پچھلے سال کی قربانی کیا اب ہوسکتی ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ پچھلے سال کی قربانی نہیں کی، تو کیا اس سال ہو سکتی ہے ؟
بسم الله الرحمن الرحيم۔
الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب
جس شخص پر پچھلے سال کی قربانی واجب تھی مگر اس نے ادا نہیں کی تو قربانی نہ کرنے پر گناہ گار ہوا جس سے توبہ کرے اور اب اس کا ازالہ یہ ہے کہ پچھلے سال میں جو ایک سال کے بکرے کی قیمت تھی وہ صدقہ کرے،کیونکہ قربانی کے مخصوص ایام ہیں انھیں میں قربانی ہوسکتی ہے اگر وہ گزر گئے اور ان میں قربانی نہ کی تو اگر جانور خرید لیا ہوا تھا تو زندہ جانور ہی صدقہ کرنے کا حکم ہے ورنہ اس کی قیمت،اب ایسا نہیں ہوسکتا کہ اگلے سال گائے کی قربانی میں حصہ ملائے یا بکرا ذبح کرے۔
در مختار میں ہے:
” (وَلَوْ) (تُرِكَتْ التَّضْحِيَةُ وَمَضَتْ أَيَّامُهَا) (تَصَدَّقَ بِهَا حَيَّةً نَاذِرٌ) “
ترجمہ: اور قربانی نہ کی گئی اور قربانی کے دن گزر گئے تو نذر ماننے والا اس معین جانور کو زندہ ہی صدقہ کر دے ۔ ( ردالمحتار علی در المختار ، کتاب الاضحیہ ، صفحہ 320 )
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”ولو لم يضح حتى مضت أيام النحر فقد فاته الذبح فإن كان أوجب على نفسه شاة بعينها بأن قال: لله علي أن أضحي بهذه الشاة سواء كان الموجب فقيرا أو غنيا، أو كان المضحي فقيرا وقد اشترى شاة بنية الأضحية فلم يفعل حتى مضت أيام النحر تصدق بها حية، وإن كان من لم يضح غنيا ولم يوجب على نفسه شاة بعينها تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتري “
ترجمہ: اگر قربانی نہ کی یہاں تک کہ ایام قربانی گزر گئے تو اس سے قربانی فوت ہوگئی ہے تو اگر اس نے اپنے اوپر کسی معین بکری کا ذبح کرنا واجب کر دیا ہو اس طرح کہ (اس نے نذر مانی کہ) مجھ پر اللہ کیلئے اس(معین) بکری کا ذبح کرنا ہے برابر ہے کہ یہ واجب کرنے والا فقیر ہو یا غنی، یا قربانی کرنے والا فقیر ہو اور اس نے قربانی کی نیت سے بکری خریدی اور اس نے قربانی نہیں کی یہاں تک کہ ایام قربانی گزر گئے تو (ان دونوں صورتوں میں وہ) اس زندہ بکری کو صدقہ کرے گااور جس نے (ایام قربانی میں) قربانی نہیں کی اگر وہ غنی ہے اور اپنے اوپر کسی معین بکری کی قربانی کو بھی واجب نہیں کیا تو وہ بکری کی قیمت صدقہ کرے چاہے اس نے بکری خریدی ہو یا نہ خریدی ہو۔ (الفتاوی الھندیۃ ج5 کتاب الاضحیة الباب الرابع فيما۔يتعلق بالمكان والزمان ص 296)
بہار شریعت میں ہے :
”ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اُس نے نہیں کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں ہوسکتی پھر اگر اُس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہرصورت اسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اُس میں سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اُس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذا اس جانور کو زندہ صدقہ کر دے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں مذکور ہوا۔ یہ حکم اسی صورت میں ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اُس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اُس نے اُس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اوس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔“(بہار شریعت حصہ 15 قربانی کا بیان ص 340 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
والله اعلم عز و جل ورسوله اعلم صلى الله تعالى عليه و آله وسلم
كتبـــــــــــــــــــــــــــه
محمد عمر بن شوکت (ممبر فقہ کورس، الرضا قرآن و فقہ اکیڈمی)
06 ذوالقعدہ 1445 بمطابق 15 مئی 2024
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضاقادری