حلق یا تقصیر سے پہلے احرام اتار دینا
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر حلق یا تقصیر کروانے سے پہلے احرام اتار دیا اور کپڑے پہن لیے تو کیا اب دم ہوگا ؟ یعنی کپڑے پہننے کے بعد حلق کروایا؟بینوا توجروا(بیان فرما کر اجر پائیے۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
محرم کے لیے حلق یا تقصیر سے پہلے سلے ہوئے کپڑے پہننا ناجائز و گناہ ہے کیونکہ ا س سے پہلے ا سکا عمرہ مکمل نہیں ہوتا اور وہ احرام سے باہر نہیں ہوگا۔ اگر کسی نے یوں سلا ہوا لباس پہن لیا تو اب دیکھا جائے گا کہ سلے ہوئے کپڑے کتنی دیر پہنے ہیں اگر تو چار پہر (یعنی بارہ گھنٹوں)سے کم وقت تک پہنے تو صدقہ فطر کی قیمت کے برابر صدقہ لازم ہوگا، اور اگر چار پہر یا اس سے زیادہ وقت کے لیے پہنے اور اس کے بعد حلق یا تقصیر کرائی تو اب دم واجب ہوگا۔
تنبیہ: مُحرم اگر جان بوجھ کر بغیر عُذر کے جرم کرے تو کفارہ بھی واجب ہوگا اور گناہ گار بھی ہوگا اور اس صورت میں توبہ بھی واجب ہوگی، محض کفارہ دے دینے سے گناہ سے پاک نہ ہوگا جب تک توبہ نہ کرے اور اگر بھول کر یا عذر کی وجہ سے جرم ہوا ہے تو صرف کفارہ کافی ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
”أن المحرم ممنوع عن لبس المخيط“
ترجمہ: محرم کو سلا ہوا لباس پہننا ممنوع ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الحج، جلد2، صفحہ109، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”إذا لبس المحرم المخيط على الوجه المعتاد يوما إلى الليل فعليه دم وإن كان أقل من ذلك فصدقة كذا في “المحيط” سواء لبسه ناسيا أو عامدا عالما أو جاهلا مختارا أو مكرها هكذا في البحر الرائق“
ترجمہ: اگر کسی شخص نے عادت کے مطابق ایک پورا دن سلا ہوا کپڑا پہنا تو اس پر دم لازم ہو جائے گا اور اگر پورے ایک دن سے کم وقت کے لیے پہنا تو صدقہ لازم ہوگا، اسی طرح “محیط” میں ہے۔ چاہے اس نے بھول کر پہنا ہو یا جان بوجھ کر، اس کا جرم ہونا معلوم ہو یا معلوم نہ ہو، اپنی مرضی سے ہو یا مجبوری میں، اسی طرح “بحر الرائق” میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب المناسک، الباب الثامن فی الجنایات، الفصل الثانی فی اللبس، جلد1، صفحہ242، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”سِلا کپڑا یا خوشبو کا رنگا چار پہر کامل یا لگاتار زیادہ دنوں پہنا تو دم واجب ہے، اور چار پہر سے کم اگرچہ ایک لحظہ تو صدقہ۔“(فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ757، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”مُحرِم نے سِلا کپڑا چار پہر کامل پہنا تو دَم واجب ہے اور اس سے کم تو صدقہ اگرچہ تھوڑی دیر پہنا اور لگاتار کئی دن تک پہنے رہا جب بھی ایک ہی دَم واجب ہے ،جب کہ یہ لگا تار پہننا ایک طرح کا ہو یعنی عُذر سے یا بلا عذر اور اگر مثلاً ایک دن بلاعذر تھا، دوسرے دن بعذر یا بالعکس تو دو کفارے واجب ہوں گے۔“(بہار شریعت، حصہ6، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، جلد1، صفحہ1174، مطبوعہ: مکتبۃ المدینۃ)
جرائم اور ان کے کفارے کے بیان میں صدقہ کے متعلق رفیق الحرمین میں لکھا ہے:
”صدقہ: یعنی صدقہ فطر کی مقدار۔“(رفیق الحرمین، جرائم اور ان کے کفارے، صفحہ260، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
رفیق الحرمین میں ہے:
”چار پہر یعنی بارہ گھنٹے تک اس کپڑے کو پہنے رہا تو دم ہے، ورنہ صدقہ۔“(رفیق الحرمین، محرم اور گلاب کے پھولوں کے گجرے، صفحہ301، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے:
”تنبیہ: مُحرم اگر بالقصد بلا عُذر جرم کرے تو کفارہ بھی واجب ہے اور گنہگار بھی ہوا، لہٰذا اس صورت میں توبہ واجب کہ محض کفارہ سے پاک نہ ہوگا جب تک توبہ نہ کرے اور اگر نا دانستہ یا عذر سے ہے تو کفارہ کافی ہے۔“(بہار شریعت، حصہ:6، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، جلد1، صفحہ1162، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ،کراچی)
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری
️مؤرخہ 08 ذو القعدۃ الحرام 1445ھ بمطابق 16مئی 2024ء، بروز جمعرات