رش کی وجہ سے حج کی رمی چھوڑ دینا

رش کی وجہ سے حج کی رمی چھوڑ دینا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ حج میں رمی کا کیا حکم ہے اور کیا رش کی وجہ سے اس کو چھوڑ سکتے ہیں جیسے کہ خواتین اور ضعیف افراد وغیرہ کے لئے بھی کیا رمی کرنا ضروری ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق یوم النحر میں جمرہ العقبہ کی اور ایام تشریق میں تینوں جمروں کی رمی کرنا واجب ہے رمی اگر ایک دن کی ترک کردے یا تینوں دن کی ایک جمرہ کی ترک کرے یا تینوں جمروں کی بہر صورت دم کے طور پر ایک قربانی حدود حرم میں کرنا واجب ہے اور رمی میں کسی کو نائب بنانا جائز ہے مگر اس شخص کے لیے کہ جو کسی مرض یا عذر کے سبب سے جمرہ تک سواری سے بھی نہ جاسکے رہا رش کی وجہ سے خواتین اور ضعیف افراد کا رمی نہ کرنا یہ ان کی طرف سے کسی اور کا رمی کرنا تو یہ جائز نہیں ہے اور بلاعذر ترک کی صورت میں دم لازم ہوگا ۔لہٰذا یہ لوگ رش کی وجہ سے بلا کراہت رات کے وقت میں رمی کرسکتے ہیں۔

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے

”رمي الجمار (جمرة العقبة يوم النحر، والجمار الثلاث أيام التشريق) واجب اتفاقاً، اتباعاً لفعل النبي صلّى الله عليه وسلم“

جمرات کی رمی کرنا جمرہ العقبہ کی یوم النحر میں اور ایام تشریق میں تینوں جمروں کی رمی کرنا اتفاقاً واجب ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی اتباع کے سبب۔(الفقه الإسلامي وأدلته، جلد 3، صفحہ 561، مطبوعہ بیروت)

وقار الفتاوی میں ہے:

”رمی ایک دن کی چھوٹ جائے یا تینوں دن کی ایک شیطان کی چھوٹے یا تینوں کی ایک قربانی واجب ہوگی اور یہ قربانی زمینِ حرم پر واجب ہے لہذا کسی جانے والے کو روپیہ دے دیں وہ مکہ میں جاکر یہ قربانی کردے۔“(وقار الفتاوی ، جلد 2، صفحہ 461، مطبوعہ بزم وقار الدین)

وشرح لباب مع ارشاد الساری میں ہے

”الخامس : ان یرمی بنفسہ فلا تجوزالنیابۃ عند القدرۃ تجوز عند العذر، فلورمی عن مریض لا یستطیع الرمی بامرہ اومغمٰی علیه ولوبغیر امرہ اوصبی غیر ممیزاومجنون جاز، والا فضل ان توضع الحصی فی اکفھم فیرمونھا ای رفقاؤھم ففی الحاوی عن المنتقی عن محمد ، اذاکان المریض بحیث یصلی جالسارمی عنه ولاشئی علیه اھ ولعل وجہه انه اذاکان یصلی قائما فله القدرۃ علی حضور المرمی راکبا اومحمولا فلایجوز النیابه“

پانچویں شرط یہ ہے کہ خود رمی کرے قدرت کے باوجود نائب بنانا درست نہیں ، ہاں عذر کے وقت جائز ہے ،اگر کسی نے ایسے مریض کے کہنے پر رمی کی جو طاقت نہیں رکھتا، یا حاجی پر غشی طاری تھی اگر چہ اس نے رمی کا نہ کہا ہو، یا جس بچے کو شعور نہ ہو اس کی طرف سے یادیوانے کی طرف سے رمی کردی تو جائز ہوگی ۔ افضل یہ ہے کہ سنگریزے معذوروں کے ہاتھوں میں رکھ دئے جائیں توان کے رفیق رمی کریں۔ حاوی میں المنتقی سے امام محمد سے مروی ہے جب مریض اس حال میں ہو کہ صرف بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہوتو اس کی طرف سے کسی نے رمی کردی تو اس پر کوئی شئے لازم نہ ہوگی اھ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ جب وُہ نمازکھڑے ہوکر ادا کرسکتاہوتو اب اس کے لیے رمی کے لیے جانے کی قدرت ہوگی خواہ سوار ہوکر جائے یا اسے اٹھاکر لے جایاجائے اب اس کی طرف سے نائب بنانا درست نہ ہوگا۔ ( لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری، فصل فی احکام الرمی وشرائط الخ، صفحہ 166، دارالکتاب العربی بیروت)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

”عورت ہونا رمی میں نیابت کے لیے عذر نہیں، ہاں ایسا بیمار ہوکہ رمی کو نہ جاسکے تو اس سے اجازت لے کر دوسر ا اس کی طرف سے رمی کرسکتا ہے یا جو غشی میں ہوتو اسکی بلااجازت اسکی طرف سے رمی ہوسکتی ہے۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 10، صفحہ 674، رضا فائونڈیشن لاہور)

وقار الفتاوی میں ہے:

”رمی میں نائب مقرر نہیں کرسکتے یہ تکلیفات جن کا تذکرہ سوال میں ہے اس لیے ہوتی ہیں کہ ہر شخص جلدی کرنا چاہتا ہے لہذا بوڑھے اور عورتیں آخری وقت میں جائیں رات میں رمی کرنا اگرچہ مکروہ ہے مگر عذر کی وجہ سے یہ کراہت باقی نہیں رہتی مشاہدہ یہ ہے کہ مغرب کے بعد بھیڑ نہیں رہتی رمی کسی وجہ سے نہ کرسکے تو دم دینا واجب ہے ۔“(وقار الفتاوی ، جلد 2، صفحہ 461، مطبوعہ بزم وقار الدین)

ستائیس واجباتِ حج میں ہے:

”عذر کے وقت کسی کو رمی کا نائب بنانا درست ہے چنانچہ جو شخص مریض ہو کہ جمرہ تک سواری پر بھی نہ جا سکتا ہو وہ دوسرے کو حکم کردے کہ اس کی طرف سے رمی کرے۔۔۔یاد رہے کہ مریض سے مراد وہ شخص ہے جو جمرات تک سواری یا کسی کے کندھے پر سوار ہو کر بھی نہ جا سکتا ہو اور جس میں یہ طاقت ہو شرعاً وہ کسی کو نائب نہیں بنا سکتا ۔ بلا عذرِ شرعی مرد حضرات مستورات کی طرف سے بھی رمی نہیں کر سکتے اگرچہ ان کی اجازت سے ہی کیوں نہ ہو۔“(ستائیس واجباتِ حج، صفحہ 107۔108، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

08 ذی القعدہ 1445ھ16 مئی 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں