جن دو عورتوں کے جسم باہم ملے ہوں ان سے نکاح
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر دو جڑواں بہنیں ہوں کہ دونوں کے جسم باہم ملے ہوئے ہوں ان سے نکاح کا کیا حکم ہے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق الصواب
صورتِ مسئولہ میں ان دونوں بہنوں کا نکاح کسی صورت میں بھی جائز نہیں ( نہ دونوں کاالگ الگ مردوں سے، نہ کسی ایک مرد سے ) کیونکہ یا تو دو بہنوں کا ایک مرد کے نکاح میں اکھٹا کرنا پایا جائے گا جو کہ جائز نہیں ۔ اگر دونوں الگ مرد حضرات سے کرتی ہیں تو ازدواجی تعلق قائم کرتے وقت ستر کی بے پردگی ہوگی؛ لہذا ایسی بہنوں کو نکاح کے بغیر صبر کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے۔
اللہ پاک فرماتاہے:
”وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ“
ترجمہ:اور دو بہنوں کو (ایک مردکے نکاح میں)اکٹھا کرنا (حرام ہے۔)(سورۃ النساء آیت:23)
اللّٰہ پاک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
”ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا حتی یغنیھم اﷲ من فضلہ“ترجمہ:جو نکاح کی طرف کوئی راہ نہ پائیں وہ بچے رہیں جب تک اللہ اپنے فضل سے انھیں بے پرواہ کردے۔ ( سورةالنور آیہ: ٣٣)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
”یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وِجَاء“
ترجمہ: اے گروہ نوجوانان! تم میں جسے نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کرے کہ نکاح پریشان نظری وبدکاری روکنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے اور جسے ناممکن ہو اس پر روزے لازم ہیں کہ کسر شہوت نفسانی کردیں گے۔ (صحیح البخاری، کتاب النکاح مطبوعہ، قدیمی کتب خانہ پشاور ۲/۷۵۸)
امام اہلسنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ایسے ہی باہم جڑی ہندو بہنوں کے بارے میں سوال ہوا کہ اگر یہ مسلمان ہو جائیں تو ان کے نکاح کی صورت کیا ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا:
”اور بالفرض اگر (یہ خبر) صحیح بھی ہو اور وہ دونوں مسلمان بھی ہو جائیں تو شریعت مطہرہ نے کوئی مسئلہ لاجواب نہیں چھوڑا ، بھلا یہ صورت تو بہت بعید ہے، فرض کیجئے جو عورت ابتدائے بلوغ سےمعاذ اللّٰہ جزام و برص میں مبتلا ہو اور اس کے ساتھ ایسی کریہہ المنظر کہ اسے کوئی قبول نہ کرتا نہ کہ بحالت جزام، اس کے لیے کیا صورت ہوگی، اسے شرع کیا حکم دے گی، ہاں اسے عفت و صبر کا حکم فرماتی ہے اور روزوں کی کثرت اس کا علاج بتاتی ہے، اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے:
ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا حتی یغنیھم اﷲ من فضلہ ۔
ترجمہ: جو نکاح کی طرف کوئی راہ نہ پائیں وہ بچے رہیں جب تک اللہ اپنے فضل سے انھیں بے پرواہ کردے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وِجَاء ۔
ترجمہ: اے گروہ نوجوانان! تم میں جسے نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کرے کہ نکاح پریشان نظری وبدکاری روکنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے اور جسے ناممکن ہو اس پر روزے لازم ہیں کہ کسر شہوت نفسانی کردیں گے۔
یہی حکم وعلاج اس عجوبہ خلقت کے لیے ہوگا۔“(فتویٰ رضویہ جلد 11، صفحہ 220، 221 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ: محمد افضل عطاری مدنی
16 شوال 1445 ہجری
25/04/2024