حضرت عمر فارو ق رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی ام کلثوم سے

حضرت عمر فارو ق رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی ام کلثوم سے

کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت علی المرتضیٰ وخاتون جنت رضی اللہ تعالی عنہما کی شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا سےہوا تھا؟ شیعہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ دلائل کے ساتھ راہنمائی فرمائیں۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قرابت و سسرالی رشتہ قائم کرنے کے لئے حضرت علی المرتضیٰ و حضرت فاطمۃا لزہرا رضی اللہ تعالی عنہما کی شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا تھا۔یہ نکاح حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی رضامندی سے چالیس ہزار مہر کے عوض ہوا۔ ان سے حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کے ایک بیٹے زید اور ایک بیٹی رقیہ پیدا ہوئیں۔اس نکاح کا ثبوت شیعوں کی کتب سے بھی ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

” قال ثعلبة بن أبي مالك: إن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قسم مروطاً بين نساء من نساء المدينة، فبقي مرط جيد، فقال له بعض من عنده: يا أمير المؤمنين، أعط هذا ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي عندك، يريدون أم كلثوم بنت علي، فقال عمر: «أم سليط أحق، وأم سليط من نساء الأنصار، ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم»، قال عمر: «فإنها كانت تزفر لنا القرب يوم أحد» “

ترجمہ: ثعلبہ بن ابو مالک نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے کچھ چادریں مدینہ کی عورتوں میں تقسیم کیں، ایک عمدہ چادر بچ گئی تو حاضرین میں سے ایک نے کہا :اے امیر المؤمنین یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صاحبزادی کو دے دیجئے جو آپ کی زوجیت میں ہیں، ان کی مراد حضرت ام کلثوم بنت علی تھیں۔ تو حضرت عمر نے فرمایا :ام سلیط اس کی زیادہ مستحق ہے اور ام سلیط انصار کی ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ حضرت عمر نے کہا کہ وہ غزوہ احد کے موقع پر ہمارے لیے مشکیں بھر کر لاتی تھیں۔(البخاری ، كتاب المغازی، باب ذکر ام سلیط،ج2، ص582، مطبوعہ کراچی)

اس حدیث کی شرح میں فتح الباری میں ہے:

” عمر قد تزوّج أمّ كلثوم بنت عليّ وأمّها فاطمة، ولهذا قالوا لها: بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكانت قد ولدت في حياته وهي أصغر بنات فاطمة “

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہزادی ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا سے نکاح کیا۔ ان کی والدہ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللّٰہ عنہا ہیں اسی نسبت سے ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی شہزادی کہا۔یہ حضور علیہ السلام کی ظاہری حیات میں پیدا ہوئیں اور سیدہ خاتون جنت رضی اللّٰہ عنہا کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔(فتح الباری، كتاب الجهاد والسير، باب حمل النساء القرب إلى الناس في الغزو، ج6 ،ص79، تحت الرقم:2881، مکتبہ سلفیہ مصر)

نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے:

”حضرت ام کلثوم بنت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی پیدا ہو چکی تھی حضرت عمر نے ان سے عقد(نکاح)کر لیا تھا۔“( نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد4، صفحہ 76، مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)

امام حاکم اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر اپنے والد امام محمد باقر سے اور وہ اپنے والد حضرت امام علی زین العابدین سے وہ اپنے والد محترم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کرتے ہیں:

”ان عمر بن الخطاب رضي الله عنہ خطب الى علي رضي الله عنه ام كلثوم فقال انكحنيها فقال علي اني ارصدها لابن اخي عبد الله بن جعفر فقال عمر انكحنيها فوالله ما من الناس احد يرصد من امرها ما ارصده فانكحه علي فاتی عمر المهاجرين فقال الا تهنوني فقالوا بمن يا امير المؤمنين فقال بام كلثوم بنت علي وابنه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم اني سمعت رسول الله صلى الله تعالى عليه واله وسلم يقول وكل نسب وسبب ينقطع يوم القيامه الا ما كان من سببي ونسبي فاحببت ان يكون بيني وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم نسب وسبب” هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه“

ترجمہ:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی کی طرف ام کلثوم کے نکاح کا پیغام دیا کہ ام کلثوم کا مجھ سے نکاح کر دو۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اسے اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفر(رضی اللہ عنہ) کے لئے تیار کر رہا ہوں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ کیونکہ اللہ کی قسم! جتنی مجھے اس کی طلب ہے لوگوں میں سے کسی کو اتنی طلب نہیں ہے۔ (یا مجھ سے زیادہ اس کے لائق دوسرا کوئی نہیں ہے۔) تو حضرت علی نے حضرت عمر سے ان کا نکاح کر دیا اب حضرت عمر مہاجرین کے پاس آئے اور کہا کیا تم مجھے مبارک نہیں دیتے ہو انہوں نے کہا کس کی اے امیر المؤمنین! فرمایا ام کلثوم بنت علی اور حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ کی شہزادی کی۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے ہر سبب و نسب منقطع ہو جائے گا قیامت کے دن سوائے میرے سبب و نسب کے۔ تو میں نے پسند کیا میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان نسب اور سبب قائم ہو جائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔(مستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ ج3 ص 153 رقم:4684/ 282 دار الکتب العلمیہ بیروت)

مصنف عبد الرزاق ميں ہے:

”عن عكرمة قال: تزوج عمر بن الخطاب أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب، وهي جارية تلعب مع الجواري، فجاء إلى أصحابه فدعوا له بالبركة، فقال: إني لم أتزوج من نشاط بي، و لكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌إن ‌كل ‌سبب ‌ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي»، فأحببت أن يكون بيني، وبين نبي الله صلى الله عليه وسلم سبب ونسب“

ترجمہ:عکرمہ نے کہا حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا نکاح کیا جبکہ آپ چھوٹی عمر کی تھیں اور بچیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں جب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو انہوں نے دعاء برکت کی حضرت عمر نے کہا میں نے اپنے نشاط اور ہشاش بشاش ہونے کے سبب نہیں نکاح کیا بلکہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ بیشک ہر سبب و نسب قیامت کے دن ختم ہو جائے گا سوائے میرے سبب و نسب کے، تو میں نے پسند کیا کہ میرے اور اللہ پاک کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان سبب و نسب قائم ہو جائے۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب النکاح، باب نکاح الصغیرین، ج6، ص163، مطبوعہ المجلس العلمی)

سیر اعلام النبلاء میں ہے:

”أمّ كلثوم بنت علي بن أبي طالب بن عبد الملطب بن هاشم، الهاشمية، شقيقة الحسن و الحسين، ولدت في حدود سنة ست من الهجرة، ورأت النبي صلى الله عليه وسلم، ولم ترو عنه شيئًا. خطبها عمر بن الخطاب وهي صغيرة، فقيل له: ما تريد إليها؟ قال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي”. وروى عبد الله بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده: أنّ عمر تزوجها، فأصدقها أربعين ألفًا… ونقل الزهري، وغيره: أنّها ولدت لعمر زيدًا، وقيل: ولدت له رقية“

ترجمہ:حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہزادی امام حسن و حسین رضی اللّٰہ عنہما کی بہن سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا سن چھ ہجری میں پیدا ہوئیں حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا دیدار کیا مگر آپ سے کچھ روایت نہیں کیا۔حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ان سے نکاح کا پیغام بھیجا جبکہ آپ کم عمر تھیں تو آپ سے کہا گیا کیا ارادہ کرتے ہیں؟ تو امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن میرے سبب و نسب کے علاوہ سب سبب و نسب ختم ہو جائیں گے۔ آپ کا ان سے نکاح ہوا اور چالیس ہزار مہر دیا۔ان سے حضرت زید اور کہا گیا کہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہما پیدا ہوئیں۔(‌سیر اعلام النبلاء، أم ‌كلثوم ‌بنت ‌علي بن أبي طالب الهاشمية، ج 3، ص 500، مطبوعہ مؤسسة الرسالة)

فیضان فاروق اعظم میں اسد الغابہ، ج1، ص424، اور طبقات کبری، ج8، ص338، کے حوالے سے ہے:

”امیر المؤمنین حضرت سیدنا مولا علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی لاڈلی شہزادی حضرت سیدتنا ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ سے کیا اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ حضرت علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کے داماد ہوئے۔ اور چونکہ حضرت ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہا حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللّٰہ عنہا کی شہزادی ہیں لہذا حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ ان کے بھی داماد ہوئے۔“(فیضان فاروق اعظم، جلداول، صفحہ 109-110، مکتبۃ المدینہ)

شیعہ ذاکر ابو جعفر الطوسی اپنی کتاب ”تہذیب الاحکام“ میں ایک روایت نقل کرتا ہے :سلیمان بن خالد نے کہا میں نے امام جعفر صادق سے سوال کیا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے وہ اپنی عدت کہاں گزارے خاوند کے گھر پر یا جہاں چاہے گزار سکتی ہے؟ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا ہاں جہاں چاہے گزار سکتی ہے۔

”ثم قال ان علیا علیہ السلام لما توفی عمر اتی ام کلثوم فاخذ بیدھا فانطلق بھا الی بیتہ“

پھر فرمایا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے۔(تہذیب الاحکام جلد 8 صفحہ 161 مطبوعہ ایران)

شیعہ ذاکر باقر مجلسی نے تہذیب الاحکام کی شرح میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے:

”الحدیث الثالث والخمسون والمائۃ صحیح“ (ملاذ الاخیار فی فہم تہذیب الاحکام جلد 13 صفحہ نمبر 312 الحدیث:153 مطبوعہ ایران)

شیعہ مؤرّخ احمد بن یعقوب نے 17 ہجری میں خلاف فاروقی کے احوال میں لکھا ہے:

”وفی ہذہ السنۃ خطب عمر الی علی بن ابی طالب ام کلثوم بنت علی و امھا فاطمۃ بنت رسول ﷲ فقال علی انھا صغیرۃ فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “كل نسب وسبب ینقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي وصہری” فاردت ان یکون لی سبب و صھر برسول اللّٰہ فتزوجھا وامھرھا عشرۃ آلاف دینار“

ترجمہ : اسی سال سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف ان کی بیٹی امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے لئے پیغامِ نکاح بھیجا۔ یہ امِ کلثوم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی لخت ِجگر تھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: امِ کلثوم ابھی عمر میں چھوٹی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میں یہ رشتہ صرف اس لیے طلب کر رہا ہوں کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روز ِقیامت تمام نسب اور سبب منقطع ہو جائیں گے سوائے میرے تعلق، نسب اور سسرالی رشتہ کے۔ اب میری یہ خواہش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق اور سسرالی رشتہ ہو۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ دس ہزار دینار حق مہر کے عوض اپنی صاحبزادی کی شادی کر دی۔ (تاریخ الیعقوبي، ج2، ص139، منشورات مکتبہ حیدریہ)

ایک شیعہ زین الدین محمد بن علی بن شہر آشوب نے مناقب آل ابی طالب میں لکھا ہے:

”فولد من فاطمۃ الحسن و الحسین والمحسن وزینب الکبری و ام کلثوم الکبری تزوجھا عمر“

ترجمہ:حضرت فاطمہ زہرا سے حسن حسین محسن زینب الکبری اور ام کلثوم پیدا ہوئیں اور ام کلثوم سے عمر نے نکاح کیا۔ (مناقب آل ابی طالب، ج3، ص163)

واللّٰہ تعالی اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری

22شوال المکرم1445ھ

1مئی2024ء، بدھ

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں