مسجد کے سولرمدرسے پر لگواکرانھیں بجلی بیچنا

مسجد کے سولرمدرسے پر لگواکرانھیں بجلی بیچنا

سوال:مسجد انتظامیہ نے لوگوں سے چندہ کرکے سولرپلیٹس خریدی ہیں اب میناروں کی چھاؤں کی وجہ سے وہ پلیٹس مدرسے کی چھت پر لگاکرمسجد کوسپلائی دینے کاارادہ ہے کیا یہ جائزہے نیز مدرسے کو سپلائی کرسکتے ہیں؟

User ID: Fakhar Zaman

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مسجد انتظامیہ کا چندہ جمع کرکے سولرپلیٹس لگاناتوایک اچھاعمل ہےکہ مسجد کو بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اوراداروں سے حاصل ہونے والی بجلی بہت مہنگی ہوچکی ہے۔تاہم مدرسہ ایک الگ وقفی ادارہ ہے اسکی چھت کومسجد کے کاموں کے لئے استعمال کرناجائزنہیں نہ اسے مسجد کی بجلی دیناجائزہے۔

ہندیہ میں ہے:لا يجوز ‌تغيير الوقف۔وقف کی تبدیلی جائزنہیں۔(کتاب الوقف،ج2،ص490،دارالفکر)

فتاوی فقیہ ملت میں ہے:مسجدکاسامان مدرسہ یاکسی اورجگہ لگاناجائزنہیں یہاں تک کہ ایک مسجدکاسامان دوسری مسجد میں نہیں لگاسکتے۔(فتاوی فقیہ ملت،باب فی المسجد،ج2ص144،لاہور)

مزیدہے:چندہ جس کام کےلئے لیاگیاہے اسکے غیر میں خرچ کرناجائزنہیں۔(ص166)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

21جمادی الاولیٰ 1445ھ/06دسمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں