نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لی ذکرکر لیا یا دُعا مانگ لی، اب سجدہ سہو کی یاد آئی تو شرعی حُکم؟
سوال:مفتی صاحب، اگر قعدہ اولی میں تشہد کے بعد درود پڑھ لیا، اب سجدہ سہو واجب تھا، مگر یاد نہ رہا اور سلام پھیر کر آیت الکرسی پڑھ لی، یاد آنے پر اسی وقت سجدہ سہو ادا کر لیا، نماز کا حکم کیا ہوگا؟
(سائل:محمد جُنید)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
سلام پھیرنے کے بعد اگر سجدہ سہو کی یاد آئے تو جب تک بندے نے کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ،اُسے فورا سجدہ سہو کر کے اپنی نماز مکمل کر لینی چاہیے،نماز ہو جائے گی،لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر صرف آیت الکرسی ہی پڑھی تھی، اور کوئی بھی منافی نماز فعل نہیں کیا تو سجدہ سہو ادا کرنے سے نماز ہو جائے گی،دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔
آیت الکرسی، ذکر اذکار ، دیگر اوراد و وظائف اور عربی میں دعائیہ کلمات کا بھی یہی حُکم ہے کہ اگر ان کے بعد بندے کو سجدہ سہو یاد آئے تو کر سکتا ہے، البتہ اُردو میں دعائیہ کلمات یا کسی سےکلام کے بعد یاد آئے تو اب سجدہ سہو نہیں کر سکتے بلکہ نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی۔
نورالایضاح میں ہے : ويسجد للسهو وإن سلم عامدا للقطع ما لم يتحول عن القبلة أو يتكلم.
[نور الإيضاح ونجاة الأرواح في الفقه الحنفي،كتاب الصلاة ،باب سجود السہو ، صفحة ٩٧]
در مختار مع ردالمحتار میں ہے : (ويسجد للسهو ولو مع سلامه) ناويا (للقطع) لأن نية تغيير المشروع لغو (ما لم يتحول عن القبلة أو يتكلم) لبطلان التحريمة…. أي بالتحول أو التكلم، وقيل لا يقطع بالتحول ما لم يتكلم أو يخرج من المسجد كما في الدرر عن النهاية إمداد. [الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)،كتاب الصلاة ،باب سجود السہو ، ٩١/٢]
بہار شریعت میں ہے : جس پر سجدۂ سہو واجب ہے اگر سہو ہونا یاد نہ تھا اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا تو ابھی نماز سے باہر نہ ہوا بشرطیکہ سجدۂ سہو کرلے، لہٰذا جب تک کلام یا حدث عمد، یا مسجد سے خروج یا اور کوئی فعل منافی نماز نہ کیا ہو اسے حکم ہے کہ سجدہ کر لے۔ [ بہارشریعت ،سجدہ سہو کا بیان ، جلد1 ،حصہ 4 ، مکتبۃالمدینہ ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
25 رجب المرجب 1445ء 06 فروری 2023ھ