غلام یسین نام رکھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ غلام یسین نام رکھنا شرعا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق یس اور طہ نام رکھنے کی اجازت نہیں ہے کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور ان کے معانی سے ہم واقف نہیں ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ بعض نے کہا کہ یہ اسمائے الہٰیہ میں سے ہے اور بعض نے کہا کہ یہ اسمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا نام ہو سکتا ہے کہ جس کا استعمال صرف آپ کے ساتھ خاص ہو۔ اعلی حضرت امام احمد ضا خان رحمۃ اللہ علیہ یسین حضور علیہ السلام کے نام ہونے کو ترجیح دی ہے۔ البتہ اگر یسین نام کے علاوہ غلام یسین نام کوئی رکھ لے تو اس میں حرج نہیں جس طرح غلام نبی وغیرہ نام رکھنا درست ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
یٰسٓ(1)وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِ(2)
ترجمہ کنزالایمان:یٰسٓ ۔ حکمت والے قرآن کی قسم ۔(سورۃ یس، پارہ 22 ،آیت 2 1 ،)
امام ابوبکر ابن العربی فرماتے ہیں:
”روی اشھب عن مالک لایتسمی احد بیٰسن لانہ اسم اللہ وھوکلام بدیع وذلک ان العبد یجوزلہ ان یسمی باسم الرب اذاکان فیہا معنی منہ کعالم وقادر وانما منع مالک من التسمیۃ بھٰذا الاسم لانہ الاسماء التی لایدری مامعناھا فربما کان ذٰلک معنی یتفرد بہ الرب تعالٰی فلاینبغی ان یقدم علیہ من لایعرف لمافیہ من الخطر فاقتضی النظرالمنع منہ“
ترجمہ:اشہب نے مالک سے روایت کی ہے کہ کوئی شخص بھی یٰس نام نہ رکھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کانام ہے اور یہ نادرکلام ہے، یہ اس لئے کہ بندے کے لئے جائز ہے کہ رب کے نام پراپنا نام رکھے جبکہ اس میں وہ معنی پایاجائے جیسے عالم، قادر وغیرہ، اورامام مالک نے یہ نام رکھنے سے اس لئے منع فرمایا کہ یہ ان اسماء سے ہے جن کے معنی معلوم نہیں، ہوسکتاہے اس کا وہ معنی ہوجو رب تعالیٰ کے لئے خاص اور منفردہو، لہٰذا مناسب نہیں کہ یہ نام رکھاجائے جبکہ اس کے ممنوع معنٰی معلوم ہی نہ ہوں پس نظر اور احتیاط کاتقاضا یہی کہ نام رکھنے سے منع کیاجائے۔(نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض، بحوالہ ابوبکر ابن العربی، فصل فی اسمائہٖ، ج2، ص390، درالکفر بیروت)
تفسیر روح المعانی میں ہے:
”وظاهر كلام بعضهم كابن جبير أن يس بمجموعه اسم من أسمائه عليه الصلاة والسلام وهو ظاهر قول السيد الحميري: …
ولتسميته صلى الله عليه وسلم بهذين الحرفين الجليلين سر جليل عند الواقفين على أسرار الحروف“
ترجمہ:اور بعض جیسا کہ ابن جبیر وغیرہ کے کلام کا ظاہر یہ ہے کہ یس مجموعی طور پر حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور یہی سید حمیری کے قول سے ظاہر ہے کہ… حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ان دو عظیم حرفوں کے ساتھ نام دینا حروف کے رازوں سے باخبر لوگوں کے نزدیک سر عظیم (یعنی بڑا راز) ہے۔(تفسیر روح المعانی، جلد11، صفحہ384، دار الکتب العلمیہ بیروت )
دلائل النبوۃ میں ہے :
”عن محمد (ابن حنفیہ)قال یسین قال محمد صلی اللہ علیہ وسلم“
ترجمہ ‘ محمد بن حنفیہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ یسین سے مراد “محمد “صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(دلائل النبوۃ للبیھقی،ج1ص158,محبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت )
تفسیر قرطبی میں ہے
”قال سعید ابن جبیر ھو اسم من اسماء محمد وودلیلہ انک لمن المرسلین وقال ابو بکر الوراق معناہ یا سید البشر وقیل انہ من اسماء اللہ“
ترجمہ”سعید بن جبیر نے فرمایا کہ یہ( یسین) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کی دلیل انک لمن المرسلین ہے اور ابو بکر الوراق نے فرمایا اس کا معنی سید البشر ہے اور کہا گیا کہ یہ اللہ عزوجل کے اسماء گرامی میں سے ہے ۔(تفسیر قرطبی ،جلد15،صفحہ8،مطبوعہ دارا الکتب العلمیہ ،بیروت)
تفسیر قرطبی میں ہے
”ھو اسم النبی صلی اللہ علیہ وسلم سماہ اللہ تعالیٰ بہ کما سماہ محمدا وروی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لی عند ربی عشرہ اسماء فذکر ان فیھا طہ و یس“
ترجمہ:یسین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے نام ہے اللہ تعالیٰ نے یہ نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکھا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس میرے دس نام ہیں اور ان میں سے طہ اور یس کو ذکر کیا۔(تفسیر قرطبی، جلد11،صفحہ 151،دارالکتب العلمیہ ،بیروت )
احکام القرآن لابن الاعربی میں ہے
”وقد روي عن ابن عباس أنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم سماني الله في القرآن سبعة أسماء محمدا، وأحمد، وطه، ويس، والمزمل والمدثر، وعبد الله“
روایت ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن میں میرے سات نام ہیں محمد، احمد،طہ ،یس،مزمل،مدثر اور عبداللہ۔(احکام القرآن لابن الاعربی ،جلد 4، صفحہ 1604، دار احیاء التراث العربی)
تفسیر صراط الجنان میں ہے:
” {یٰسٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے،اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ،نیزاس کے بارے مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے۔“(تفسیر صراط الجنان ،سورۃ یس، پارہ 22، آیت 1، جلد 8 ،صفحہ 220،مکتبہ المدینہ، کراچی)
فتویٰ رضویہ میں ہے :
”قدکان ظھر لی المنع عنہ لعین ھذا المعنی لکن نظرا الٰی انہ اسم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، ولاندری معناہ فلعل لہ معنی لایصح فی غیرہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الخ ۔ولعل ھذا اولی مماتقدم لان کونہ اسم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اظھر واشھر فلایکون لہ معنی یتفرد بہ الرب عزوجل، واللہ تعالٰی اعلم“
بے شک مجھ پر اس معنی کی بعینہٖ ممانعت ظاہرہوگئی ہے لیکن اس حقیقت کوپیش نظر رکھتے ہوئے یہ نام نہ رکھے جانے کے حق میں ہوں کہ یہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کانام مبارک ہے اور ہم اس کے معنی سے واقف نہیں، ہوسکتاہے اس کاکوئی ایسامعنی ہوجوحضورعلیہ الصلوٰۃ السلام کے لئے خاص ہو اور آپ کے سواکسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال درست نہ ہو۔۔شاید یہ وجہ پہلی وجہ سے زیادہ مناسب ہے اس لئے اس لفظ کاحضور علیہ السلام کے لئے بطور مقدس نام کے ہونا زیادہ ظاہر اور مشہور ہے۔ لہٰذا اس کے لئے کوئی ایسامعنی نہیں کہ جس سے اللہ تعالٰی جلیل القدر منفرد ہو لیکن (اس رازکو) اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر جانتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ ،جلد24 ،صفحہ ، 681 680 ،رضا فائونڈیشن، لاہور)
تفسیر صراط الجنان میں ہے :
”جن حضرات کا نام ’’یٰسین‘‘ ہے وہ خود کو’’ غلام یٰسین‘‘ لکھیں اور بتائیں اور دوسروں کو چاہئے کہ اسے ’’غلام یٰسین‘‘ کہہ کر بلائیں ۔“(تفسیر صراط الجنان ،سورۃ یس، پارہ 22، آیت 1، جلد 8 ،صفحہ 220،مکتبہ المدینہ، کراچی)
نام رکھنے کی سنتیں اور آداب میں ہے :
”محمدیٰسین نام بھی مت رکھئے، ہاں چاہیں تو غلام یٰسین اور غلام طٰہٰ نام رکھ لیجئے۔“(نام رکھنے کی سنتیں اور آداب، صفحہ 4 مطبوعہ مکتبہ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے “
”غلام محمد، غلام صدیق، غلام فاروق، غلام علی، غلام حسن، غلام حسین وغیرہ اسما جن میں انبیاء و صحابہ و اولیا کے ناموں کی طرف غلام کو اضافت کرکے نام رکھا جائے یہ جائز ہے اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں۔“(بہار شریعت ،جلد 3، حصہ 16،صفحہ 605، مکتبہ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
29جمادی الاول 1445ھ15دسمبر 2023ء