا وکیل ہوں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ نکاح پڑھا دیجئے۔ یہ طریقہ محض غلط ہے۔ وکیل کو یہ اختیارنہیں کہ اُس کام کے ليے دوسرے کو وکیل بنا دے، اگر ایسا کیا تو نکاح فضولی ہوا اجازت پر موقوف ہے، اجازت سے پہلے مرد و عورت ہر ایک کو توڑ دینے کا اختیار حاصل ہے بلکہ یوں چاہيے کہ جو پڑھائے وہ عورت یا اُس کے ولی کا وکیل بنے (یا پھر عورت کا وکیل اس بات کی بھی اجازت حاصل کرے کہ وہ نکاح پڑھانے کے لیے دوسرے کو وکیل بناسکتا ہے۔) خواہ یہ خود اُس کے پاس جا کر وکالت حاصل کرے یا دوسرا اس کی وکالت کے ليے اذن لائے کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کو تُو نے وکیل کیا کہ وہ تیرا نکاح فلاں بن فلاں بن فلاں سے کر دے۔ عورت کہے: ہاں۔“ (بہار شریعت، جلد نمبر 2، حصہ نمبر 7،صفحه نمبر 13-14، مطبوعه: مکتبة المدینہ، کراچی)

فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی ﷫ (المتوفی: 1423ھ/2001ء) لکھتے ہیں:

” اگر لڑکی نے اجازت طلب کرنے والے کو نکاح کا وکیل بنایا مگر وکیل نے خود نکاح پڑھانے کے بجائے دوسرے کو نکاح پڑھانے کی اجازت دی تو اس صورت میں بیشک نکاح فضولی ہوا اس لئے کہ وکیل کو اختیار نہیں کہ اس کام کے لئے وہ دوسرے کو وکیل بنائے۔ …مگر جب کہ اس علاقہ میں یہ بات مشہور و معروف ہو کہ وکیل خود نہ پڑھائے گا بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو اذن کے ضمن میں دوسرے کو بھی اذن دینے کا عرفاً اذن مل گیا، فان المعروف کا لمشروط کما ھو من القواعد المقررۃ والفقھیۃ (جیسا کہ فقہی قواعد میں سے ہے کہ معروف مشروط ہی کی طرح ہوتا ہے) اور وکیل کو جب اذن تو کیل ہو تو بیشک اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے … اس تقدیر پر نکاح فضولی نہ ہوا بلکہ نافذ اور لازم واقع ہوا۔ مگر یہ اسی صورت میں ہو گا جبکہ اس طریقۂ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اور جانتی ہوں کہ وکیل خود نہ پڑھائے گا دوسرے سے پڑھوائے گا، والا لم یکن معروفًا عندھن فلایجعل کالمشروط فی حقھن (اور اگر یہ بات ان کے نزدیک معروف و مشہور نہیں تو ان کے حق میں مشروط نہیں بنے گی۔) یہ سب اس صورت میں ہے کہ وکیل اصلی نے نکاح کے بعد کوئی ایسا کلمہ نہ کہا جس سے اس نکاح کی اجازت ٹھہرے ورنہ خود اسی کے جائز کر دینے سے جائز ہو جائے گا اگرچہ اسے اذن توکیل نہ ہو ۔“(فتاوی فیض الرسول، جلد نمبر 01، صفحه نمبر 506-507، مطبوعه: اکبر بک سیلرز لاہور)

و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا احمد رضا عطاری حنفی

5 جمادی الآخر 1445ھ / 19 دسمبر 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں