بیوہ کا دورانِ عدت مکان تبدیل کرنا
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شوہر کی وفات کے وقت ہم جس کرائے کے گھر میں رہتے تھے، شوہر کے انتقال کے بعد میں اکیلی ہونے کی وجہ سے گھر کا کرایہ ایفورڈ نہیں کر پارہی اور کم کرائے والے گھر میں شفٹ ہونا چاہتی ہوں تو کیا میں عدت کے دوران اس مجبوری کی وجہ سے گھر شفٹ کر سکتی ہوں؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر تو کرایہ بہت زیادہ ہے کہ آپ اس کو ادا کرنے سے قاصر ہیں تو تبدیلی کی اجازت ہے ورنہ نہیں۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شوہر کا انتقال ہوجانے کی صورت میں عورت پر اس گھر میں عدت پوری کرنا واجب ہے کہ جو گھر شوہر نے انتقال کے وقت رہائش کے لیے دیا ہوا تھا، بغیر ضرورت شرعی اس گھر سے دوسرے گھر میں شفٹ ہونا جائز نہیں۔ ضرورت شرعی کی صورتیں یہ ہیں مثلاً: کسی شخص نے رہائش کے لیے گھر دیا ہوا تھا لیکن اب جبرا خالی کرادیا یا کرائے کے مکان میں رہتی تھی لیکن اب کرایہ دینے کی طاقت نہیں یا مکان گر پڑا یا گرنے والا ہے، اسی طرح جان یا مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، تو ان صورتوں میں رہائش کردہ گھر سے زیادہ قریب جس گھر میں رہائش کرنا ممکن ہو وہاں شفٹ ہونا جائز ہے، لیکن اگر مکان تو کرایہ کا ہے لیکن کرایہ دینے کی قدرت ہے اگرچہ کچھ زیادہ ہے تو پھر اسی مکان میں ہی عدت گزارنا لازم ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”علی المعتدۃ أن تعتد في المنزل الذي یضاف إلیھا بالسکنیٰ حال وقوع الفرقة والموت“
ترجمہ: شوہر کی موت یا فرقت کے وقت معتدہ عورت جس مکان میں رہائش پذیر تھی، اسی مکان میں عدت گزارنا لازمی ہے۔(فتاوی عالمگیری، کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر فی الحداد، جلد1، صفحہ535، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
”و أما في حالة الضرورة فإن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على متاعها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل“
ترجمہ: ضرورت کی صورت یہ ہے کہ عورت گھر سے نکلنے پر مجبور ہو اس طرح کہ اسے گھر گرنے کا خوف ہو یا سامان کا خوف ہو یا مکان کرائے کا ہو اور کرایہ دینے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو، اور عدت، عدت وفات ہو تو یہاں سے منتقل ہونے میں کوئی حرج نہیں، اور اگر کرایہ دینے کی استطاعت ہو تو پھر منتقل نہیں ہوسکتی۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، جلد4، صفحہ 451، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
”وتعتدان أي معتدة طلاق و موت في بیت وجبت فيه ولا تخرجان منه إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل أو تخاف انهدامه أو تلف مالها أو لا تجد كراء البيت و نحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه وفي الطلاق إلى حيث شاء الزوج“
ترجمہ: موت اور طلاق کی عدت والی عورتیں اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں عدت واجب ہوئی اور وہاں سے باہر نہ نکلیں مگر یہ کہ ان کو جبرا نکالا جائے یا وہ مکان گر جائے یا گرنے کا خطرہ ہو، یا وہاں مال کے نقصان کا خطرہ ہو یا مکان کرایہ پر تھا عورت میں کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو یا اور اس قسم کی ضروریات ہوں تو قریب ترین مکان میں منتقل ہو جائے، اور طلاق والی کو یہ حکم ہے کہ جہاں پر خاوند اسے سکونت دے وہاں رہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الحداد، جلد5، صفحہ229، مطبوعہ: دار المعرفۃ، بیروت)
در مختار مع رد المحتار میں ہے:
”(قوله: أو لا تجد كراء البيت) أفاد أنها لو قدرت عليه لزمها من مالها“
ترجمہ: یا معتدہ کے پاس گھر کا کرایہ نہ ہو، اس عبارت سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معتدہ کرایہ ادا کرنے کی قدرت رکھتی ہو تو اس پر اپنے مال سے کرایہ ادا کرنا لازم ہوگا۔ (در مختار رد المحتار، کتاب الطلاق، باب العدۃ، جلد5، صفحہ229، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”تاختمِ عدت عورت پر اسی مکان میں رہنا واجب ہے، دوسرے مکان میں چلے جانا ہرگز جائز نہیں، مگر یہ مکان اس کا نہ تھا مالکانِ مکان نے جبراً نکال دیا، یا کرایہ پر رہتی تھی اب کرایہ دینے کی طاقت نہیں یا مکان گر پڑا یا گرنے کو ہے یا اور کسی طرح اپنی جان یا مال کا اندیشہ ہے غرض اسی طرح کی ضرورتیں ہوں تو وہاں سے نکل کر جو مکان اس کے مکان سے قریب تر ہو اس میں چلی جائے ورنہ ہرگز نہیں۔“(فتاوی رضویہ، کتاب الطلاق، باب الحداد، جلد13، صفحہ327، ملتقطا، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”جس مکان میں عدت گزارنا واجب ہے اُس کو چھوڑ نہیں سکتی مگر اُس وقت کہ اسے کوئی نکال دے مثلاً کرایہ کا مکان ہے اور عدت عدتِ وفات ہے مالک مکان کہتا ہے کہ کرایہ دے یا مکان خالی کر اور اس کے پاس کرایہ نہیں یا وہ مکان شوہر کا ہے مگر اس کے حصہ میں جتنا پہنچا وہ قابل سکونت نہیں اور اب ورثہ اپنے حصہ میں اسے رہنے نہیں دیتے یا کرایہ مانگتے ہیں اور پاس کرایہ نہیں یا مکان ڈھ رہا ہو یا ڈِھْنے کا خوف ہو یا چوروں کا خوف ہو، مال تلف ہو جانے کا اندیشہ ہے یا آبادی کے کنارے مکان ہے اور مال وغیرہ کا اندیشہ ہے تو ان صورتوں میں مکان بدل سکتی ہے، اور اگر کرایہ کا مکان ہو اور کرایہ دے سکتی ہے تو اُسی میں رہنا لازم ہے۔ “(بہار شریعت، حصہ: 8، سوگ کا بیان، جلد2، صفحہ245-246، ملتقطا، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے:
”وفات کی عدت میں اگر مکان بدلنا پڑے تو اس مکان سے جہاں تک قریب کا میسر آسکے اُسے لے۔“(بہار شریعت، حصہ: 8، سوگ کا بیان، جلد2، صفحہ246، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ تعالی أعلم بالصواب۔
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔
️مؤرخہ 26 شعبان المعظم 1445ھ بمطابق 08مارچ 2024ء، بروز جمعۃ المبارک