میں ایک ڈاکٹر ہوں اور ہماری کچھ ورکشاپ ہوتی ہیں جس میں انسانی لاشوں پر سرجری کے طریقے سکھائے جاتے ہیں ایسی چیز میں شرکت کرنا کیسا؟

میں ایک ڈاکٹر ہوں اور ہماری کچھ ورکشاپ ہوتی ہیں جس میں انسانی لاشوں پر سرجری کے طریقے سکھائے جاتے ہیں ایسی چیز میں شرکت کرنا کیسا؟

انسانی لاش کو تجربات کے لئے استعمال کرنا کئی شرعی خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ایک تو اس میں میت کو اذیت دینا ہے جو کہ جائز نہیں کہ زندہ انسان کو جس چیز سے تکلیف ہوتی ہے میت کو بھی ہوتی ہے۔دوسرا یہ کہ اس میت میں سرجری کرکے ورکشاپ کروانا انسانی تکریم کےخلاف ہے۔تیسرا یہ کہ دفن میں بلا عذر تاخیر ممنوع ہے اور یہاں دفن میں بلا وجہ تاخیر کرنا پایا جارہا ہے۔اسی طرح اس میں میت کی بے پردگی بھی ہورہی ہوتی ہے حالانکہ غسل میت کے دوران بھی بےپردگی کی اجازت نہیں تو یہاں بدرجہ اولی ممانعت ہوگی۔اب چونکہ اس کام میں گناہ کی صورت بھی ہے لہذا اس میں شامل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔شامی میں ہے:”لان المیت یتاذی مما یتاذی بہ الحی والظاہر انھا تحریمیۃ“یعنی:اس لئے کہ میت کو ان چیزوں سے اذیت ہوتی ہے جس سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے۔

(شامی،جلد1،صفحہ612)

حدیث پاک میں ہے:”اسرعوا بالجنازۃ“ترجمہ:جنازہ کو دفن کرنے میں جلدی کرو۔

(مسلم،حدیث944)

اپنا تبصرہ بھیجیں