وحدۃ الوجود

وحدۃ الوجود

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ وحدۃ الوجود کا کیا مطلب ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب

وحدت الوجود کا مطلب ہے کہ مطلقاً وجود ایک اور موجود بھی ایک باقی سب اس کے ظل و عکس اور پرتو، اور اس کی قدرت کے مظاہر ہیں اور سب اسی کی طرف محتاج۔ وحدۃ الوجود کا معاذاللہ ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک کہ جس کا عارضی وجود ہے سب خدا ہے۔ یہ تو اہل اتحاد کا قول ہے جو کفار کا گروہ ہے۔ بلکہ مرتبہ وجود میں ہستی اور ذات صرف باری تعالیٰ کی ہے اور باقی سب اپنا بالذات وجود نہیں پا سکتے، کیونکہ یہ اپنے وجود میں اس موجود حقیقی ربُّ السمٰوات و الارض کے محتاج ہیں۔ بہرحال یہ نازک مسئلہ ہے جو علماء کرام نے سمجھایا۔ اسی پر اکتفاء کیا جائے، بحث و مباحثہ نہ کیا جائے۔

فتاوی رضویہ میں ہے:

”مرتبہ وجودمیں صرف حق عزوجل ہے کہ ہستی حقیقۃً اسی کی ذات پاک سے خاص ہے وحدت وجود کے جس قدرمعنے عقل میں آسکتے ہیں یہی ہیں کہ وجودواحد موجود واحد باقی سب مظاہرہیں کہ اپنی حدذات میں اصلاً وجودہستی سے بہرہ نہیں رکھتے ۔

”کل شیئ ھالک الا وجھہ“

ہرچیزفانی ہے سوا اس کی ذات کے۔( القرآن الکریم ۲۸/۲۸)

اور حاشا یہ معنی ہرگزنہیں کہ من وتو زیدوعمرو ہرشَے خداہے، یہ اہل اتحاد کاقول ہے جوایک فرقہ کافروں کا ہے اورپہلی بات اہل توحید کا مذہب جواہل اسلام وایمان حقیقی ہیں۔ یہی کفرواسلام کاپردہ سنبھالناہے۔“(فتاوی رضویہ،ج26، ص603 ،604، رضا فاونڈیشن لاہور)

سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ رب العزت فرماتے ہیں:

”دوم اہل نظر وعقل کامل، وہ اس حقیقت کو پہنچے اوراعتقاد بنائے کہ بیشک وجود ایک بادشاہ کے لئے ہے موجود ایک ہی ہے یہ سب ظل وعکس ہیں کہ اپنی حد ذات میں اصلا وجودنہیں رکھتے اس تجلی سے قطع نظر کرکے دیکھو کہ پھر ان میں کچھ رہتاہے حاشا عدم محض کے سوا کچھ نہیں،ا ور جب یہ اپنی ذات میں معدوم وفانی ہیں اور بادشاہ موجود، یہ اس نمودمیں اسی کے محتاج ہیں اور وہ سب سے غنی یہ ناقص ہیں وہ تام، یہ ایک ذرہ کے بھی مالک نہیں،اور وہ سلطنت کا مالک یہ کوئی کمال نہیں رکھتے، حیاۃ، علم، سمع، بصر، قدرت، ارادہ، کلام، سب سے خالی ہیں اور وہ سب کا جامع، تو یہ اس کا عین کیونکر ہوسکتے ہیں، لاجرم یہ نہیں کہ یہ سب وہی ہیں بلکہ وہی وہ ہے اور یہ صرف اس تجلی کی نمود، یہی حق وحقیقت ہے اور یہی وحدۃ الوجود۔“(فتاوی رضویہ،ج14، ص643، رضا فاونڈیشن لاہور)

حضرت مولانا شاہ احمد علی صاحب مرزا پوری رسالۂ اعلی حضرت پر تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”امورِ عشرین مندرجہ بالا بہت درست و ٹھیک ہیں۔ وحدت وجود حق ہے مگر اس میں بحث و مباحثہ فقیر کے نزدیک خوب نہیں، یہ امور کشفیہ سے ہیں اور متعلق بکفییت ایسے امور کو اولیاء اللہ ہی خوب سمجھے ہوئے ہیں چونکہ فقیر کے پاس مہُر نہیں لہذا دستخط ہی پر اکتفاء کیا۔“(فتاوی رضویہ،ج29، ص617، آخرمسئلہ:179، رضا فاونڈیشن لاہور)

حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’یہ تمام کائنات مجاز ہے فرضی چیز ہے اور حقیقی وجود صرف اس کا ہے ۔ اب غور کیجئے کہ وحدت الوجود پر یقین رکھنے والوں کے بارے میں کہا جاتاہے کہ انہوں نے شرک کیا کہ یہ چونکہ صرف رب کے وجود کو مانتے ہیں اس لئے انہوں نے گویا ہر موجود شے کا خدا تسلیم کر لیا ان کے کہنے کے مطابق جب خدا کے سوا کچھ نہیں تو پھر جو کچھ ہے وہ خدا ہی ہے پھر ہر شے خداہے۔ دراصل یہ مغالطہ ہے شرک تو اس وقت ہو گا جب خدا کے سوا کسی شے کو مانو گے ، تسلیم کرو گے ،پھر اسے خدا کی ذات و صفات میں شریک ٹھہراؤ گے۔ جب تمہارا عقیدہ یہ ہو گا کہ خدا کے سوا کچھ نہیں یہ کائنات رنگ و بو، یہ وآلم آب و گل ، یہ زمین و آسمان ، یہ ستارے، یہ کہکشاں یہ نباتات وہ جمادات ، یہ انسانوں کی فوج ظفر موج ، یہ حشرات الارض، یہ سیم و زر کے انبار ، یہ اجناس و اثمار ، یہ شجر و حجر ، یہ سب کچھ مجاز ہیں۔ یہ سب فرضی چیزیں ہیں ، یہ ذہن و نظر کا فریب ہے ، یہ ساری کائنات اعتباری ہے ، حقیقی نہیں خدا کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ جب تم اس کے سوا کسی کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو اس کی ذات میں شریک کیسے کر سکتے ہو؟ جس کو تم شریک کرنا چاہو گے پہلے اس کے وجود کو تو مانو گے جو چیز ہے نہیں وہ خدا کی ذات و صفات میں شریک کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘(وحدت الوجود کیا ہے، صفحہ 7،اعلیٰ حضرت نیٹ ورک )

تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضا خان ازہری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

”بالجملہ: وجودِ واحد مطلق ہے اور عالم میں جو کچھ ہے وہ اسی کے تعینات و اعتبارات و مظاہر ہیں اور وہ تمام اپنے ثبوت و بقا میں اسی وجود مطلق کے محتاج اوروہ کسی کا محتاج نہیں، اِنَّ اللّٰہ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ۔ وحدۃ الوجود حق و صادق ہے اور مراتب وجود میں فرق و امتیاز ایمان ہے اور خلط مراتب زندقہ و کفرِ مبین وخسران ہے۔“(فتاوی تاج الشریعہ ،جلد اول، مسئلہ:34)

مزیدفتاوی تاج الشریعہ میں ہے:

”وحدۃ الوجود میں جو سخن مجمل سیّدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز سے نقل ہوئے وہی قول فیصل ہے اور تفصیل اس کی سخت مبہم وموہوم و مشکل ہے یہی وجہ ہے، کہ صوفیہ خود اسے ہر کس و ناکس سے بیان نہیں کرتے اور اس کی اشاعت سے منع فرما تے ہیں اور عوام تو عوام علمائے ظاہر بلکہ ان صوفیہ کو بھی جنہوں نے راہ سلوک ہنوز طے نہ کی ہو اس کے فہم کا اہل نہیں سمجھتے۔“(فتاوی تاج الشریعہ،جلد اول، مسئلہ:33)

واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری

23جمادی الاولی1445ھ

8دسمبر2023ء،جمعۃ المبارک

اپنا تبصرہ بھیجیں