احرام کی حالت میں شکارکرنا

احرام کی حالت میں شکارکرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ محرم کے لیےبَرِّی (یعنی خشکی )کے شکار اور آبی (یعنی پانی )کے شکار کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

محرم کے لیے خشکی کےجانوروں کو شکار کرنا حرام ہے چاہے ان کا گوشت کھایا جاتا ہو چاہے نہ کھایا جاتا ہو اور آبی جانوروں کا شکار کرنا حلال ہے چاہے ان کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشادفرماتاہے

(اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُم وَلِلسَّيَّارَۃ وَحُرِّمَ عَلَيكُمْ صَيدُ الْبَرِّ مادُمْتُمْ حُرُمًا )

ترجمہ کنزالایمان :حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پر حرام ہے خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو۔(سورۃ المائدہ آیت نمبر 96)

امام ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود النسفی متوفّٰی 710 ہجری اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں:

” مصيدات البحر مما يوكل ومما لا يؤكل وطعامه وما يطعم من صيده والمعنى احل لكم الانتفاع بجميع ما يصاد في البحر واحل لكم اكل المأكول منه وهو السمك وحده فحرم عليكم صيد البر ما صيد فيه وهو ما يفرخ فيه وان كان يعيش في الماء في بعض الاوقات كالبط فانه بري لانه يتولد في البر والبحر له مرعى“

ترجمہ (ہم نے تمہارے لیے پانی کے شکار کو حلال کیا ہے) (یعنی) پانی کا شکار جو کھایا جاتا ہے اور جو نہیں کھایا جاتا اور اس شکار میں سے جو کھایا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے لیے پانی کے تمام جانورں سے(حالتِ احرام میں )فائدہ حاصل کرنا جائز کیا ہے اور اس میں سے تمہارے لیے کھانا اس کا حلال کیا ہے جس کو کھایا جاتا ہے اور وہ صرف مچھلی ہے۔۔(اور حالت احرام میں) حرام کیا گیا جو خشکی میں شکار کیا جاتا ہے اور اس سے مراد وہ جانور ہیں جو خشکی میں پیدا ہوتے ہیں اگرچہ وہ بعض اوقات پانی میں زندگی بسر کرتے ہوں جس طرح کے بطخ بے شک وہ بری ہے اس لیے کہ بے شک وہ خشکی میں پیدا ہوتی ہے اور پانی اس کی چراگاہ ہے ۔(مدارک التنزیل وحقائق التاویل سورۃ المائدہ تحت آیت96جلد1صفحہ جلد1صفحہ نمبر 477مطبوعہ دار ابنِ کثیر دمشق)

صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ متوفّٰی1339 تحریر فرماتے ہیں:

” اس آیت میں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا کہ محرم کے لیے دریا کا شکار حلال ہے اور خشکی کا حرام دریا کا شکار وہ ہے جس کی پیدائش دریا میں ہو اور خشکی کا وہ جس کی پیدائش خشکی میں ہو ۔“(خزائن العرفان سورۃ المائدہ آیت 96صفحہ 223مطبوعہ اذان پبلشرز)

مولانا نظام الدین 1161اور جماعت علمائے ہند تحریر کرتے ہیں

”الصيد هو الحيوان الممتنع المتوحش في اصل الخلقة وهو نوعان بري وهو ما يكون توالده وتناسله في البر وبحري وهو ما يكون توالده في الماء لان المولد هو الاصل وتعيش بعد ذلك عارض فلا يتغير به ويحرم الاول على المحرم دون الثاني “

ترجمہ: شکار وہ جانور ہے جو اصل خلقت میں وحشی ہو جس کا رکھنا ممنوع ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں بری وہ جانور جس کی ولادت اور جس کی نسل خشکی میں ہو اور بحری وہ جس کی ولادت پانی میں ہو اس لیے کہ پیدائش اصل ہے اور زندگی گزارنا یہ ایک عارض ہے پس عارض کے ساتھ اس کی خلقت تبدیل نہیں ہوتی اور محرم پر اول (یعنی خشکی کاشکار )حرام ہے اور ثانی( یعنی آبی شکار)جائز ہے۔(فتاویٰ ہندیہ کتاب المناسک باب الصیدجلد1صفحہ 273مطبوعہ دارالکتب العلمیہ)

امام فخرالدین ابی المحاسن الحسن بن منصور المعروف قاضی خان الاوزجندی الفرغانی متوفّٰی 592تحریرفرماتےہیں:

”يحرم على المحرم صيد البر وهو الممتنع الوحشي باصل الخلقة اما الابل والبقر اذا ند وتوحش فليس بصيد وصيد البر ما كان مثواه وتوالده في البر وصيد البحر ما كان على العكس“

ترجمہ اور محرم پر خشکی کا شکار حرام ہے اور (اس سے مراد) وہ جانور ہے جو اصلِ خلقت کے اعتبار سے وحشی ہو جس کا رکھنا ممنوع ہو بہرحال اونٹ اور گائے جب بھاگ جائیں اور وحشی ہو جائیں تو وہ شکار نہیں ہے اور خشکی کا شکار وہ ہے جس کا ٹھکانہ اور جس کی ولادت خشکی میں ہو اور پانی کا شکار وہ ہے جو اس کے برعکس ہو (یعنی جسکی ولادت اورٹھکانہ پانی ہو۔)(فتاویٰ قاضی خان کتاب الحج فصل فیمایوجب بقتل الصید والھوام جلد1صفحہ 256)

امام ابی بکر بن علی بن محمد الحدید الزبیدی متوفی 800 ہجری تحریر فرماتے ہیں

” والصيد هو الحيوان الممتنع بقوائمه او بجناحيه المتوحش في خلقته البري ماكولا كان اوغير ماكول( فقولنا الممتنع) احترازا من الکلب والسنور(وقولنا )المتوحش احترازا من الدجاج والبط (وقولنا في اصل خلقته )احترازا عما توحش من النعم الاهليۃ (وقولنا البري) احترازا من صیود البحر“

ترجمہ شکار وہ جانور ہے جس کا رکھنا ممنوع ہو چار پاؤں والا ہو یا پروں والا ہو اصل خلقت میں وحشی ہو خشکی کا ہو کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو (ہمارا قول الممتنع) اس سے کتے اور بلی سے احتراز کیا گیا ہے (کیونکہ انکوگھروں میں رکھاجاتاہے)(اورہمارا قول بقوائمہ) اس سے سانپ بچھو اور تمام حشرات الارض سے احترازکیا گیا ہے(کیونکہ انکومارناجائزہے) (اور ہمارا قول المتوحش) اس سے بطخ اور مرغی سے احترازکیا گیا ہے(کیونکہ یہ گھریکوجانورہیں شکارنہیں)( اور ہمارا قول فی اصلِ خلقتہ )اس سے احتراز کیا گیا ہے اس گھریلو اونٹ سے جو وحشی ہو گیا ہو( اور ہمارا قول البری)اس سےاحتراز ہے پانی کے جانورں سےکیونکہ انکوشکارکرناجائزہے۔(الجوھرۃ النیرہ کتاب الحج جلد1صفحہ411مکتبہ رحمانیہ)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ متوفٰی 1340 ہجری ارشاد فرماتے ہیں:

” پالتو جانور اونٹ گائے بکری مرغی کا ذبح کرنا پکانا کھانا اس کا دودھ دھونا انڈے توڑنا بھوننا کھانا ۔۔کھانے کے لیے مچھلی کا شکار کرنا کسی دریائی جانور کا مارنا دوا یا غذا کے لیے نہ ہو نری تفریح منظور ہو جس طرح لوگوں میں رائج ہے تو شکارِ دریا ہو یا جنگل ہو خود ہی حرام ہےاور احرام میں سخت تر حرام ۔“

مزید ارشاد فرماتے ہیں

”وہاں کے وحشی جانوروں کو تکلیف دینا حرام ہے یہاں تک کہ اگر سخت دھوپ ہو اور ایک ہی پیڑ ہے اس کےسایہ میں ہرن بیٹھا ہے تو جائز نہیں کہ اپنے بیٹھنے کے لیے اس سے اٹھائے اور اگر کوئی وحشی جانور بیرونِ حرم کو اس کے ہاتھ میں تھا اسے لیے ہوئے حرم میں داخل ہو گیا اب وہ جانور حرم کا ہو گیا فرض ہے کہ فورا سے ازاد کرے۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 10صفحہ734/735)

صدر الشریعہ طریقہ مفتی امجد علی اعظمی متوفی تحریر فرماتے ہیں:

” خشکی کا جانور شکار کرنا یا اس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا یا اور کسی طرح بتایا یہ سب کام حرام ہیں اور سب میں کفارہ واجب پانی کے جانور کوشکار کرنا جائز ہے پانی کی جانور سے مراد وہ جانور جو پانی میں پیدا ہوا ہو اگرچہ خشکی میں بھی کبھی کبھی رہتا ہو اور خشکی کا جانور وہ ہو جس کی پیدائش خشکی کی ہو اگرچہ پانی میں رہتا ہو۔“(بہار شریعت جلد 1حصہ ششم صفحہ 556 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

ھذاماعندی والعلم بالحق عنداللہ

کتبہ

محمدعاصم القادری(ممبر فقہ کورس)

7ذوالقعدہ1445ہجری

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں