قبر پر پھول ڈالنا،سبزہ اگنا اور اسے اکھاڑنا

قبر پر پھول ڈالنا،سبزہ اگنا اور اسے اکھاڑنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ قبر پر پھول ڈالنا کیسا نیز قبر پر سبز ٹہنی و پودہ لگانا کیسا اور قبر سے سبزہ اکھاڑنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قبر پر پھول ڈالنا جائز و مستحسن عمل ہے جب تک پھول تر رہتے ہیں تسبیح کرتے ہیں، اس سے میت کو انسیت حاصل ہوتی ہے،دل بہلتا ہے، اور رحمت الٰہی اترتی ہےاور اس سے اللہ پاک سے امید ہے کے میت پر عذاب ہوتو اس میں کمی فرمائے گا۔ دوسرا قبر پر سبز ٹہنی وگھاس وغیرہ کی جڑ سے قبر یا میت کو کوئی نقصان وغیرہ نہ پہنچتا ہو تو ایسی سبزٹہنی اور گھاس لگانا بھی جائز ہے کیونکہ ان کے سبزوتر رہنے میں بھی مذکورہ فوائد حاصل ہوں گے۔ تیسرا بلاوجہ شرعی قبرستان سے تر گھاس کو اکھاڑنا،کاٹنا ممنوع و مکروہ ہے، کیونکہ قبروں پرتر پودوں کا ہونا شریعت مطہرہ کو مطلوب ومستحسن ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

”عن ابن عباس قال :مر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بحائط من حیطان المدینۃ او مکۃ فسمع صوت انسانین یعذبان فی قبورھما فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعذبان و ما یعذبان فی کبیرثم قال بلی کان احدھا لا یستتر من بولہ و کان الآخر یمشی بالنمیمۃ ثم دعا بجریدۃ فکسرھا کسرتین فوضع علی کل قبر منھما کسرۃ فقیل لہ یارسول اللہ لم فعلت ھذا؟قال لعلہ یخفف عنھما ما لم ییبسا“ ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی ا ﷲ علیہ وسلم مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑےسبب سے عذاب نہیں دیا جا رہا،پھر فرمایا : ان میں سے ایک آدمی ،تو اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھااور دوسرا چغل خوری کرتا تھا، پھر کھجور کی تر شاخ منگوا کر دو ٹکڑے کیے اور ہر قبر پر ایک ٹکڑا رکھا، صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے ایسا کس لیے کیا؟ فرمایا جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی ، ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔(صحیح البخاری، حدیث 216، صفحہ 38، مطبوعہ مکۃالمکرمہ)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

”استحب العلماء قراءة القرآن عند القبر لهذا الحديث اذ تلاوة القرآن اولى بالتخفيف من تسبيح الجريد، وقد ذكر البخاری ان بريدة بن الحصيب الصحابی اوصى ان يجعل فی قبره جريدتان فكأنه تبرك بفعل مثل رسول اللہ صلى اللہ تعالى عليه وسلم“ ترجمہ:علمائے کرام نے قبر کے پاس قرآن شریف پڑھنا، مستحب قرار دیا ہے، کیونکہ قرآن شریف کی تلاوت ، عذاب کو کم کرنے میں تر شاخوں کے تسبیح کرنے سے زیادہ اولی ہےاور بخاری نے ذکر کیا کہ بریدہ بن حصیب صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی کہ ان کی قبرپر کھجور کی دو شاخیں لگا دی جائیں، گویا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے برکت لینا چاہی۔ ( مرقاۃ المفاتیح، جلد1، صفحہ53، مطبوعہ کوئٹہ)

تفھیم البخاری میں علامہ غلام رسول رضوی صاحب علیہ الرحمہ اسی روایت کے تحت ہے فرماتے ہیں:

”اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں پر سبزہ لگانا، جائز ہے، کیونکہ ہر تر شے تسبیح کرتی ہے۔اس لیے بریدہ اسلمی نے وصیت کی تھی کہ ان کی قبر پر کھجور کی دو سبز شاخیں رکھی جائیں۔اس سے تخفیف ِ عذاب ضرور ہے۔“ (تفھیم البخاری، ج1، ص366، مطبوعہ تفھیم البخاری ،پبلیکیشنز)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

”وضع الورود والریاحین علی القبور حسن“

ترجمہ: قبروں پر گلاب اور پھولوں کا رکھنا اچھا ہے۔ (فتاوی ھندیہ، الباب السادس،عشرفی زیارۃ القبور،ج5،ص351،دارالفکر، بیروت)

مرآۃ المناجیح میں مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

”سبزہ کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد3، صفحہ377، مطبوعہ قادری پبلشرز)

ردالمختار علی الدر المختار میں ہے:

”يو خذ من ذلك اى من انه ما دام رطبا يسبح الله تعالى فيو نس الميت و تنزل بذكره الرحمة ) و من الحديث ندبا وضع ذلك للا تباع ويقاس عليه ما اعتيد في زماننا من وضع اعصان الآس ونحوه“

ترجمہ: پھول جب تک تر رہتا ہے اللہ تعالی کی تسبیح کر کے میت کا دل بہلاتا ہے اور خدا کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے اس بات سے اور حدیث پاک کے اتباع کے لحاظ سے اس کا مندوب ہونا اخذ ہوتا ہے۔ اسی پر قیاس بھی ہوگا جو ہمارے زما نے میں آس وغیرہ کی شاخیں رکھنے کا دستور ہے۔(رد المحتار، کتاب الجنائز مطلب في وضع الحديد ونحو الأس على القبور، جلد2، صفحه245 دار الفکر بيروت)

فتاوی بزازیہ میں ہے:

”قطع الحشیش من المقابر یکرہ لانہ یسبح و یندفع بہ العذاب من المیت او یستانس بہ المیت“

ترجمہ:قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے، کیونکہ وہ تر گھاس اللہ پاک کی تسبیح بیان کرتی ہے اور اس کی وجہ سے میت کا عذاب دور ہوتا ہے اور میت کو اُنسیت حاصل ہوتی ہے۔ (فتاوی بزازیہ، جلد2، صفحہ 477، مطبوعہ کراچی)

ردالمختار میں ہے علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”يكره أيضا قطع النبات الرطب والحشيش من المقبرة دون اليابس كما في البحر والدرر وشرح المنية وعللہ فی الامداد بانہ مادام رطبا یسبح اللہ تعالی فیونس المیت و تنزل بذکرہ الرحمۃ “

ترجمہ: ترگھاس کا مقبرے سے کاٹنا بھی مکروہ ہے، خشک گھاس کا نہیں، جیسا کہ بحر، درراور شرح منیہ میں ہے،امداد میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ جب تک یہ پودا تر رہتا ہے ، اللہ پاک کا ذکر کرتا ہے ، جس سے میت کو انسیت ہوتی ہےاور اس کے ذکر سے رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج3، ص184، مطبوعہ کوئٹہ)

واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

مولانا بابر مدنی

21جمادی الاولی1445/ 7دسمبر2023

اپنا تبصرہ بھیجیں