جمعہ کے دن دو خطبوں کے درمیان امام کا ااردو میں اعلان کرنا یا ترغیب دلانا کیسا؟

جمعہ کے دن دو خطبوں کے درمیان امام کا ااردو میں اعلان کرنا یا ترغیب دلانا کیسا؟

خطبہ کے دوران اردو میں اعلان کرنایا ترغیب دینامکروہ ہے کیونکہ خطبے کے وقت میں پورا خطبہ عربی زبان میں ہونا سنت متوارثہ ہے اور اس کا خلاف کرنا مکروہ ہے،البتہ دوران خطبہ خطیب کوئی برائی ہوتی دیکھے اور سامنے والا عربی نہیں سمجھتا تو جو زبان سمجھتا ہے اس میں برائی سے روک سکتا ہے۔امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”اور شک نہیں کہ خطبہ خواندہ کا ترجمہ یا اور مواعظ و نصائح جو اس وقت میں واقع ہوں گے انہیں مقاصد و مظامین خطبہ پر مشتمل ہوں گے تو وقت خطبہ میں ایقاع تذکیر بہ نیت تذکیر قطعا اسے داخل خطبہ کرے گا اور نیت قطع بے معنی رہے گی کہ عمل و واقع صراحۃ اس کا مکذب ہوگا۔۔۔ کچھ عربی کچھ اردو اس کا حال بھی بیان سابق سے واضح ہوچکا مگر جب امام بحالتِ خطبہ کوئی امر منکر دیکھے تو اُس سے نہی کیا ہی چاہئے اور جب وہ عربی سمجھتا یا امام خود عربی میں کلام کرنا نہیں جانتا تو ناچار زبان مقدور و مفہوم کی طرف رجوع ہوگی یہ کلام جو خطبہ میں ہوگا خطبہ ہی ہوگا کہ امر بالمعروف بھی اُس کے مقاصد حسنہ سے ہے۔“ (فتاوی رضویہ،جلد8،صفحہ324)

اپنا تبصرہ بھیجیں