غلام اللہ نام رکھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ لڑکے کا نام غلام اللہ نام رکھنا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
“غلام اللہ” نام رکھنا ناجائز ہے کیونکہ غلام کے کئی معنی ایسے ہیں جن کا اطلاق اللہ عزوجل پر محال (ناممکن) ہے اور محال معنی کا صرف وہم بھی ممانعت کے لیے کافی ہوتا ہے۔
فیروزاللغات میں لفظ ”غلام“ کے معنی لکھے ہیں:
” لڑکا،زر خرید نوکر،بندہ،ملازم۔۔۔“(فیروزاللغات،صفحہ915،فیروز سنز،لاہور)
الحدیقۃ الندیۃ میں حضرتِ عارف باللہ علامہ عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
”یقال عبداللہ وامۃ اللہ ولایقال غلام اللہ وجاریۃ اللہ“
یعنی عبد اللہ اور امۃ اللہ کہا جائے گا اور غلام اللہ اور جاریۃ اللہ نہیں کہا جائے گا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، جلد4، صفحہ 165، بیروت)
بہارِ شریعت میں صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”غلام کی اضافت اللہ تعالی کی طرف کرنا اور کسی کو غلام اللہ کہنا، ناجائز ہے کیونکہ غلام کے حقیقی معنی پِسر اور لڑکا ہیں، اللہ (عزوجل)اس سے پاک ہے کہ اس کے لئے لڑکا ہو۔“ (بہارشریعت، جلد3، حصہ16، ص604، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ردالمحتار میں ہے:
”مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع“
ترجمہ:صرف معنی محال کا وہم ممانعت کے لئے کافی ہے۔(ردالمحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع، جلد5، صفحہ253، داراحیاء التراث العربی بیروت )
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
26جمادی الاولی1445ھ/ 12دسمبر2033
نظرثانی و ترمیم:
مفتی محمد انس رضا قادری