ماہ رمضان کے علاوہ وترکی جماعت

ماہ رمضان کے علاوہ وترکی جماعت

سوال:جس طرح ہم ماہِ رمضان میں تراویح ک بعد وترجماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں ماہِ رمضان کے بعد جماعت کے ساتھ کیوں نہیں پڑھ سکتے؟

User ID: Imran Ali

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

وترکی جماعت علاوہ رمضان منقول نہیں اسکاحکم نوافل کی طرح کاہے کہ چاریازائدمقتدی ہوں تومکروہ ہے۔نیزوترکی جماعت غیرِ رمضان میں کبھی اتفاقاہوجائے توحرج نہیں۔

درمختارمیں ہے: (ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر، ولا خلاف في صحة الاقتداء إذ لا مانع(شامی،کتاب الصلوۃ،باب الوتروالنوافل،ج2،ص49،بیروت)شامی میں ہے: ويمكن أن يقال: الظاهر أن الجماعة فيه غير مستحبة، ثم إن كان ذلك أحيانا كما فعل عمر كان مباحا غير مكروه، وإن كان على سبيل المواظبة كان بدعة مكروهة لأنه خلاف المتوارث، ۔۔۔وفي حاشية البحر للخير الرملي: علل الكراهة في الضياء والنهاية بأن الوتر نفل من وجه حتى وجبت القراءة في جميعها، وتؤدى بغير أذان وإقامة، والنفل بالجماعة غير مستحب لأنه لم تفعله الصحابة في غير رمضان وهو كالصريح في أنها كراهة تنزيه۔(ایضا) فتاوی رضویہ میں ہے: استسقاء کے سواہرنمازِ نفل و تراویح وکسوف کے سواہرنمازِ سنت میں ایسی جماعت جس میں چاریازیادہ مقتدی بنیں مکروہ ہے اوروتروں کی جماعت غیررمضان میں اگرکبھی اتفاقاہوجائے توحرج نہیں مگرالتزام کے ساتھ وہی حکم ہے کہ چاریازیادہ مقتدی ہوں توکراہت ہے۔(فتاوی رضویہ،ج7،ص426،لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

19شعبان المعظم 1445ھ/29فروی 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں