مسجد میں سحری و افطاری کا حکم

مسجد میں سحری و افطاری کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ مسجد میں افطاری اور سحری کرنے کا کیا حکم ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق غیر معتکف کا مسجد میں کھانا پینا جائز نہیں ہے البتہ اگر کھانے پینے کا ارادہ ہو تو نفلی اعتکاف کی نیت کرلی جائے پہلے ذکر اللہ کیا جائے اور عبادات بجا لائی جائے اور اب چاہے تو کھا پی سکتا ہے ۔اسی طرح رمضان المبارک میں بھی سحری اور افطاری کے اوقات میں اعتکاف کی نیت کرلی جائے پھر رضا الہی کی خاطر ذکر اللہ و نماز ادا کرکے سحری وافطاری کی جاسکتی ہے مگر اس میں بھی یہ خیال رکھا جائے کہ کھانے کے ذرات مسجد کے فرش پر نہ گرے اور مسجد آلودہ نہ ہو اورشورشرابہ نہ ہو، اس کے آداب کو بہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔

ردالمحتار میں ہے

”واذا اراد ذلك ینبغی ان ینو ی الاعتکاف فیدخل فیذکر ﷲ تعالی بقدر مانوی او یصلی ثم یفعل ماشاء“

ترجمہ: جب ارادہ کرے کھانے پینے کا ، تو اعتکاف کی نیت کرے ، پھر مسجد میں داخل ہوجائے ۔ پس اﷲ تعالی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نمازپڑھے ، پھر وہاں جو چاہے کرے۔ ( ردالمحتار ، باب الاعتکاف، جلد 2 ، صفحہ 246 ، مطبوعہ کوئٹہ)

فتویٰ ھندیہ میں ہے

”یکرہ النوم والاکل فیہ الغیر المعتکف واذا اراد ذلك ینبغی ان ینو ی الاعتکاف فیدخل فیذکر ﷲ تعالٰی بقدر مانوی او یصلی ثم یفعل ماشاء۔ ۔“

ترجمہ:مسجد میں سونا اور کھانا غیر معتکف کے لئے مکروہ ہے،جب ارادہ کرے کھانے پینے کا تو اعتکاف کی نیت کرے ، پھر مسجد میں داخل ہوجائے ۔ پس ﷲ تعالی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نمازپڑھے ، پھر وہاں جو چاہے کرے۔ ( فتاوٰی ہندیہ ،کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد، جلد 5 ، صفحہ 321 ، مطبوعہ پشاور )

ردالمختار میں ہے

”الظاھر ان مثل النوم الاکل والشرب اذا لم یشغل المسجدولم یلوثہ لان تنظیفہ واجب کما امر“

ترجمہ:ظاہر یہی ہے کہ کھانا پینا جبکہ مسجد کو ملوث نہ کرے اور نہ مسجد کو مشغول رہے تو یہ سونے کی طرح ہے کیونکہ مسجد کی نظافت کا خیال نہایت ہی ضروری ہے جیسا کہ گزرا۔ ( ردالمحتار ، باب الاعتکاف، جلد 2 ، صفحہ 246 ، مطبوعہ کوئٹہ)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”صحیح ومعتمد یہ ہے کہ مسجد میں کھانا پینا، سونا سوا معتکف کے کسی کو جائز نہیں ، مسافر یا حضری اگر چاہتا ہے تو اعتکاف کی نیت کیا دشوار ہے، اور اس کے لئے نہ روزہ شرط نہ کوئی مدت مقرر ہے، اعتکاف نفل ایک ساعت کا ہوسکتا ہے۔ مسجد کو گھر بنانا کسی کے لئے جائز نہیں ، وہ لوگ بھی بہ نیت اعتکاف رہ سکتے ہیں……… اگر واقعی وہ ہربار نیت اعتکاف کرتا اور کچھ دیر ذکر الہٰی کرکے کھاتا سوتا ہے تو حرج نہیں۔“(فتویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 96 95 رضا فائونڈیشن لاہور)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”مسجد میں سونا۔ کھانا بحالتِ اعتکاف جائز ہے، اگر جماعت معتکف ہو تو مل کر کھا سکتے ہیں ، بہر حال یہ لازم ہے کہ کوئی چیز، شوربایا ِشیر وغیرہ کی چھینٹ مسجد مین نہ گرے ، اور سوائے حالتِ اعتکاف مسجد میں سونا یا کھانا دونوں مکروہ ہیں خاص کر ایک جماعت کے ساتھ کہ مکروہ فعل کا اور لوگوں کو بھی اس میں مرتکب بناتاہے۔“(فتویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 97 رضا فائونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے :

”مسجد میں کھانا، پینا، سونا، معتکف اور پردیسی کے سوا کسی کو جائز نہیں ، لہٰذا جب کھانے پینے وغیرہ کا ارادہ ہو تو اعتکاف کی نیت کر کے مسجد میں جائے کچھ ذکر و نماز کے بعد اب کھا پی سکتا ہے اور بعضوں نے صرف معتکف کا استثنا کیا اور یہی راجح، لہٰذا غریب الوطن بھی نیتِ اعتکاف کرے کہ خلاف سے بچے۔“(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 652، مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

12رمضان المبارک1445ھ22مارچ 2024ء

نظرثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں