ویل چیئر یاآٹوسائیکل پرطواف

ویل چیئر یاآٹوسائیکل پرطواف

سوال:بغیرکسی شرعی عذرکے ویل چیئر یاآٹوسائیکل پرطواف کرنے کاکیاحکم ہے؟

User ID: Hafiz Riaz

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بغیرکسی عذرکے پیدل طواف نہ کیاتودم لازم آئے گاتاہم اگراسکااعادہ کرلیاتودم ساقط ہوجائےگا۔

محیط برہانی میں ہے: وينبغي أن يطوف بالبيت ‌ماشياً، ولو ‌طاف راكباً أو محمولاً، أو سعى بين الصفا والمروة راكباً أو محمولاً إن كان كذلك من عذر يجزئه، ولا يلزمه شيء، وإن كان من غير عذر، فما دام يمكنه، فإنه يعيد، وإذا رجع إلى أهله، فإنه يريق لذلك دماً عندنا۔بیت اللہ کاطواف پیدل کرناضروری ہے اگرکسی نے سواری پریاکسی پرلدکرطواف کیایااسی حالت میں صفامروہ کی سعی کی تواگرایساعذرکیوجہ سے ہو توکچھ لازم نہیں اوربغیرعذرکے ہوتوجب تک ممکن ہو اعادہ کرے اوراگرگھرلوٹ چکاہوتوہمارے نزدیک دم کیوجہ سے ایک جانورکاخون بہائے گا۔(محیط برہانی،کتاب المناسک،الفصل الثامن،ج2،ص461،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

13جمادی الاخری 1445ھ/27دسمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں