فوتگی پر بطور سوگ سیاہ یا سفید لباس پہننا

فوتگی پر بطور سوگ سیاہ یا سفید لباس پہننا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا آج کل فوتگی پر کئی لوگ بالخصوص عورتیں بطور سوگ سیاہ یا سفید لباس پہنتی ہیں۔ شرعا اس کی کیا حیثیت ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

شریعت نے ہمیں آزمائش پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے اور مصیبت میں ایسے افعال سے منع کیا ہے جو جاہلیت کی ترجمانی کریں اور اللہ عزوجل کی رضاسے انحراف پر مبنی ہوں ۔لہذا سوگ کے طور پر کالا یا سفید لباس پہننا جائز نہیں ہے البتہ خاوند کے انتقال پر سوگ منانے کے سبب سے بیوہ کو تین دن تک سیاہ لباس پہننے کی اجازت دی گئی ہے، اس کے بعد سوگ کے طور پر پہننا اس کے لیے بھی جائز نہیں ہے البتہ اگر سوگ کے طور پر نہ ہو تو کسی بھی رنگ کا لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے

’’عن عمران بن الحصین وأبی بزرۃ قالاخرجنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی جنازۃ فرأی قوما قد طرحوا أردیتہم یمشون فی قمص فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (أبفعل الجاہلیۃ تأخذون ؟ أو بصنع الجاہلیۃ تشبہون ؟ لقد ہممت أن أدعوا علیکم دعوۃ ترجعون فی غیر صورکم )قال فأخذوا أردیتہم ولم یعودوا لذلک ‘‘

ترجمہ:حضرت عمران بن حصین اور ابی برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے ایک قوم کو دیکھا جو اپنی چادریں پھینک گئے تھے اور قمیضوں میں چلتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جاہلیت کا کام اختیار کرتے ہو یا جاہلیت کے عمل سے مشابہت کرتے ہو۔ دل چاہتا ہے کہ تمہارے خلاف ایسی دعا کروں کہ تمہاری صورتیں بدل جائیں۔ لوگوں نے فوراً ا پنی چادر یں اٹھا لیں اور پھر یہ کبھی نہ کیا۔(سنن ابن ماجہ ،کتاب الجنائز،باب ما جاء فی النہی عن التسلب مع الجنازۃ،جلد1،صفحہ476،دار إحیاء الکتب العربیۃ)ْ

الموسوعۃ الکویتیہ میں ہے” اتفق الفقهاء على أن تسويد الوجه حزنا على الميت من أهله أو من المعزين لا يجوز لما فيه من إظهار للجزع وعدم الرضا بقضاء الله وعلى السخط من فعله ، مما ورد النهي عنه في الأحاديث “ترجمہ: فقہاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میت کے سوگ میں منہ کالا کرنا ، اس کے اہل خانہ کی طرف سے یا سوگواروں کی طرف سے جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں بے صبری کا اظہار اوراللہ عزوجل کی رضا پر عدم اطمینان اور اس کے اس عمل پر ناراضی ظاہر کرنا ہے جو کہ احادیث میں منع ہے۔(الموسوعة الفقهية الكويتية،جلد11،صفحہ351،دارالسلاسل،الكويت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’ لایجوز صبغ الثیاب اسودتأسفاعلی المیت ‘‘

ترجمہ:میت کے سوگ کے طورپرسیاہ رنگ کے کپڑے پہننا جائزنہیں ۔ (فتاوی عالمگیری،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع،ج5،ص333،مطبوعہ کوئٹہ)

ردالمختار میں ہے

”ولاتعذر فی لبس السواد وھی آثمة الا الزوجة فی حق زوجھا فتعذر فی ثلاثة ایام“

سیاہ لباس پہننے میں وہ معذور نہ ہوگی وہ گناہ گار ہوگی مگر بیوی اپنے خاوند کے حق میں ایسا کرسکتی ہے پس تین دن تک اس کا عذر قبول کیا جائے گا۔( ردالمختار ، کتاب الطلاق ،جلد 6، صفحہ 287 ، مطبوعہ بیروت)

فتاویٰ تاتار خانیہ میں ہے

”وفی الیتیمۃ سئل ابو الفضل عن المرأۃ یموت زوجھا او ابوھا اوغیرھا من الاقرباء فتصبغ ثوبھا اسود فی المتن فتلبسھا شھرین او ثلاثۃ او اربعۃ تأسفا علی المیت ھل تعذر فی ذلک ؟فقال: لا،وسئل عنھا علی بن احمد فقال : لاتعذر وھی آثمۃ فی ذلک الا الزوجۃ فی حق زوجھا فانھا تعذر الی ثلاثۃ ایام‘‘

ترجمہ:اور ’’یتیمہ‘‘میں ہے کہ علامہ ابوالفضل سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر یا والد یا کوئی اور رشتے دار فوت ہوگیا ،تو اس نے اپنے کپڑوں کوسیاہ رنگ سے رنگا اور متن میں ہے کہ دویا تین یا چار ماہ میت کے غم کی وجہ سے سیاہ کپڑے پہنے رہی ،تو کیا اس عورت کے لئے یہ جائز ہے؟ توانہوں نے فرمایا:نہیں اور علامہ علی بن احمد علیہ الرحمۃ سے یہی سوال پوچھاگیا(یعنی عورت کا میت کے غم میں سیاہ کپڑے پہننا)،تو انہوں نے فرمایاکہ اس عورت کے لئے (سیاہ کپڑے پہننا)جائز نہیں اور اگر پہنے گی توگنہگار ہوگی،مگر یہ کہ بیوی کہ جب اس کا شوہر فوت ہوجائے تو صرف تین دن تک پہن سکتی ہے۔(فتاوی تاتارخانیہ،کتاب الطلاق،ج4،ص55، مطبوعہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے:

”کسی کے مرنے کے غم میں سیاہ کپڑے پہننا جائز نہیں، مگر عورت کو تین دن تک شوہر کے مرنے پر غم کی وجہ سے سیاہ کپڑے پہننا جائز ہے، اور سیاہ کپڑے غم ظاہر کرنے کے لیے نہ ہوں تو مطلقاً جائز ہیں۔“(بہارشریعت ،جلد 1 ،حصہ 8،صفحہ 243، 244، مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

18شوال المکرم 1445ھ26 اپریل 2024ء

نظر ثانی وترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں