ناپاکی کی حالت میں عمرہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ ہندہ عمرہ پر گئی اور ماہواری روکنے کی دوائی کھائی جس کی وجہ سے وہ رک گئی پھر جب دوائی چھوڑی تو جس دن مکہ جانا تھا اس دن اسے داغ لگا جس کی وجہ سے اس نے میقات سے گزرتے ہوئے احرام وعمرہ کی نیت نہیں کی اور پھر دوسرے دن اسے مکہ میں داغ لگا اور تیسرے دن بھی خون آیا جس کی وجہ سے اس نے پھر دوائی کھالی اور ایک دن انتظار کے بعد جب خون نہ آیا اس نے نفلی طواف کیا اس کے بعد اسی رات پھر اسے خون آگیا اور پاکستان آنے کے بعدبھی عادت کے پورے ایام( دس دن) تک جاری رہا ۔ یعنی پہلے داغ سے لے کر پاکستان آنے تک جو خون آنے کا دورانیہ تھا یہ کل دس دن تھا اوراس کی عادت دس دن تھی قرآن وحدیث کی روشنی میں ہندہ کے متعلق شرعی رہنمائی ارشاد فرمائیں؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق ہندہ پر ایک دم ناپاکی میں طواف کرنے پر لازم ہوگیا اور بغیر احرام میقات سے حرم میں داخل ہونے پر حج یا عمرہ کرنا لازم ہوگیا۔
تفصیل اس میں یہ ہے کہ حیض روکنے والی دوائی کھانے کے باوجود جو تین دن داغ اور خون آیا یہ حیض تھا پھر درمیان میں دوائی کھانے سے جو خون رک اور بعد میں پھر عادت کے مطابق جاری ہوا تو یہ مکمل دن حیض ہی شمار ہوئے اور اسی دوران جو طواف کیا وہ ناپاکی میں شمار ہوا۔ مدت حیض میں ہر وقت خون جاری رہے یہ ضروری نہیں ہے اگر بعض بعض اوقات میں بھی داغ لگے تو بھی یہ حیض شمار ہوگا۔
جب ہندہ نے میقات کے باہر سے مکۃ المکرمہ میں جانا تھا تو اس پر لازم تھا کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھتی ،اگرچہ ناپاکی کی حالت میں تھی کہ احرام باندھنے کے بعد جب وہ پاک ہوتی تو اپنا عمرہ کرسکتی تھی۔شرعی حکم یہ ہے کہ جو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہو تو اس پر حج یا عمرہ اور دم لازم ہوگیا۔اب اگر وہ واپس ملک آگئی تو اگر سال بعد دوبارہ حرمین جانا نصیب ہو توخاص اُس لازم ہوئے حج یا عمرہ کی ادائیگی کی نیت سے میقات پر احرام باندھے اور جو پہلے بغیر احرام مکہ آئی اس سے توبہ کرے۔جب خاص اس لازم شدہ نسکین میں سے کوئی ایک نسک(یعنی حج یا عمرہ) ادا کرے گی تو پر جو دم ( بغیر احرام گزرنے پر)لازم ہوا تھا وہ ساقط ہوجائے گا۔
ردالمحتار میں ہے :
”(وما تراه) من لون ككدرة وتربية (في مدته) المعتادة (سوى بياض خالص)قیل ھو شیئ یشبہ الخیط الابیض ولو مرئی طھرا استخللابین الدمین فیھا حیض لان العبرہ لاولہ واخرہ“
ترجمہ:معتادہ حیض کی مدت میں جو رنگ دیکھے جیسے گدلہ اور مٹیالہ سوائے خالص سفیدی کے۔کہا گیا کہ یہ ایک چیز ہے جو کہ سفید دھاگے کے مشابہ ہے اور اگرچہ دونوں خون کے درمیان طہر نظر آئےوہ مدت حیض ہی میں شمار ہوگا کیونکہ حیض میں اول اور آخر کا اعتبار ہوگا۔(ردالمحتار ،جلد 1 ،صفحہ 652، مطبوعہ ،بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جب ہی حَیض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت بھی آئے جب بھی حَیض ہے۔۔۔کسی کو ایک دودن خون آکر بند ہو گیا اور دس دن پورے نہ ہوئے کہ پھر خون آیا دسویں دن بند ہو گیا تو یہ دسوں دن حَیض کے ہیں۔“(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 2، صفحہ 376 372 ،مکتبہ المدینہ کراچی)
جامع ترمذی میں ہے
”وتقضي المناسك كلها غير أن تطوف بالبيت حتى تطهر“
ترجمہ: حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف کرنے کے علاوہ تمام مناسک ادا کرے گی ،یہاں تک کے پاک ہوجائے۔(جامع الترمذی ،جلد 1 ،حدیث نمبر945 مطبوعہ، کراچی)
غنیۃ الناسک میں ہے
”ولو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله ، ولو شوطا جنبا ، أو حائضا ، أو نفساء، أو محدثا، فعليه شاة ….. ولو أعاده سقط عنه الدم “
ترجمہ:اور اگر عمرے کا طواف مکمل کیا یا اکثر چکر یا کم چکر یا ایک چکر اس حال میں کیا کہ وہ جنبی ہو یا حائضہ ہو یا نفاس والی یا بغیر وضو تو اس پر ایک بکری واجب ہے اور اگر پاکی میں اس کا اعادہ کیا تو دم ساقط ہو جائے گا۔(غنیہ المناسک ،المطلب الرابع في ترك الواجب في طواف العمرة، صفحہ 276، مطبوعہ ،بیروت)
فتویٰ ھندیہ میں ہے
”اذا طاف للعمرہ محدثا او جنبا فما دام بمکہ یعید الطواف فان رجع الی اھلہ ولم یعد ففی المحدث تلزمہ الشاۃ“
ترجمہ:اور اگر بے وضو یا جنابت کی حالت میں عمرہ کا طواف کیا پس جب مکہ میں ہو اعادہ کرے۔اگر اپنے اہل و عیال کے پاس لوٹ آیا پس حدث کی حالت میں طواف کرنے پر اس پر بطور دم بکری لازم ہے ۔ (فتویٰ ھندیہ، جلد 1 ،صفحہ 273، مطبوعہ ،دار المعرفۃ ،بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے
”لو أراد بمجاوزۃ ہذہ المواقیت دخول مکۃ لا یجوز لہ أن یجاوزہا إلا محرما، سواء أراد بدخول مکۃ النسک من الحج أو العمرۃ أو التجارۃ أو حاجۃ أخری عندنا“
ترجمہ:اگر ان مواقیت سے گزرنے سے دخولِ مکہ کا ارادہ ہے تو ہمارے نزدیک اس کے لئے بغیر احرام گزرنا جائز نہیں چاہے مکہ داخل ہونے سے اس کا نسکِ حج یا عمرہ کا ارادہ ہو یا تجارت یا کسی اور کام کا۔
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،کتاب الحج،فصل بیان مکان الإحرام، جلد2، صفحہ164، دار الکتب العلمیۃ،بیروت)
فتح القدیرمیں ہے
”الآفاقی اذا انتہی إلیہا علی قصد دخول مکۃ فعلیہ أن یحرم سواء قصد الحج أو العمرۃ أو لم یقصد عندنا؛ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام:”لا یجاوز أحد المیقات إلا محرما“ولأن وجوب الإحرام؛ لتعظیم ہذہ البقعۃ الشریفۃ فیستوی فیہ التاجروالمعتمروغیرہما“
ترجمہ:آفاقی جب مکہ میں داخل ہونے کاقصد کرے چاہے حج کاارادہ ہویاعمرہ کایاارادہ نہ ہوتوہمارے نزدیک اس پر احرام لازم ہے ۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافرمان ہے :”میقات سے کوئی بھی بغیراحرام سے نہ گزرے ۔“اس ارض مقدسہ کی تعظیم کی وجہ سے احرام واجب ہے ۔اس میں تاجر،عمرہ کرنے والے اور ان کے علاوہ برابر ہیں۔(فتح القدیر،کتاب الحج،باب مجاوزۃ الوقت بغیر إحرام،جلد3، صفحہ111،دار الفکر، بیروت)
مجمع الانہر میں ہے
” (ومن دخل مكة بلا إحرام) لمصلحة له (لزمه حج، أو عمرة) تعظيما للبقعة المباركة (فلو عاد) إلى الميقات (وأحرم بحجة الإسلام في عامه) ذلك لا بعده (سقط) عنه (ما لزمه بدخول مكة) من الحج، أو العمرة (أيضا) أي كما يسقط الدم والقياس أن لا يسقط اعتبارا بما لزمه بسبب النذر وصار كما إذا تحولت السنة وهو قول زفر.ولنا أن الواجب عليه أن يكون محرما عند دخول مكة تعظيما لهذه البقعة لا أن يكون إحرامه لدخوله على التعيين بخلاف ما إذا تحولت السنة؛ لأنه صار دينا في ذمته فلا يتأدى إلا بالإحرام مقصودا“
ترجمہ:جو مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہوا کسی بھی مصلحت کے سبب اس پر حج یا عمرہ لازم ہوگیا۔اس جگہ کی تعظیم کے سبب۔ اگر میقات پر واپس گیا اور اسی سال حجۃ الاسلام کا احرام باندھا نہ کہ بعد میں تو اس پر وہ ساقط ہوگیا جو مکہ میں داخل ہونے کے سبب حج یا عمرہ لازم ہوا تھا۔ اسی طرح دم ساقط ہوجائے گا۔قیاس یہ ہے کہ ساقط نہ ہواجو نذر کے سبب لازم ہوا ہے اور یہ ایسا ہی ہوجائے جیسا سال گزرنے پر حکم ہے اور یہ قول امام زفر رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ ہمارے نزدیک اس پر واجب ہے کہ وہ دخول مکہ کے وقت محرم ہو اس جگہ کی تعظیم کے سبب نہ یہ کہ متعین احرام کے ساتھ داخل ہونا ضروری ہے، بخلاف اس کے کہ جب سال گزر جائے کیونکہ جب سال گزر گیا، تو یہ اس کے ذمے دین لازم ہوگیا اور یہ اب بغیر مقصودی احرام کے ادا نہ ہوگا۔( مجمع الأنهر،کتاب الحج، باب مجاوزة الميقات بلا إحرام ،جلد1،صفحہ303،دار إحياء التراث العربي)
بہار شریعت میں ہے:
بہارشریعت میں ہے:”میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو، نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا پھر اگر میقات کو واپس نہ گیا، یہیں احرام باندھ لیا تو دَم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دَم ساقط اور مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے جو اُس پر حج یا عمرہ واجب ہوا تھا اس کا احرام باندھا اور ادا کیا تو بری الذّمہ ہوگیا۔ یوہیں اگر حجۃ الاسلام یا نفل یا منّت کا عمرہ یا حج جو اُس پر تھا، اُس کا احرام باندھا اور اُسی سال ادا کیا جب بھی بری الذّمہ ہوگیا اور اگر اس سال ادانہ کیا تو اس سے بری الذّمہ نہ ہوا، جو مکہ میں جانے سے واجب ہوا تھا۔“ (بہارشریعت،حصہ6،صفحہ1191،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابواحمد مفتی محمد انس رضا قادری
22جمادی الاول 1445ھ07دسمبر 2023ء