بھیک مانگنے والوں کو زکوۃ دینا

بھیک مانگنے والوں کو زکوۃ دینا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا بھیک مانگنے والوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق تندرست قابل کاسب کا بھیک مانگنا حرام ہے اسی طرح جگہ جگہ مخصوص افراد گھروں یا بازاروں وغیرہ میں آکر مانگتے ہیں کہ ان کو دینا بھی گناہ ہے رہی زکوٰۃ تو چونکہ وہ شرعی فقیر کے طور پر ہی آیا ہے اور اس نے سوال کیا اور اس نے اسے فقیر جان کر زکوٰۃ دی تو زکوٰۃ ادا ہوگئی لیکن دینا منع ہے کہ ایک تو ان کی گناہ پر معاونت ہوگی اور دوسرا عام طور پر یہ پیشہ ور ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ یہ مالک صاحب نصاب ہوتے ہیں۔

لہذا خوب غور وفکر کرکے مستحق زکوٰۃ ہی کو زکوٰۃ دی جائے پیشہ ور کو تو نفلی صدقات دینا بھی منع ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ مستحق نہیں ہے تب تو دینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور جو واقعی مال نہیں رکھتے یا کمانے کی طاقت نہیں رکھتے ایسے لوگوں کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بھیک مانگنے کی اجازت ہے اور انہیں زکوٰۃ دینا بھی بہتر ہے۔

صحیح البخاری میں ہے

”وعن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مایزال الرجل يسأل الناس حتی یاتی یوم القيامة لیس فی وجهه مزعة لحم“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہ ہوگا۔ (بخاری،ج 1ص497، حدیث: 1474،مطبوعہ کراچی)

مراٰۃُ المناجیح میں ہے:

” یعنی پیشہ وربھکاری اور بِلا ضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہوگی گوشت کا نام نہ ہوگا۔ جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا، یا یہ مطلب ہے کہ اس کے چہرے پر ذِلَّت و خواری کے آثار ہوں گے، جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا، لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے۔“( مراٰۃالمناجیح،ج3،ص56، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

فتویٰ رضویہ میں حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے سوال ہوا:

’’ جو لوگ تندرست و توانگر کھاتے پیتے ہیں انھوں نے اپنا پیشہ گدائی اور فقیری اور محتاجگی کا مقرر کیا ہے اور دربدر شہر بہ شہر بھیک مانگتے سوال کرتے پھرتے ہیں اور ہرگز محنت مزدو ری نہیں کرتے اگر چہ مالدار آسودہ حال ہیں ایسے لوگوں کو بھیک مانگنا اور سوال کرنا حلال ہے یا حرام؟ اور اگر حرام ہے تو دینا بھی بوجہ اعانت علی الحرمۃ، حرام اور ممنوع ہے یا نہیں؟“

اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

’’جو اپنی ضروریات شرعیہ کے لائق مال رکھتا ہے یا اس کے کسب پر قادر ہے اُسے سوال حرام ہے اور جو اس مال سے آگاہ ہو اُسے دینا حرام، اور لینے اور دینے والا دونوں گنہگار و مبتلائے آثام۔ صحاح میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فر ماتے ہیں:’’لاتحل الصدقۃ لغنی ولذی مرۃ سوی رواہ الائمۃ احمد والدارمی والاربعۃ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ“صدقہ حلال نہیں ہے کسی غنی کے لیے، نہ کسی تندرست کے لیے( اسے امام احمد، دارمی اور چاروں ائمہ نے حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔‘‘(فتاوی رضویہ ،جلد 10،صفحہ306،307،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ایک اور مقام پر فرماتےہیں :

’’اسی باب سے ہے کہ قوی تندرست قابل کسب جو بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیک مانگنا حرام ہے اور ان کودینے میں اس حرام پرمدد، اگر لوگ نہ دیں تو جھک ماریں اور کوئی پیشہ حلال اختیار کریں۔درمختار میں ہے: لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کا لصحیح المکتسب ویأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم “یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سوال کرے جبکہ اس کے پاس ایک دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہو، جیسے تندرست کمائی کرنے والا، اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ حرام پر اس نے اس کی مدد کی۔“ (فتاوی رضویہ ،جلد 23،صفحہ463،464،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے :

” آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں، مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے، کون محنت کرے مصیبت جھیلے،بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے۔ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہتیرے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزتی و بے غیرتی ہے مایہ عزت جانتے ہیں اور بہتوں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے، گھر میں ہزاروں روپے ہیں سود کا لین دین کرتے زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں۔ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو، اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے۔‘‘(بہار شریعت ،جلد 1، حصہ 5،صفحہ941، مکتبۃ المدینہ کراچی )

بہارشریعت میں ہے :

’’جس کے پاس آج کھانے کو ہے یا تندرست ہے کہ کما سکتا ہے اُسے کھانے کے لیے سوال حلال نہیں اور بے مانگے کوئی خود دے دے تو لینا جائز اور کھانے کو اُس کے پاس ہے مگر کپڑا نہیں تو کپڑے کے لیے سوال کر سکتا ہے۔۔۔۔ ، جسے سوال جائز نہیں اُس کے سوال پر دینا بھی ناجائز دینے والا بھی گنہگار ہوگا۔‘‘(بہار شریعت ،جلد 1، حصہ 5،صفحہ934، مکتبۃ المدینہ )

بہار شریعت میں ہے :

”جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں اورزکاۃ دے دی بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصرف زکاۃ ہے یا کچھ حال نہ کُھلا تو ادا ہوگئی اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اُس کے والدین میں کوئی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا یا زوجہ تھی یا ہاشمی یا ہاشمی کا غلام تھا یا ذمّی تھا، جب بھی ادا ہوگئی اور اگر یہ معلوم ہوا کہ اُس کا غلام تھا یا حربی تھا تو ادا نہ ہوئی۔ اب پھر دے اور یہ بھی تحری ہی کے حکم میں ہے کہ اُس نے سوال کیا، اس نے اُسے غنی نہ جان کر دے دیا یا وہ فقیروں کی جماعت میں انھیں کی وضع میں تھا اُسے دے دیا۔“(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 5، صفحہ 938 ،مکتبہ المدینہ کراچی)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

”لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية ، وهي مسكنه ، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه ، ومركبه وسلاحه ، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي“

ترجمہ : ” جو شخص مالکِ نصاب ہو یعنی اس کی ملکیت میں مال ہو جیسا کہ دینار یا دراہم یا چرائی کے جانور یا تجارت کا سامان ہو یا تجارت کے علاوہ کوئی ایسا سامان ہو جوپورے سال اس کی حاجت سے زائد رہا ہو جیسا کہ زاہدی میں مذکور ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ مال اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو، حاجتِ اصلیہ سے مراد راس کا ہائشی گھر، امورِ خانہ داری کا سامان، کپڑے، خادم، سواری، ہتھیار وغیرہ ہیں، اس میں نماء کی بھی شرط نہیں کہ مالِ نامی کا ہونا زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے ضروری ہے زکوٰۃ کی وصولی حرام ہونے کے لیے اس کی شرط نہیں، جیسا کہ کافی میں مذکور ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الزکاۃ، ج 01، ص 189،مطبوعہ پشاور)

بہارِ شریعت میں ہے:

”جو شخص مالک نصاب ہو (جبکہ وہ چیز حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو یعنی مکان، سامان خانہ داری، پہننے کے کپڑے، خادم، سواری کا جانور، ہتھیار،اہلِ علم کے لیے کتابیں جو اس کے کام میں ہوں کہ یہ سب حاجتِ اصلیہ سے ہیں اور وہ چیز ان کے علاوہ ہو، اگرچہ اس پر سال نہ گزرا ہو اگرچہ وہ مال نامی نہ ہو) ایسے کو زکاۃ دینا جائز نہیں۔ اور نصاب سے مرادیہاں یہ ہے کہ اُس کی قیمت دو سو 200درہم ہو، اگرچہ وہ خود اتنی نہ ہو کہ اُس پر زکاۃ واجب ہو مثلاً چھ تولے سونا جب دو سو 200درہم قیمت کا ہو تو جس کے پاس ہے اگرچہ اُس پر زکاۃ واجب نہیں کہ سونے کی نصاب ساڑھے سات تولے ہے مگر اس شخص کو زکاۃ نہیں دے سکتے یا اس کے پاس تیس بکریاں یا بیس گائیں ہوں جن کی قیمت دو سو 200درہم ہے اسے زکاۃ نہیں دے سکتا، اگرچہ اس پر زکاۃ واجب نہیں یا اُس کے پاس ضرورت کے سوا اسباب ہیں جو تجارت کے لیے بھی نہیں اور وہ دو سو 200درہم کے ہیں تو اسے زکاۃ نہیں دے سکتے۔ “ ( بہار شریعت ، ج 01، ص 929-928، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاویٰ فیض الرسول میں ہے

”بھیک مانگنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں:

ایک مالدار جیسے بہت سے قوم کے فقیر، جوگی اور سادھو۔ انہیں بھیک مانگنا حرام اور انہیں دینا بھی حرام ایسے لوگوں کو دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہو سکتی۔

دوسرے وہ جو حقیقت میں فقیر ہیں یعنی نصاب کے مالک نہیں ہیں مگر مضبوط وتندرست ہیں، کمانے کی قوت رکھتے ہیں اور بھیک مانگنا کسی ایسی ضرورت کے لئے نہیں جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔ مزدوری وغیرہ کوئی کام نہیں کرنا چاہتے مفت کھانا کھانے کی عادت پڑی ہے جس کے سبب بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھیک مانگنا حرام ہے اور جو انہیں مانگنے سے ملے وہ ان کے لئے خبیث ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

” لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ.

یعنی نہ کسی مالدار کے لئے صدقہ حلال ہے اور نہ کسی توانا تندرست کے لئے۔ ایسے لوگوں کو بھیک دینا منع ہے کہ گناہ پر مدد کرنا ہے۔ لوگ اگر نہیں دیں گے تو محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوں گے۔

قال اللّٰه تعالٰی: وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪ [ المائدة: ٢]

ترجمہ: یعنی گناہ وزیادتی پر مدد نہ کرو۔

مگر ایسے لوگوں کو دینے سے زکاۃ ادا ہو جائے گی جبکہ اور کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ مالک نصاب نہیں ہیں۔

اور بھیک مانگنے والوں کی تیسری قسم وہ ہے کہ جو نہ مال رکھتے ہیں اور نہ کمانے کی طاقت رکھتے ہیں یا جتنے کی حاجت ہے اتنا کمانے کی طاقت نہیں رکھتے ایسے لوگوں کو اپنی حاجت پوری کرنے بھر کی بھیک مانگنا جائز ہے اور مانگنے سے جو کچھ ملے وہ اس کے لئے حلال وطیب ہے اور یہ لوگ زکاۃ کے بہترین مصرف ہیں۔ انہیں دینا بہت بڑا ثواب ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جنہیں جھڑکنا حرام ہے ۔“(فتاوی فیض الرسول ج 1، ص 467، اکبر بک سیلرز لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

23 رمضان المبارک1445ھ02 اپریل 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں