بزرگانِ دین کے نام پر جانور
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بزرگ کے نام سے جانور رکھنا جائز ہے؟ مثلاً یہ کہنا داتا صاحب کا بکرا، غوث پاک کی گائے وغیرہ، اس مسئلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں کیا حکم ہے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب الھم ہدایۃ الحق و الصواب
بزرگانِ دین کے نام پر جانور رکھنا اور ان کے ایصال ثواب کے لیے انہیں قربان کرنا بالکل جائز و مستحب عمل ہے ا ور مستند کتب سے ثابت ہے۔
اس مسئلہ میں بدمذہب لوگ شیطانی وسوسے میں مبتلا ہیں، اور کسی بزرگ کی طرف جانور کی نسبت کرنے کو” وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ“(بدمذہب اس آیت کا ترجمہ کرتے ہیں: اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا) میں شامل کرتے ہیں۔ حالانکہ مفسرین کرام نے اس کا معنی یہ کیا ” اور وہ جانور جو غیر خداکا نام لے کر ذبح کیا گیا ۔“
اگر کوئی مسلمان ذبح کے وقت اللہ عزوجل کے علاوہ کسی بزرگ کانام لے کر ذبح کرے تو جانور حرام ہوگا ورنہ عام طور پر جو مسلمان اللہ عزوجل کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کا ثواب فلاں بزرگ کو پہنچے۔ یہ صرف نسبت و تعلق ہے معاذاللہ غیر اللہ کی عبادت مراد نہیں، جیسے حدیث پاک میں نماز داؤدی،صوم داؤدی وغیرہ کا ذکر ہوا، اسی طرح صلوۃ الوالدین یعنی ماں باپ کی نماز کا استحباب فقہ میں مذکورہ ہے۔یونہی مہمان کے لیے ذبح کی اجازت ہے۔ تو جیسے عبادات کی غیر اللہ کی طرف نسبت کے باوجود بدعت و شرک کا شائبہ تک نہیں بلکہ ان کی فضیلت ذکر کی گئی اور محض ایک تعلق اور نسبت مراد ہے عبادت و قرب اللہ پاک کیلئے ہے اسی طرح داتا صاحب کا بکرا، غوث پاک کی گائے وغیرہ، الفاظ میں بھی محض نسبت و اضافت مراد ہے، جانور ذبح اللہ تعالیٰ کے نام پر ہی ہو گا اس کار خیر پر ملنے والا اجر بزرگ کو ایصال کیا جائے گا۔
پھر ان بدمذہبوں کی جہالت کا یہ حال ہے کہ جانوروں کے علاوہ بھی پھل ،کھانے کو اگر گیارہویں کا لنگر کہا جائے تو یہ اسے بھی غیر اللہ کے نام کا کہہ کر حرام کہہ دیتے ہیں ،حالانکہ پھل اور چاول کونسے ذبح ہوتے ہیں جس پر اللہ عزوجل کا نام لینا ضروری ہے۔گیارہویں وغیرہ بھی ایصال ثواب ہی کا نام ہے جس طرح عقیقہ وغیرہ ایک نام ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے:
﴿ حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللہِ بِہٖ﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تم پر حرام ہے مردار اورخون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیرِ خدا کانام پکارا جائے۔(پارہ 6،سورۃ المائدۃ ،آیت3)
اس آیت میں ﴿ما أ ھل بہ لغیر اللہ﴾(یعنی وہ جانورجس کے ذبح میں غیرِ خدا کانام پکارا جائے )سے مراد وہ جانور ہے جس پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لیا گیا ہو ۔ بزرگوں کے نام پر رکھے ہوئے یا ان کے ایصال ثواب کے لیے ذبح کیے جانے والے جانور اس سے مراد نہیں ہیں ۔ متعدد تفاسیر قرآن مثلا ً تفسیر کبیر ، احکام القرآن للجصاص، حاشیہ صاوی علی جلالین، حاشیہ جمل علی جلالین ،تفسیر مدارک، تفسیر خازن اورتفسیر روح المعانی وغیرہ میں اس آیت کریمہ کے تحت مذکور ہے:
(والنظم ھذا للرازی )’’ والاھلال رفع الصوت وکانوا یقولون عند الذبح باسم اللات والعزی فحرم اللہ تعالیٰ ذلک‘‘
ترجمہ: اہلال سے مراد آواز کو بلندکرنا اور کفارِ عرب ذبح کے وقت لات عُزی کا نام لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام فرما دیا۔(تفسیرِ کبیر ، جلد4،صفحہ283، مطبوعہ لاھور)
احکام القرآن میں ہے:
’’ولا خلاف بین المسلمین أن المراد بہ الذبیحۃ اذا أھل بھا لغیر اللہ عند الذبح ‘‘
ترجمہ:مسلمانوں میں اس بات پرکوئی اختلاف نہیں ہے کہ آیت میں مراد وہ جانور ہے جس کے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لیا گیا ہو۔ (احکام القرآن للجصاص ، جلد1، صفحہ176، مطبوعہ کراچی)
تفسیرات احمدیہ میں ملا جیون علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”وما اھل بہ لغیر اللہ معناہ ذبح بہ لاسم غیر اللہ مثل اللات والعزی و اسماء الانبیاء وغیر ذلک ۔۔۔ ومن ھھنا علم ان البقرۃ المنذورۃ للاولیاء کما ھو رسم فی زماننا حلال طیب لانہ لم یذکر اسم غیر اللہ وقت الذبح وان کانوا ینذرونھا“
ترجمہ:”وما اھل بہ لغیر اللہ” کا مطلب یہ ہے کہ وہ جانور جو غیر اللہ جیسے لات و عزی اور انبیاء وغیرہ کے نام سے ذبح کیا گیا۔۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس گائے کی اولیاء اللہ کے لئے نذر مانی گئی جیسا کہ ہمارے زمانے میں رواج ہے یہ حلال طیب ہے۔ کیونکہ اس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اگرچہ اس گائے کی نذر مانتے ہیں۔(تفسیرات احمدیہ،تحت آیۃ ومااھل بہ لغیراللہ،ص44-45، مطبوعہ کوئٹہ)
حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
”ان احب الصیام الی اللہ تعالٰی صیام داؤد و احب الصلوٰۃ الی اللہ عزوجل صلوٰۃ داؤد،رواہ الائمۃ احمد والستۃ عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما الا الترمذی فعندہ فضل الصیام وحدہ“
ترجمہ:بیشک سب روزوں میں پیارے اللہ تعالیٰ کو داؤد کے روزے ہیں اور سب نمازوں میں پیاری داؤد کی نماز ہے، علیہ الصلوٰۃ والسلام (اس کو ائمہ صحاح ستہ اور امام احمد نے عبداللہ بن عمرر ضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیاہے لیکن امام ترمذی کی روایت میں صرف روزوں کی فضیلت کا ذکر ہے۔)(صحیح البخاری، کتاب التہجد، باب من نام عندالسحر،ج1، ص 152 و 486، مطبوعہ کراچی، صحیح مسلم ،کتاب الصیام، باب النہی عن صوم الدہر الخ، ج1، ص367، قدیمی کتب خانہ کراچی)
ردالمحتار میں ہے:
”عن الشیخ اسمٰعیل عن شرح شرعۃ الاسلام من المندوبات صلوٰۃ التوبۃ وصلوۃ الوالدین“
ترجمہ:ردالمحتارمیں شیخ اسمعیل سے بحوالہ شرح شرعۃ الاسلام منقول ہے کہ مستحب نمازوں میں صلوۃ التوبہ اور صلوۃ الوالدین ہے۔( ردالمحتار، کتاب الصلوٰۃ، باب الوتر والنوافل،ج1، ص462، داراحیاء التراث العربی بیروت)
سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ رب العزت فرماتے ہیں:
”سبحان اللہ! داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نماز ، داؤد علیہ السلام کے روزے، ماں باپ کی نماز کہنا صواب، پڑھنا ثواب، اور جانور کی اضافت وہ سخت آفت کہ قائلین کفار ، جانور مردار، کیا ذبح نماز روزے سے بڑھ کر عبادت خدا ہے۔۔۔؟ یا اس میں شرکت حرام۔۔۔؟، ان میں روا ہے۔۔۔؟“(فتاوی رضویہ ،ج20، مسئلہ:125،ص272، رضا فاونڈیشن لاہور)
حدیث پاک میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
’’ من ذبح لضیف، ذبیحۃ کانت فداءہ من النار‘‘
ترجمہ:جو اپنے مہمان کے لئے جانور ذبح کرے وہ ذبیحہ دوزخ کی آگ سے اس کا فدیہ ہوگا۔(کنز العمال ،کتاب الضیافۃ، الفصل الاول،جلد9، صفحہ245، حدیث 25852، مؤسسۃ الرسالہ )
سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ رب العزت فرماتے ہیں:
”تو معلوم ہوا کہ ذبیحہ میں غیر خدا کی نیت اور اس کی طرف نسبت مطلقا کفر کیا حرام بھی نہیں، بلکہ موجب ثواب ہے تو ایک حکم عام کفر وحرام کیوں کر صحیح ہوسکتاہے۔
ولہذا علماء فرماتے ہیں، مطلقا نیت غیر کو موجب حرمت جاننے والا سخت جاہل اور قرآن و حدیث وعقل کا مخالف ہے، آخر قصاب کی نیت تحصیل نفع دنیا اور ذبائح شادی کا مقصود برات کو کھانا دینا ہے، نیت غیر تویہ بھی ہوئی، کیا یہ سب ذبیحے حرام ہوجائیں گے، یونہی مہمان کے واسطے ذبح کرنا درست وبجا ہے کہ مہمان کا اکرام عین اکرام خدا ہے۔“(فتاوی رضویہ ،ج20، مسئلہ:125،ص272، رضا فاونڈیشن لاہور)
درمختارمیں ہے:
’’ لو ذبح للضیف لایحرم لانہ سنۃ الخلیل و اکرام الضیف اکرام ﷲ تعالی‘‘
ترجمہ:جس نے مہمان کے لیے ذبح کیا تووہ حرام نہیں ہوگا کیونکہ یہ خلیل علیہ السلام کی سنت اور مہمان کا اکرام ہے اور مہمان کا اکرام اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے۔
ردالمحتارمیں ہے:
’’قال البزازی ومن ظن انہ لایحل لانہ ذبح لاکرام ابن اٰدم فیکون اھل بہ لغیر ﷲ تعالی فقد خالف القراٰن والحدیث و العقل فانہ لاریب ان القصاب یذبح للربح ولو علم انہ نجس لایذبح فیلزم ھذا الجاھل ان لایاکل ماذبح القصاب وما ذبح للولائم والاعراس والعقیقۃ‘‘
ترجمہ:بزازی نے کہا : اور جس نے گمان کیا کہ وہ اس لئے حلا ل نہیں کہ اس کو بنی آدم کے اکرام کے لیے ذبح کیا گیا ہے تو یہ غیر اللہ کے نام سے ذبح ہوا ، تو اس نے قرآن وحدیث اور عقل کے خلاف بات کی ، کیونکہ بلا شبہہ قصاب نفع کے لئے ذبح کرتاہے اوراگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو وہ ذبح نہ کرے، تو ایسے جاہل کو چاہیے کہ وہ قصاب کے ذبح کردہ کونہ کھائے اور ولیمہ اور شادی اور عقیقہ کے لئے ذبح کردہ بھی نہ کھائے۔(ردالمحتار علی درمختار، جلد9، صفحہ515، مطبوعہ کوئٹہ )
سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ رب العزت فرماتے ہیں:
”دیکھو! علمائے کرام صراحۃً ارشاد فرماتے ہیں کہ مطلقا نیت ونسبت غیر کو موجب حرمت جاننا اور مااُہل بہ لغیر اللہ میں داخل ماننا نہ صرف جہالت بلکہ جنون ودیوانگی اور شرع وعقل دونوں سے بیگانگی ہے، جب نفع دنیا کی نیت مخل نہ ہوئی تو فاتحہ اور ایصال ثواب میں کیا زہر مل گیا، اور اکرام مہمان عین اکرام خدا ٹھہرا تو اکرام اولیاء بدرجہ اولیٰ۔
ہاں اگر کوئی جاہل اجہل یہ نسبت واضافت بقصد عبادت غیر ہی کرتاہے تو اس کے کفر میں شک نہیں۔ پھر اگر ذابح اس نیت سے بَری ہے تو جانور حلال ہوجائے گا کہ نیت غیر اس پر اثر نہیں ڈالتی، کما حققناہ اٰنفا (جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔)“(فتاوی رضویہ ج20،مسئلہ:125،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:
’’حق اس مسئلہ میں ہے کہ حلت وحرمت ذبیحہ میں حال و قول و نیت ذابح کا اعتبار نہ کہ مالک کا پھر مسلمان ذابح کی نیت بھی وقت ذبح کی معتبر ہے اس سے قبل وبعد کا اعتبار نہیں پھر اضافت معنی عبادت میں منحصر نہیں کہ خواہی نخواہی مدار کے مرغ یا چہل تن کی گائے کے معنی ٹھہرالیے جائیں کہ وہ مرغ وگاؤ جس سے ان حضرات کی عبادت کی جائے گی، جس کی جان ان کے لئے دی جائے گی، اضافت کو ادنی علاقہ کافی ہوتاہے، ظہر کی نماز، جنازہ کی نماز، مسافر کی نماز، امام کی نماز، مقتدی کی نماز، بیمار کی نماز، پیر کا روزہ۔ اونٹوں کی زکوٰۃ، کعبہ کا حج، جب ان اضافتوں سے نماز وغیرہ میں کفر وحرمت درکنار نام کو بھی کراہت نہیں آتی، تو حضرت مدار کے مرغ، حضرت احمد کبیر کی گائے، فلاں کی بکری کہنے سے یہ خدا کے حلال کیے ہوئے جانور کیوں جیتے جی مرداراور سور ہوگئے کہ اب کسی صورت حلال نہیں ہوسکتے؟ یہ شرع مطہر پر سخت جرأت ہے کیا ذبح نماز روزے سے بڑھ کر عبادت خدا ہے یا اس میں شرکت حرام ، ان میں روا ہے مطلقا نیت غیر کو موجب حرمت جاننے والا سخت جاہل اور قرآن و حدیث وعقل کا مخالف ہے دیکھو علمائے کرام صراحۃً ارشاد فرماتے ہیں کہ مطلقا نیت و نسبت غیر کو موجب حرمت جاننا اور مااُہل بہ لغیر اﷲ میں داخل ماننا نہ صرف جہالت بلکہ جنون ودیوانگی اور شرع وعقل دونوں سے بیگانگی ہے، جب نفع دنیا کی نیت مخل نہ ہوئی تو فاتحہ اور ایصال ثواب میں کیا زہر مل گیا اور اکرام مہمان عین اکرام خدا ٹھہرا تو اکرام اولیاء بدرجہ اولیٰ ، ہاں اگر کوئی جاہل اجہل یہ نسبت واضافت بقصد عبادت غیر ہی کرتاہے تو اس کے کفر میں شک نہیں ۔ پھر اگر ذابح اس نیت سے بَری ہے تو جانور حلال ہوجائے گا کہ نیت غیر اس پر اثر نہیں ڈالتی کما حققناہ اٰنفا مگر جب کہ حدیثا وفقہاً دلائل قاہرہ سے ثابت کرچکے ہیں کہ اضافت معنی عبادت ہی میں منحصر نہیں ، تو صرف اس بناء پرحکم کفر محض جہالت وجرأت وحرام قطعی اور مسلمانوں پر ناحق بدگمانی ہے، تم سے کس نے کہہ دیا کہ وہ آدمیوں کا جانور کہنے سے عبادت آدمیان کا ارادہ کرتے ہیں اور انھیں اپنا معبود و خدا بنانا چاہتے ہیں؟۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد20، صفحہ269، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
19جمادی الاولی1445ھ
4دسمبر2023ء، بروز پیر