درزی نے کپڑا خراب سلائی کر دیا یا گم کردیا توشرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر درزی نے کپڑے خراب کردیئے یا گم کر دیئے تو اب کیا حکم ہوگا ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق اگر درزی نے لمبائی ،چوڑائی وغیرہ میں ایک آدھا انچ تک فرق کردیا تو اس صورت میں کچھ بھی لازم نہیں آئے گا اور اگر خرابی ناپ وغیرہ میں اس سے زائد ہو تو اب ضامن ہوگا اور اگر سلوانے کے لیے کچھ اور دیا تھا اور سی کچھ اور دیا تو اب اپنے کپڑے کی قیمت اس سے لے لے اور سلا ہوا کپڑا اس کے پاس چھوڑ دے یا اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ کپڑا لے لے اور واجبی سلائی ادا کردے ۔ اگر درزی نے کپڑا کاٹ دیا اور پھر کہے کہ اب اس سے کپڑا نہیں بن سکتا تو اب تاوان دینا ہوگا۔
کپڑا گم ہونےیا دوسرے نقصان کی صورت میں اگر دونوں کے درمیان یہ طے ہو جاتا ہے کہ نقصان پر ضمان دینا ہوگا تو اب اس سے تاوان لے سکتے ہیں مگر کچھ طے نہیں ہوا تو درزی پر تاوان ہوگا یا نہیں تو اس میں دیکھا جائے گا کہ اگر کسی قدرتی آفت سے وہ کپڑا ضائع ہوگیا ہے تو تاوان نہیں ہوگا۔ اگر وہ چوری ہوگیا ہے اور درزی نیک و ایماندار شخص ہے تو اب بھی اس پر تاوان نہیں ہوگا۔ اگر وہ نیک و ایماندار نہیں تو وہ تاوان دے گا۔ اگر اس درزی کے متعلق کچھ پتہ نہیں کہ ایماندار ہے یا نہیں تو اب آدھے کپڑے کا تاوان اس سے لیا جائے گا۔
ردالمختار میں ہے
”قال للخیاط اقطع طوله وعرضه وکمه کذا فجاء ناقصا ان قدر اصبع ونحوہ عفو وان کثر ضمنه قال ان کفانی قمیصا فاقطعه بدرھم وخطه فقطعه ثم قال لایکفیك ضمنه“
ترجمہ:اس نے درزی سے کہا کہ اس کپڑے کو کاٹو اس کا طول اس کا عرض اور اس کی آستین اتنی ہو تو وہ اسے ناقص صورت میں لایا اگر تو وہ انگلی وغیرہ کے برابر ہو تو معاف ہے اگر اس سے زائد ہو تو اس کا ضامن ہوگا۔یہ کہا کہ اگر یہ کپڑا میری قمیص کے لیے کافی ہو تو ایک درہم میں اسے کاٹو اور سی دو اس درزی نے اسے کاٹا اور پھر کہا کہ تیرے لیے یہ کافی نہیں تو اس کا ضامن ہوگا ۔(ردالمختار ،جلد 09، صفحہ 811 ، دار الفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے :
”درزی کواچکن سینے کے لیے کپڑا دیااُس نے کرتہ سی دیا درزی سے اپنے کپڑے کی قیمت لے لے اور وہ سلاہوا کپڑااُسی کے پاس چھوڑ دے اور کپڑے والے کو یہ بھی اختیار ہے کہ کرتہ لے لے اور اُس کی واجبی سلائی دیدے مگریہ اُجرت مثل اگر اُس سے زیادہ ہے جو مقرر ہوئی تو وہی دے گا جو مقرر ہوئی یہی حکم اُس صورت میں ہے کہ کرتہ سینے کوکہا تھااُس نے پاجامہ سی دیا۔۔۔۔۔۔۔
درزی سے کہہ دیا کہ اتنالمبا اور اتنا چوڑا ہوگا اور اتنی آستین ہوگی مگر سی کرلایا تو اُس سے کم ہے جتنا بتایا اگرایک آد ھ ا ونگل کم ہے معاف ہے اور زیادہ کم ہے تو اُسے تاوان دینا پڑے گا۔۔۔۔۔۔“
آگے فرماتے ہیں :
”درزی سے کہا اس کپڑے میں میری قمیص ہوجائے تواسے قطع کرکے اتنے میں سی دو اُس نے کپڑا کاٹ دیا اب کہتا ہے کہ اس میں تمہاری قمیص نہیں ہوگی درزی کو تاوان دینا ہوگا۔“(بہار شریعت جلد 2 حصہ 14 صفحہ 134 مکتبہ المدینہ کراچی)
فتاویٰ امجدیہ میں ہے :
”اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تفاوت ہو یعنی اس کام کے کرنے والے یہ کہیں کہ یہ فرق ہے تو اختیار ہے کہ کپڑے کی قیمت لے یا وہی سلا ہوا کپڑا اور اس صورت میں سلائی وہ دے جو خراب سلے ہوئے کی ہونی چاہیے نہ وہ جو باہم ٹھہر چکی اور تھوڑا فرق ہو تو تاوان لینا جائز نہیں ہے اور صورت مسئولہ میں چونکہ بہت زیادہ تفاوت نہیں کہ کپڑا الٹا نہیں سیا گیا بلکہ بوٹیوں کا رخ جو اوپر ہونا چاہیے نیچے ہوگیا معمولی درزیوں کو اس کی تمیز بھی نہیں ہوتی لہذا تاوان جائز نہیں ہے اور وہ سلائی دی جائے گی جو اس کی ہونی چاہیے نہ وہ جو باہم ٹھہر چکی ہے ۔“(فتاویٰ امجدیہ ، کتاب الاجارۃ، جلد 3، صفحہ 269 ، مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)
فتویٰ رضویہ میں ہے :
” اگر اجیر ِمشترک اور آجِر کے درمیان یہ طے ہوجاتا ہے کہ نقصان پر ضمان دینا ہوگا تو ٹھیک ہے پھر تاوان لیا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا یہاں بھی اگر دونوں کے درمیان پہلے سے طے ہو تو پھر نقصان کا تاوان اجیر پر لازم ہوگااور دھوبی کو تاوان دینا ہوگا۔“
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرّحمٰن فرماتے ہیں :
” اگرپہلے سے شرط ہوجائے جب تو بالاجماع اس پر ضمان لازم۔ جامع الفتاوٰی والنوازل واشباہ والنظائر وغیرہما میں اسی پر جزم فرمایا۔ “ (فتاویٰ رضویہ ،جلد 19 صفحہ،571 ،رضا فائونڈیشن لاہور)
فتاویٰ ھندیہ میں ہے
”وحکم الاجیر المشترک ان ھلك فی یدہ من غیر صنعه فلا ضمان علیه فی قول ابی حنیفه رضی اللہ تعالیٰ عنه“
اور اجیر مشترک کا حکم یہ ہے کہ اگر مال اس کی تعدی کے بغیر ہلاک ہوا تو اس پر ضمان نہیں ہوگا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک ۔(فتاویٰ ھندیہ ،جلد 3، صفحہ 555، دار الفکر بیروت)
ردالمختار میں ہے
”ولا یضمن ما ھلك فی یده اعلم ان الھلاك اما بفعل الاجیر او لا والاول اما بالتعدی او لا والثانی اما ان یمکن الاحتراز او لا ففی الاول بقسمیه یضمن اتفاقاً وفی الثانی لا یضمن عند الامام مطلقاً وقیل ان مصلحا لایضمن او غیر مصلح ضمن وان مستور الحال فالصلح۔۔۔
مطلب یفتی بالقیاس علی قوله وفی البدائع لایضمن عندہ ما ھلک بغیر صنعہ قبل او بعدہ لانہ امانہ فی یدہ وھو القیاس وقالا یضمن الا من حرق غالب او لصوص مکابرین وھو استحسان ۔۔۔وفی التبیین وبقولھما یفتی لتغیر احوال الناس وبہ یحصل صیانه اموال الناس لانه اذا اعلم لایضمن ربما یدعی انه سرق او ضاع من یدہ“
ترجمہ:اس کے ہاتھ میں جو چیز ہلاک ہوگئی اس کا ضامن نہیں ہوگا یہ جان لو کہ ہلاکت یا تو اجیر کے فعل سے ہوگی یا اجیر کے فعل سے نہیں ہوگی پہلی صورت میں یا تو تعدی کے ساتھ ہوگی یا تعدی کے ساتھ نہیں ہوگی دوسری صورت میں یا تو اس سے بچنا ممکن ہوگا یا بچنا ممکن نہیں پہلی صورت میں دونوں قسموں میں بالاتفاق ضامن ہوگا اور دوسری صورت میں دوسری قسم میں وہ ضامن نہیں ہوگا امام اعظم کے نزدیک ۔یہ بھی کہا گیا کہ اگر وہ مصلح ہو تو وہ ضامن نہیں ہوگا اور اگر غیر مصلح ہو تو ضامن ہوگا اور اگر مستور الحال ہو تو صلح جائز ہوگی۔
اور قیاس کے مطابق امام اعظم کے قول پر فتویٰ دیا جائے گا بدائع میں ہے کہ امام اعظم کے نزدیک وہ اس کا ضامن نہیں ہوگا جو اس کے عمل کے بغیر ہلاک ہو جائے یہ عمل سے پہلے ہو یا بعد میں کیونکہ یہ چیز اس کے قبضہ میں امانت ہے یہی قیاس ہے اور صاحبین کے نزدیک وہ ضامن ہوگا مگر ایسی آگ سے جل جائے جو غالب ہو یا ایسے چوروں کی وجہ سے ضائع ہو جائے جو مکابر ہو اور یہی استحسان ہے۔۔۔۔تبیین میں ہے کہ اب صاحبین کے قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے احوال تبدیل ہوچکے ہیں اور اسی سے لوگوں کے اموال کی حفاظت ہوتی ہے کیونکہ جب یہ معلوم ہوگا کہ وہ ضامن نہیں ہوگا تو وہ بعض اوقات یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ مال چوری ہوگیا یا مال اس کے ہاتھ سے ضائع ہوگیا۔(ردالمختار ،جلد 9 ،صفحہ 111، 110، دار الفکر بیروت)
فتاویٰ خیریہ و اسعدیہ میں ہے
”مسئلة اجیر مشترک فیھا ثلثة اقوال بل اربعة عدم ضمان مطلقا والضمان مطلقا والصلح علی النصف جبرا عملا بالقولین وفی جامع الفصولین رامز الفوائد صاحب المحیط لو کان الاجیر صالحا یبرا بیمینه ولو کان بخلافه یضمن ولو کان مستورا یؤمر بالصلح فھذہ اربعة کلھا مصححه مفتی بھا واما حسن التفصیل الاخیر “
ترجمہ:مشترک اجیر کے مسئلہ میں تین اقوال ہیں بلکہ چار اقوال ہیں :مطلقا عدم ضمان، مطلقا ضمان، نصف ضمان پر جبرا صلح ، تاکہ دونوں اقوال پر عمل ہو اور جامع الفصولین میں صاحب محیط کے فوائد کا اشارہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اجیر صالح شخص ہے تو قسم لے کر بری کیا جائے گا اور غیر صالح ہو تو ضمان لیا جائے اور مستور الحال ہو تو صلح کا فیصلہ دیا جائے گا تو یہ چار قول ہوئے اور تمام کے تمام پر فتویٰ صحیح ہے اور آخری تفصیل کیا اچھی ہے۔(فتاویٰ خیریہ ، جلد 2 ،صفحہ 141، دار المعرفۃ بیروت)
فتویٰ رضویہ میں ہے:
”جمہور آئمہ متاخرین وصحابہ وتابعین رضی اللہ عنھم اجمعین کے اختلافات کو دیکھ کر وہ قول اختیار فرمایا ہے کہ اجیر اگر صلحائے متقین سے ہے تو قول امام مختار ہے یا اس کے خلاف ہے تو قول صاحبین وایجاب ضمان اور مستور الحال ہے تو دونوں قول کے لحاظ سے نصف واجب نصف ساقط اور شک نہیں کہ یہ قول جامع الاقوال ومراعی احوال وارفق الناس واحفظ الاموال ہے کہ تغیر حالات زمانہ اس پر حامل ہو اور اس میں ارفق واحتیاط دونوں پہلو کا لحاظ رہا امید کی جاتی ہے کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے یونہی حکم فرماتے۔“(فتویٰ رضویہ، جلد 19 ،صفحہ 573 ، رضا فائونڈیشن لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
15شوال المکرم 1445ھ23 اپریل 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری