اردو کُتب سے عالم کورس کروانا

اردو کُتب سے عالم کورس کروانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ (1)عالم کیا تعریف ہے؟ (2) کیا اردو کی کتب خود سے پڑھ کر اور سمجھ کر بندہ کم از کم عالم کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے اور کیا اس سے بندہ بغیر کسی ادارے یا استاد سے پڑھے عالم بن سکتا ہے؟ (3)کیا درس نظامی یا عربی کتابوں کے بغیر عالم دین بن سکتے ہیں ؟ (4)ان درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کرنے والا کیا عالم دین کہلائے گا یا عالم کا کم ازکم درجہ حاصل ہوجائے گا ؟ تفسیر:کنز الایمان مع خزائن العرفان ،حدیث:نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری ،فقہ:بہار شریعت مکمل،تصوف :احیاء العلوم(تیسری ،چوتھی اور پانچویں جلد)،سیرت :سیرت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

(1) عالم وہ ہے جو وسیع دینی مطالعہ رکھتا ہو،عقائد وفرائض علوم کا جاننے والا ہواوراگر کوئی مسئلہ درپیش آئے تو بغیر کسی کی مدد کے کتب سے نکال سکے۔امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن عالم کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے۔‘‘ (ملفوظات اعلیٰ حضرت،حصہ1،صفحہ58،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

فتاوی امجدیہ میں صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’عالم ہونے کے لئے بہت سی کتابیں پڑھنے کی ضرورت ہے اور صرف بہت کتابیں نہیں بلکہ بہت علوم و فنون پڑھنے کی حاجت ہے ۔حدیث ،فقہ ،تفسیر ،اصول فقہ ،اصول حدیث اور ان کے مبادی و مقدمات ۔‘‘ (فتاوی امجدیہ، جلد 2، حصہ4، صفحہ98، مکتبہ رضویہ، کراچی )

(2)کئی ایسے احباب ہوتے ہیں جو بغیر درس نظامی کیے کثیر مطالعہ کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک طویل عرصہ کسی ماہر عالم کی صحبت میں رہتے ہیں اور ان سے مسائل سیکھ کر عالم کے درجے میں پہنچ جاتے ہیں۔لیکن فقط اردو کتب پڑھ کر عالم بننا وہ بھی بغیر استاد کے یہ بہت مشکل بلکہ تقریبا ناممکن ہے۔کثیر مطالعہ کرنے والے احباب کو بھی دیکھا گیا ہے کہ بدیہی مسائل کو نہیں سمجھ پاتے ہیں۔ہمارے یہاں وکالت اور دیگر دنیاوی کورسسز کی کتب دستیاب ہیں کیا ان کتب کو پڑھ کر بندہ وکیل ،ڈاکٹر،انجینئر وغیرہ بن سکتا ہے ،ہرگز نہیں ،بس اس شعبہ کے متعلق کچھ معلومات ملتی ہے یونہی دینی بعض کتب ترجمے کے ساتھ پڑھ کر عالم نہیں بن سکتے بلکہ ایسے مولوی تو دین کے لیے خطرناک ہوتے ہیں جو چند کتابیں پڑھ کر غیر مقلد بن کر ائمہ کرام پر طعن کرتے ہیں اور مطلب کی چند احادیث لے کر ایک نیا فرقہ بنالیتے ہیں۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

”سندحاصل کرنا توکچھ ضرورنہیں، ہاں باقاعدہ تعلیم پاناضرورہے، مدرسہ میں ہو یاکسی عالم کے مکان پر، اور جس نے بے قاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدتر، نیم ملاخطرہ ایمان ہوگا۔“(فتاویٰ رضویہ ،جلد 23 ،صفحہ 717 ،رضا فائونڈیشن لاہور)

دارالافتاء مصریہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے:” جو شخص اداروں سے دور اور بغیر کسی مرجعیت کے سلف ایجوکیشن کے ذریعے اسلامی علوم سیکھتا ہے وہ بہت بڑے خطرے میں ہے! یہ خطرہ صرف اسی شخص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ معاشرہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے، کیونکہ وہ شخص غالباً یہ اعتقاد رکھے گا کہ وہ نے علم حاصل کر چکا ہے اور معاشرے کے ساتھ تعامل شروع کرتا ہے، اور بغیر اہلیت کے ایک عالم کا کردار ادا کرنے لگ جاتا ہے۔ لیکن یہ تعامل منفی تعامل ہوتا ہے؛ کیونکہ حقیقت میں اس نے کچھ نہیں سیکھا ہوتا۔ ۔۔۔ مذہبی تعلیم بھی درحقیقت دوسرے تعلیمی عمل کی طرح ہی ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی شرائط، آلات اور ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔“

(https://www.dar-alifta.org/ur/fatwa/details/18507/)

(3) ہر درس نظامی والا عالم نہیں ہوتا (اگرچہ درس نظامی عالم بنانے کے لیے ہے اور عموما اس کواچھے طریقے سے کرنے والا عالم ہی ہے) اور جوبغیر درس نظامی کیے کثیر دینی کتب کا مطالعہ کرے کہ جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو عموما وہ اس کا صحیح جواب دے سکے اورعام مسائل میں کبھی کبھا ر اسے کتب فقہ کو دیکھنا پڑے تو اس پر عالم کی تعریف صادق آتی ہے۔

فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا :

”کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ اگرکوئی شخص جس نے سوائے کتب فارسی اور اردو کے جوکہ معمولی درس میں پڑھی ہوں اور اس نے کسی مدرسہ اسلامیہ یاعلماء گرامی سے کوئی سند تحصیل علم نہ حاصل کی ہو اگر وہ شخص مفتی بنے یا بننے کا دعوٰی کرے اور آیات قرآنی اور احادیث کو پڑھ کر اس کاترجمہ بیان کرے اور لوگوں کو باور کرائے کہ وہ مولوی ہے تو ایسے شخص کاحکم یافتویٰ اور اقوال قابل تعمیل ہیں یانہیں اور ایسے شخص کاکوئی دوسرا شخص حکم نہ مانے توا س کے لئے شریعت میں کیاحکم ہے؟“

جوابا آپ نے فرمایا:” سندکوئی چیز نہیں، بہتیرے سندیافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اُن کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سندیافتوں میں نہیں ہوتی، علم ہوناچاہئے ۔۔۔ مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ کہ ظاہری درس وتدریس میں پورے نہ تھے مگرخدمت علماء کرام میں اکثر حاضررہتے اور تحقیق مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا فقیر نے دیکھاہے کہ وہ مسائل میں آج کل کے صدہا فارغ التحصیلوں بلکہ مدرسوں بلکہ نام کے مفتیوں سے بدرجہا زائد تھے، پس اگر شخص مذکور فی السوال خواہ بذات خود خواہ بفیض صحبت علماء کاملین علم کافی رکھتاہے جو بیان کرتاہے غالباً صحیح ہوتاہے اس کی خطا سے اس کا صواب زیادہ ہے تو حرج نہیں اور اگردونوں وجوہِ علم سے عاری ہے صرف بطور خوداردوفارسی کتابیں دیکھ کر مسائل بتائے اور قرآن وحدیث کا مطلب بیان کرنے پر جرأت کرتاہے تو یہ سخت اشدکبیر ہ ہے اور اس کے فتویٰ پرعمل جائزنہیں اور نہ اس کا بیان حدیث وقرآن سننے کی اجازت۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 684، رضا فائونڈیشن لاہور)

(4) بیان کی گئی کتب عالم کورس کے لیے ناکافی ہیں بلکہ اتنی کتب کو اچھی طریقے سے پڑھا جائے تویہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے فرض علوم کورس کرلیا ہے۔

دراصل عالم کی تعریف اور عالم کورس میں فرق ہے عالم کی تعریف اوپر بیان کردی گئی ہے اورمروجہ درس نظامی میں ایک شخص میں بنیادی طور پر عربی کتب اور مختلف فنون کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے کہ جس کی مدد سے وہ عربی کتب سے استفادہ کرکے مسائل نکال سکتا ہے۔ لہذا مروجہ طریقہ چھوڑ کر اگر اردو کتب یا مترجم سے عالم کورس کروانا شروع کردیا جائے گا تو طلباء عربی سے نابلد ہوجائیں گے جبکہ سارا دین ہی عربی میں ہے اردو ترجمے تو چند کتب کے ہوئے ہیں۔نیز ایسے مولوی اردو ترجمے والی کورس کی چند کتابیں پڑھ کر خود کو عالم سمجھ بیٹھیں گے جیسا کہ فی زمانہ فقط تخصص فی الفقہ کرکے کئی لوگ خود کو مفتی سمجھے ہوئے ہیں جبکہ کسی ماہر مفتی کے پاس فتوی نویسی سیکھی کوئی نہیں۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” علم الفتویٰ پڑھنے سے نہیں آتا جب تک مدتہا کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیاہو ۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 684، رضا فائونڈیشن لاہور)

علمائے اسلاف نے صراحت کی ہے کہ کسی فن میں ماہر ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس فن کے لوازمات کو جانتا ہو،اپنے مقصود کو اچھے طریقے سے بیان کرنے کی صلاحیت ہو۔ اب جس عالم کورس میں عربی اور اس زبان میں موجود مختلف فنون کی کتب نہ ہوں، وہ کیا دین سیکھے اور سکھائے گا ؟ علمائے کرام نے عربی سیکھنے کو لازم قرار دیا تاکہ وہ صحیح طریقے سے دین کی ترجمانی کرسکے۔ لہذا ایسا عالم کورس جس میں فقط چند اردو کتابیں ہوں اس کو رائج کرنا درست نہیں بلکہ باعث فتنہ ہے۔

الموافقات میں علامہ شاطبی لکھتے ہیں:

’’من شروطهم فى العالم بأيِّ علمٍ اتفق:أن يكون عارفًا بأصوله، وما ينبني عليه ذلك العلم، قادرًا على التعبير عن مقصوده فيه، عارفًا بما يلزم عنه، قائمًا على دفع الشبه الواردة عليه فيه‘‘

ترجمہ:کوئی شخص کسی فن کا عالم اسی وقت کہاجائے گا جب اس کے یہاں یہ شرائط پائی جائیں ۔وہ شخص اس علم کے اصول سے واقف ہو۔ اس فن میں اپنے مقصودکو بحسن و خوبی بیا ن کرنے کا ملکہ رکھتا ہو ۔اس کے لوازمات کو بھی جانتا ہو اور اس فن پروارد ہونے والے شبہات و اعتراضات کے ازالہ پر بھی قادر ہو۔(الموافقات ،جلد 1 ،صفحہ 140، دار ابن عفان)

اقتضاء صراط المستقیم میں ہے

”إنّ نفس اللغة العربية من الدين، ومعرفتها فرض واجب، فإنّ فهم الكتاب والسنة فرض، ولا يفهم إلا بفهم اللغة العربية، وما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب۔ثم منها ما هو واجبٌ على الأعيان، ومنها ما هو واجبٌ على الكفاية‘‘

ترجمہ:عربی زبان بذات خود دین کاحصہ ہے،لہٰذا عربی زبان کو جاننا واجب ہے۔کیونکہ کتاب وسنت کا سمجھنا فرض ہے، اور کتاب وسنت کو عربی زبان کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا ہے ۔لہٰذاجس کے بغیر واجب کی ادائیگی نہ ہو تو وہ بھی واجب ہو جاتا ہے۔ اورعربی زبان میں کچھ کا سیکھنا واجب عین یعنی ہر شخص پر واجب ہے اور کچھ فرض کفایہ ہے۔(اقتضاء الصراط المستقیم، جلد 1، صفحہ 528،مطبوعہ دار الشبیلیا)

الرسالة میں امام شافعی رحمه الله علیه لکھتے ہیں

’’لا يعلم مِن إيضاح جمل علم الكتاب أحد جهل سعة لسان العرب، وكثرة وجوهه، وجماع معانيه، وتفرقها“

ترجمہ:جو شخص عربی زبان کی وسعت، اس کی کثیر تعبیرات، اور ان کے معانی کے اتفاق واختلاف کو نہیں جانے گا وہ قرآن مجید کے چند جملوں کی وضاحت و تفسیر کو نہیں جان سکتا۔(الرسالۃ، ص 50، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

امام الحرمین امام جوینی رحمہ اللہ علیہ غیاث الأمم فی الْتیاث الظلم میں لکھتے ہیں:

’’إنّ شريعة المصطفي صلى اللّٰه عليه وسلم، مُتلقّاها ومُستقاها الكتابُ والسننُ، وآثارُ الصحابة ووقائعُهم، وأقضيتُهم فى الأحكام، وكُلُّها بأفصح اللغات، وأشرف العبارات، ولا بد من الارتواء من العربية، فهي الذريعةُ إلى مدارك الشريعة‘‘

ترجمہ:شریعت محمدیہ کے مآخذوسرچشمے کتاب وسنت ،صحابہ ٔکرام کے آثار وواقعات اور احکام میں ان کے فیصلے ہیں ۔ اور یہ سب فصیح ترین زبان اورعمد ہ ترین پیرایۂ بیان میں ہیں ۔بنابریں عربی زبان میں ادرک حاصل کرناضروری ہے۔ کیونکہ شریعت کے احکام ومقاصدکی معرفت کایہی ذریعہ ووسیلہ ہے۔( غیاث الأمم فی الْتیاث الظلم، صفحہ 400، مطبوعہ دار المھاج)

آگے لکھتے ہیں :

’’لا يُشترط التعمّقُ والتبحُّر فيها حتي يصير الرجل علّامة العرب، ولا يقع الاكتفاء ُ بالاستطراف، وتحصيل المبادء والأطراف، بل القولُ الضابطُ فى ذلك أن يُحصّل من اللغة والعربية۔۔۔ وهذا يستدعي منصبًا وسطًا فى علم اللغة والعربية‘‘

ترجمہ:عربی زبان میں اتنی بھی باریک بینی اور تبحر شرط نہیں کہ وہ علامہ عرب بن جائے ،تاہم صرف مبادیات اور سرسری معلومات کافی نہیں ۔ اس تعلق سے سیدھا سادا ضابطہ یہ ہے کہ وہ عربی زبان و قواعد اس قدر سیکھ لے ۔ یہ اس بات کامتقاضی ہے کہ عربی زبان و قواعد کی معرفت میں وہ کم ازکم متوسط درجہ کی صلاحیت کا حامل ہو۔(غیاث الأمم فی الْتیاث الظلم، صفحہ 403، مطبوعہ دار المھاج)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

24 شوال المکرم 1445ھ02 مئی 2024ء

نظرثانی و ترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں